Inquilab Logo Happiest Places to Work

ورلڈکپ :’صفر ڈالر‘ ادا کرنے والے شائقین سے فیفا نے درست ادائیگی کا مطالبہ کیا

Updated: June 05, 2026, 5:03 PM IST | New York

فیفا نے تصدیق کی ہے کہ ویب سائٹ پر چیک آؤٹ کے دوران ایک خرابی کے باعث درجنوں شائقین کو ۲۰۲۶ءورلڈ کپ کے ٹکٹ بغیر کسی ادائیگی کے مل گئے۔

Fifa World Cup.Photo:INN
فیفا ورلڈ کپ ۔تصویر:آئی این این

فیفا نے تصدیق کی ہے کہ ویب سائٹ پر چیک آؤٹ کے دوران ایک خرابی کے باعث درجنوں شائقین کو  ۲۰۲۶ءورلڈ کپ کے ٹکٹ بغیر کسی ادائیگی کے مل گئے۔ عالمی فٹبال تنظیم نے اسکائی نیوز اسپورٹس کو بتایا کہ تقریباً ۶۰؍ شائقین نے ادائیگی کے عمل میں مسئلے کی وجہ سے ’’صفر امریکی ڈالر‘‘ میں ٹکٹ حاصل کر لیے تھے۔
فیفا نے ایک بیان میں کہاکہ ’’فیفا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ تقریباً ۶۰؍ فیفا ورلڈ کپ۲۰۲۶ء کے شائقین کو بدھ،۳؍ جون کو ایک اطلاع موصول ہوئی تھی جس میں ایسے ٹکٹ مختص کیے گئے تھے جن کی قیمت غلطی سے صفر امریکی ڈالر ظاہر ہوئی کیونکہ چیک آؤٹ کے دوران ادائیگی کا مسئلہ پیش آیا تھا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:راج کپور نے اپنی فلموں کے ذریعہ بالی ووڈ پر راج کیا


فیفا نے اب ان شائقین سے ٹکٹوں کی درست قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق’’ان شائقین کے لیے درخواست کردہ ٹکٹ اب بھی محفوظ ہیں  اور متاثرہ افراد کو درست رقم کی ادائیگی مکمل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔‘‘ فیفا نے اس غلطی اور اس سے ہونے والی کسی بھی پریشانی پر افسوس کا اظہار بھی کیا ہے۔ آن لائن شیئر کی گئی ایک ای میل کے مطابق، جسے ٹکٹ ٹاک نیٹ ورک نے شائع کیا، متاثرہ شائقین کو ادائیگی مکمل کرنے کے لیے سات دن کا وقت دیا گیا ہے، بصورت دیگر ان کے ٹکٹ منسوخ ہو سکتے ہیں۔ ٹکٹ ٹاک نیٹ ورک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ متاثرہ ٹکٹ ٹورنٹو میں ہونے والے گروپ مرحلے کے میچوں کے لیے تھے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ۲۰۲۶ء ورلڈ کپ کی ٹکٹنگ پالیسیوں پر تنقید بڑھ رہی ہے۔ یہ ٹورنامنٹ امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہوگا، جس میں ۴۸؍ ٹیمیں اور ۱۰۰؍ سے زائد میچ شامل ہوں گے۔
اس ہفتے کے آغاز میں نیویارک اور نیو جرسی کے حکام، جو ورلڈ کپ کے ۸؍ میچوں بشمول فائنل کی میزبانی کریں گے، نے تحقیقات کا اعلان کیا کہ آیا فیفا کی ٹکٹ فروخت کی پالیسیوں نے صارفین کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھئے:فیفا کا یوٹرن: شائقین پر ’’ری یوز ایبل واٹر بوٹل‘‘ لانے پر پابندی


دونوں ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے ٹکٹ فروخت سے متعلق معلومات طلب کرنے کے لیے سمن جاری کیے ہیں، جن میں متغیر یا ڈائنامک قیمتوں کے نظام پر خدشات بھی شامل ہیں۔ اس نظام پر تنقید اس وقت بڑھی جب کئی میچوں کے ٹکٹوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا اور اسٹیڈیم کی نشستوں کے نقشوں میں تبدیلی کی گئی، جس کے نتیجے میں بعض شائقین نے شکایت کی کہ ان کی نشستیں میدان سے زیادہ دور منتقل کر دی گئی ہیں۔
جمعرات کو فیفا کو ایک اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے آخری وقت میں اسٹیڈیم کے اندر دوبارہ بھرنے کے قابل پلاسٹک بوتلوں پر پابندی عائد کر دی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK