اسپین کے ہیڈ کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے نے بلجیم کے خلاف جمعہ کو ہونے والے ورلڈ کپ کوارٹر فائنل سے قبل خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الامین جمال کی بہترین کارکردگی ابھی سامنے آنا باقی ہے۔
EPAPER
Updated: July 10, 2026, 7:07 PM IST | New York
اسپین کے ہیڈ کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے نے بلجیم کے خلاف جمعہ کو ہونے والے ورلڈ کپ کوارٹر فائنل سے قبل خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الامین جمال کی بہترین کارکردگی ابھی سامنے آنا باقی ہے۔
اسپین کے ہیڈ کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے نے بلجیم کے خلاف جمعہ کو ہونے والے ورلڈ کپ کوارٹر فائنل سے قبل خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الامین جمال کی بہترین کارکردگی ابھی سامنے آنا باقی ہے۔ نوعمر سپر اسٹار جمال نے دو سال قبل یورپی چیمپئن شپ میں اسپین کو تاریخی کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اس ورلڈ کپ میں وہ ابھی تک اپنی مکمل صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ دوسری جانب لیونل میسی، کیلین ایمباپے اورارلنگ ہالینڈ جیسے بڑے ستارے مسلسل گول اسکور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:محمود عباس نے۲۰؍ سال بعد پہلے فلسطینی قانون ساز انتخابات کی تاریخ مقرر کی
ڈی لا فوئنٹے نے کہا’’ہم جانتے ہیں کہ لامین یامال کی بہترین اور جارحانہ کارکردگی ابھی اس ورلڈ کپ میں مکمل طور پر سامنے نہیں آئی۔ کم از کم اس معیار پر نہیں، جس کی ہمیں ان سے عادت ہے۔ اب تک اس غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل نوجوان کھلاڑی نے ٹورنامنٹ میں صرف ایک گول کیا ہے اور کوئی اسسٹ بھی فراہم نہیں کی۔ وہ امریکہ پہنچنے سے پہلے سیزن کے اختتام پر لگنے والی انجری سے صحت یاب ہو رہے تھے۔ اس کے باوجودجمال اسپین کے دائیں ونگ سے مسلسل حملے کرتے ہوئے مخالف ٹیموں کے دفاع کے لیے خطرہ ہیں۔
پرتگال کے خلاف گزشتہ مرحلے میں اسپین کی ۰۔۱؍گول کی فتح کے بعد ڈی لا فوئنٹے نے جمال کی کارکردگی کو ان کے بہترین میچوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کی ترقی کے لیے ایک نہایت اہم دن تھا۔ جمعرات کی پریس کانفرنس میں جب ان سے اس بیان کی وضاحت طلب کی گئی تو کوچ نے کہا کہ جمال اور پرتگال کے فل بیک نونو مینڈیز کے درمیان سخت مقابلے نے حریف کھلاڑی کو اتنا تھکا دیا کہ وہ ۵۵؍ویں منٹ میں انجری کے باعث میدان چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
ڈی لا فوئنٹے نے کہا کہ ’’ہم ایک انتہائی مضبوط حریف کے خلاف کھیل رہے تھے، اور جو دفاعی کھلاڑی یامال کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا، اسے اتنی محنت کرنا پڑی کہ آخرکار وہ زخمی ہو گیا۔صرف ۱۸؍ سال کی عمر میں جمال نے اس ورلڈ کپ کے دوران درپیش مشکلات سے پختگی کا اہم سبق سیکھا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آرین خان: شاہ رخ خان کے بیٹے کو مداحوں کے ہجوم نے گھیر لیا
کوچ نے مزید کہاکہ ’’انہیں اضافی حوصلہ افزائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات تو ہمیں اس کے جوش کو کم کرنا پڑتا ہے۔ وہ بے حد پرجوش ہے اور ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔اسپین نے اب تک اس ورلڈ کپ میں ایک بھی گول نہیں کھایا، تاہم کوارٹر فائنل میں اس کا سامنا ایسی بیلجیئم ٹیم سے ہوگا جس نے پیر کے روز امریکہ کے خلاف چار گول داغے تھے۔ کیا جمعہ کا کوارٹر فائنل وہ موقع ہوگا جب جمال دوبارہ گول اسکور کریں گے؟اس سوال کے جواب میں ڈی لا فوئنٹے نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’وہ یقینی طور پر حملے میں اپنا اثر دکھائیں گے، اس میں کوئی شک نہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا’’ان کے اندر بے پناہ صلاحیت موجود ہے، اور یقیناً بعض پہلوؤں میں ان کی بہترین کارکردگی ابھی آنا باقی ہے۔‘‘