Updated: January 20, 2026, 9:07 PM IST
| Mumbai
اداکارہ سے سیاست دان بننے والی کنگنا رناوت نے حال ہی میں ایک ذاتی واقعہ شیئر کیا جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس نے انہیں ’’ذلیل ‘‘اور جذباتی طور پر مضطرب کر دیا۔ ۲۰۱۶ء کے تھرو بیک رجحان میں شامل ہوتے ہوئے، ایم پی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے فیشن ڈیزائنر مسابا گپتا کے ساتھ اپنی پرانی تکرار کو دوبارہ بیان کیا۔
مسابا اور کنگنا رناوت۔ تصویر:آئی این این
اداکارہ سے سیاست دان بننے والی کنگنا رناوت نے حال ہی میں ایک ذاتی واقعہ شیئر کیا جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس نے انہیں ’’ذلیل ‘‘اور جذباتی طور پر مضطرب کر دیا۔ ۲۰۱۶ء کے تھرو بیک رجحان میں شامل ہوتے ہوئے، ایم پی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے فیشن ڈیزائنر مسابا گپتا کے ساتھ اپنی پرانی تکرار کو دوبارہ بیان کیا۔ رناوت نے الزام لگایا کہ ایودھیا میں رام جنم بھومی کے دورے کے دوران انہیں خاص طور پر کہا گیا کہ وہ اس برانڈ کا لباس نہ پہنیں۔
اداکارہ نے پہلے انسٹاگرام پر اس واقعہ کا اشارہ دیا، پھر ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک تفصیلی پوسٹ میں پوری کہانی سنائی۔ کنگنا نے کہا کہ یہ یاد آج بھی انہیں ’’پیٹ میں مروڑ‘‘ جیسا احساس دلاتی ہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ فیصلہ پیشہ ورانہ وجوہات کے بجائے تعصب پر مبنی تھا۔ایم پی کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب ان کی فلم تیجس کی ریلیز قریب تھی۔ پروموشنل سرگرمیوں کے دوران، انہوں نے اپنی ایودھیا یاترا کے لیے بھی اسی ٹیم سے ملبوسات کا انتظام کرنے کو کہا۔ بتایا جاتا ہے کہ مسابا پہلے ہی ان کی تشہیری تقاریب کے لیے لباس بھیج چکی تھیں۔ کنگنا نے مزید وضاحت کی کہ ’’مسابا نے پروموشنز کے لیے کپڑے اسٹائلسٹ کو بھیج دیئے تھے، لیکن جب انہیں بتایا گیا کہ یہ رام جنم بھومی کے لیے ہیں تو انہوں نے اسٹائلسٹ سے کہا کہ ان کے کپڑے استعمال نہ کیے جائیں۔‘‘ سیاست دان نے یہ بھی شیئر کیا کہ فیشن ڈیزائنر نے واضح طور پر ان کی ٹیم سے کہا کہ تصاویر میں مسابا یا برانڈ کو ٹیگ نہ کیا جائے۔ مبینہ طور پر کنگنا کی ٹیم کو یہ بھی کہا گیا کہ’’ انہوں نے ساڑی اپنی جیب سے خریدی ہے، اس لیے برا محسوس نہ کریں۔‘‘ یہ واقعہ اس کے بعد سامنے آیا جب کنگنا نے۲۰۱۵ء میں مدھو منتینا کے ساتھ مسابا گپتا کی شادی میں مبینہ طور پر ایک عوامی پرفارمنس دی تھی اور عوامی تقریبات کی بنیاد پر دونوں قریبی ساتھی دکھائی دیتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:یہ تخلیقی دیوالیہ پن ہے: جاوید اختر نے فلم ’’بارڈر ۲‘‘ کے گانے دوبارہ کیوں نہیں لکھے
کنگنا نے مزید لکھا کہ انہیں یہ بات بھی عجیب لگی کہ ان کے برانڈ کی ڈیزائنر نے ان تصاویر کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی شیئر کیا۔ جب مشہور شخصیات ان کے کپڑے پہنتی ہیں تو ڈیزائنرز عام طور پر فوراً خوشی سے شیئر کرتے ہیں ۔’’انہوں نے کہا کہ یہ خاموشی جان بوجھ کر تھی۔کنگنا نے بتایا کہ اعتراض کے بارے میں انہیں اس وقت معلوم ہوا جب وہ لکھنؤ سے ایودھیا کے لیے روانہ ہو چکی تھیں اور کپڑے بدلنے کا کوئی موقع نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے:ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ: ہندوستان نہ جانے کے فیصلے پر بنگلہ دیش قائم
کنگنانے کہاکہ میں نے خود کو اتنا ذلیل اور پست محسوس کیا کہ گاڑی میں خاموشی سے رو پڑی۔ انہو ں انہوں نے لکھا کہ بعد میں انہیں ڈیزائنر کا نام نہ لینے کو کہا گیا، جیسا کہ مبینہ طور پر دوسرے ڈیزائنرز کے ساتھ بھی کیا جاتا ہے۔ کنگنا نے فلم اور فیشن انڈسٹریز میں جسے وہ ’’منتخب غصہ‘‘ کہتی ہیں، اس پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے نمائشی ہمدردی پر طنز کیا اور دلیل دی کہ عوامی جذبات کے اظہار کے ساتھ ساتھ اشرافیہ حلقوں میں غیر اعلانیہ تعصبات بھی موجود رہتے ہیں۔