Updated: July 22, 2026, 6:02 PM IST
| New Delhi
دہلی پولیس وسطی دہلی میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کی جانب سے انٹرنیٹ بندش کے باوجود رابطے کیلئے بلوٹوتھ پر مبنی آف لائن میسجنگ ایپس کے ممکنہ استعمال کی تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ ایپس موبائل نیٹ ورک یا وائی فائی کے بغیر بھی قریبی صارفین کے درمیان پیغامات کی ترسیل ممکن بناتا ہے۔
دہلی پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا وسطی دہلی کے علاقوں، جیسے کناٹ پلیس اور جنتر منتر میں احتجاج کرنے والے مظاہرین ایسی آف لائن میسجنگ ایپس استعمال کر رہے ہیں جو انٹرنیٹ یا موبائل نیٹ ورک کے بغیر بھی پیغامات بھیجنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے نام سے احتجاج کرنے والے مظاہرین نے مبینہ طور پر انٹرنیٹ بندش اور موبائل نیٹ ورک کی معطلی کے باوجود آپس میں رابطہ برقرار رکھنےکیلئے ایسی خصوصی ایپس استعمال کیں جو بلوٹوتھ کے ذریعے مقامی (لوکل) نیٹ ورک بناتی ہیں۔ اس نیٹ ورک کی مدد سے۴ ؍ جی، ۵؍ جی یا وائی فائی کی عدم موجودگی میں بھی پیغامات کا تبادلہ ممکن ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سی جےآئی کا طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد کے معاملے پر فوری سماعت سےانکار، کہا ’ہمارا وقت ضائع نہ کریں‘
آف لائن میسجنگ ایپس موبائل سروس کے بغیر کیسے کام کرتی ہیں؟
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، پولیس کو شبہ ہے کہ بعض مظاہرین نے موبائل انٹرنیٹ بند ہونے کے بعد بھی رابطےکیلئے بلوٹوتھ لو انرجی (Bluetooth Low Energy - BLE) پر مبنی ایپس استعمال کیں۔ اگرچہ پولیس نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ واقعی ایسی ایپس استعمال کی گئیں، تاہم اس تحقیقات نے ایک ایسی کم معروف ٹیکنالوجی کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے جو موبائل ڈیٹا، وائی فائی یا سیلولر نیٹ ورک کے بغیر اسمارٹ فونز کے درمیان پیغامات بھیجنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہاٹس ایپ، سگنل اور ٹیلی گرام جیسی ایپس کے برعکس، یہ آف لائن ایپس Bluetooth Low Energy (BLE) ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہیں، جو تقریباً ہر جدید اسمارٹ فون میں موجود ہوتی ہے۔ ایسی متعدد ایپس دستیاب ہیں، جن میں کچھ مقامی جبکہ کچھ عالمی سطح پر استعمال ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ہم جنتر منتر نہیں چھوڑیں گے‘‘، سی جے پی کے احتجاج کا تیسرا دن، بیرون ملک سے بھی حمایت
ان میں سب سے معروف ایپ’’ بٹ چیٹ‘‘( Bitchat )ہے، جسے ایکس کے بانی جیک ڈورسی نے جولائی ۲۰۲۵ءمیں متعارف کرایا تھا۔ گوگل پلے اسٹور پر اس ایپ کو ایک ملین سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔ اس ایپ میں صارفین بغیر کسی اکاؤنٹ، فون نمبر یا مرکزی سرور سے جڑے، صرف بلوٹوتھ کے ذریعے ایک دوسرے کو پیغامات بھیج سکتے ہیں۔ اینڈرائیڈ پر اسی نوعیت کی دیگر ایپس بھی دستیاب ہیں۔ یہ ایپس اسمارٹ فونز، ایئربڈز اور دیگر اسمارٹ ڈیوائسز میں موجود بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہیں۔ جب کوئی صارف پیغام بھیجتا ہے تو وہ موبائل ٹاور، وائی فائی راؤٹر یا کسی مرکزی سرور سے گزرنے کے بجائے قریبی فونز تک بلوٹوتھ کے ذریعے پہنچتا ہے۔ وہ فونز، اگر ان میں بھی یہی ایپ موجود ہو، تو پیغام کو مزید قریبی ڈیوائسز تک منتقل کرتے ہیں، جس سے ’’میش نیٹ ورک (Mesh Network)‘‘ تشکیل پاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: زومیٹو اور سویگی کے ذریعہ ملک بھر سے لوگ جنتر منتر میں کھانا پہنچا رہے ہیں
اس نظام میں ہر اسمارٹ فون ایک ریلے (Relay) کا کردار ادا کرتا ہے اور پیغام ایک فون سے دوسرے فون تک منتقل ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ مطلوبہ صارف تک پہنچ جائے۔ جتنے زیادہ لوگ ایک ہی علاقے میں یہ ایپ استعمال کر رہے ہوں، اتنا ہی نیٹ ورک وسیع اور رابطے کا دائرہ بڑھ جاتا ہے۔ چونکہ پیغامات انٹرنیٹ کے بجائے براہِ راست ڈیوائسز کے درمیان منتقل ہوتے ہیں، اس لئے یہ ایپس انٹرنیٹ بندش یا موبائل نیٹ ورک نہ ہونے کی صورت میں بھی کام کر سکتی ہیں۔ تاہم، ان کی مؤثر کارکردگی مختصر فاصلے اور ایسے علاقوں تک محدود ہوتی ہے جہاں کافی تعداد میں صارفین اسی میش نیٹ ورک سے منسلک ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کا احتجاج، کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی
دہلی پولیس ان ایپس کی تحقیقات کیوں کر رہی ہے؟
رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس تحقیقات کے سلسلے میں ان ایپس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے صارفین سے متعلق معلومات طلب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اگرچہ فی الحال کسی مخصوص ایپ کا نام سامنے نہیں آیا۔
پولیس انٹرنیٹ پروٹوکول ڈیوائس ریکارڈز (IPDRs) کا بھی جائزہ لے رہی ہے، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور چہرہ شناخت (Facial Recognition) ٹیکنالوجی کی مدد سے مظاہرین کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ احتجاجی مظاہروں میں ایسی آف لائن میسجنگ ایپس کے استعمال کا شبہ ظاہر کیا گیا ہو۔ اس سے قبل ہانگ کانگ، یوکرین اور نیپال سمیت مختلف ممالک میں ہونے والے مظاہروں کے دوران بھی مظاہرین رابطے اور ہم آہنگی کیلئے اسی نوعیت کی ایپس استعمال کر چکے ہیں۔ قدرتی آفات، جیسے زلزلے یا سیلاب کے دوران، جب موبائل یا انٹرنیٹ نیٹ ورک متاثر ہو جائیں، ایسی ایپس ہنگامی رابطے کیلئے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔