Updated: January 22, 2026, 2:23 PM IST
|
Agency
| Davos
داؤس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم میں کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کا خطاب ، کہا کہ ضوابط پر مبنی عالمی نظام کمزور پڑ رہا ہے، طاقتور ممالک وہی کرتے ہیں جو وہ کر سکتے ہیں اور کمزوروں کو سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی خطاب کرتےہوئے۔ تصویر: آئی این این
کنیڈاکے وزیر اعظم مارک کارنی نے منگل کو سوئٹزرلینڈ کے شہر داؤس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم میں ’نئے عالمی نظام‘پر خطاب کیا اور اس بات پر زور دیا کہ کنیڈا جیسے درمیانی طاقت والے ممالک باہمی تعاون کے ذریعے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
یہ خطاب ایسے وقت میں کیا گیا جب روس، چین اور امریکہ جیسی عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اتحادی ممالک پر ٹیرف لگانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ امریکہ، نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک سے گرین لینڈ حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
داؤس میں مارک کارنی کا یہ خطاب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ پہلا موقع ہے جب مغرب کے کسی لیڈر نے اتنی کڑوی سچائی کھل کر بیان کی ہے۔
کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہاکہ ہمیں بار بار یہ یاد دلایا جا رہا ہے کہ ہم عظیم طاقتوں کے مقابلے کے دور میں جی رہے ہیں۔ ضوابط پر مبنی عالمی نظام کمزور پڑ رہا ہے۔ طاقتور ممالک وہی کرتے ہیں جو وہ کر سکتے ہیں اور کمزوروں کو سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ۱۹۷۸ءمیں چیک جمہوریہ (اس وقت چیکوسلواکیہ) کے باغی لیڈر واکلاف ہیول جو بعد میں صدر بنے، نے ‘دی پاور آف دی پاورلیس’ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا۔ اس میں انہوں نے ایک سادہ سوال اٹھایا: کمیونسٹ نظام خود کو کیسے قائم رکھتا تھا؟اور ان کا جواب ایک سبزی فروش سے شروع ہوتا ہے۔ہر صبح، دکاندار اپنی دکان کی کھڑکی میں ایک تختی لگاتا ہے:’’دنیا کے مزدورو! ایک ہو جاؤ۔‘‘وہ اس پر یقین نہیں رکھتا، کوئی بھی نہیں رکھتا۔ لیکن وہ پھر بھی یہ تختی لگاتا ہے ۔مصیبت سے بچنے کے لئے، وفاداری کا ثبوت دینے کے لئے اور تال میل کے لئے۔
ہر گلی میں، ہر دکاندار یہی کرتا ہے۔ نظام قائم رہتا ہے، صرف تشدد کی وجہ سے نہیں بلکہ عام لوگوں کی اس شمولیت کی وجہ سے بھی جو ایسے رسومات ادا کرتے رہتے ہیں جنہیں وہ نجی طور پر جھوٹ سمجھتے ہیں۔
ہیول نے اسے جھوٹ کے اندر جینا کہا تھا۔ نظام کی طاقت اس کی سچائی میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ ہر شخص ایسا برتاؤ کرتا ہے جیسے وہ سچ ہو۔ اس کی کمزوری بھی اسی میں چھپی ہوتی ہے۔جب ایک بھی فرد یہ ڈراما کرنا چھوڑ دیتا ہے، جب دکاندار اپنی تختی ہٹا دیتا ہے تو اس فریب میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔دوستو! اب وقت آ گیا ہے کہ یہ تختیاں اتار دی جائیں۔
کنیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ پر ممکنہ ٹیرف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے واضح کیاکہ کنیڈا سلامتی اور خوشحالی کیلئے بامقصد مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور گرین لینڈ و ڈنمارک کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھے گا۔
مارک کارنی نے عالمی نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ دنیا اب طاقتور ممالک کے درمیان مقابلے کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے اور پرانا عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
انہوں نے خبردار کیاکہ معاشی انضمام کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور اگر درمیانی طاقتیں مذاکرات کی میز پرنہ آئیںتو فیصلوں کی زد میں آ جائیں گی۔