Updated: April 22, 2026, 10:54 AM IST
|
Mohammed Habeeb
| Mumbai
یہ سیڑھی دارچاول کی فصلوں، دیودار کے جنگلات، ندی نالوں اور منفرد ثقافت کی وجہ سے یونیسکو کی عارضی عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے۔
زیرو ویلی کا دلکش نظارہ- تصویر:آئی این این
زیرو ویلی اروناچل پردیش کا ایک دلکش ہِل اسٹیشن ہے جو سطح سمندرسےتقریباً ۱۵۰۰؍میٹربلندی پر واقع ہے۔ یہ اپاتانی قبیلے کا گھرہے اور اپنی سیڑھی دارچاول کی فصلوں، دیودار کے جنگلات، ندی نالوں اور منفرد ثقافت کی وجہ سے یونیسکو کی عارضی عالمی ورثہ فہرست میں شامل ہے۔ یہاں کا موسم سال بھر خوشگوار رہتا ہے، اس لیے یہ۴؍ موسموں کی سیاحتی جگہ کہلاتی ہے۔
ٹارِن فش فارم
بلّا گاؤں میں واقع یہ فارم اپاتانی قبیلے کی منفرد زراعت کی مثال ہے۔ یہاں اونچائی پر مچھلیوں کی افزائش کے ساتھ ساتھ چاول کی دو اقسام ’ایموہ‘ اور’مِپیا‘بھی اگائی جاتی ہیں۔ اسے ’دھان - کم - ماہی پروری‘ کا بہترین نمونہ کہا جاتا ہے۔۷ء۴؍ ہیکٹر پر پھیلا یہ فارم ۸۶-۱۹۸۵ءمیں قائم کیا گیا تھا۔دیودار اور بانس کے درختوں کے بیچ واقع یہ جگہ تصویروں اور فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے خاص ہے۔
ٹیلی ویلی وائلڈ لائف سینکچری
۳۳۷؍ مربع کلومیٹر پر پھیلی یہ سینکچری ۱۹۹۵ءمیں قائم کی گئی تھی اور حیاتیاتی تنوع کامرکز ہے۔ یہاں آرکڈز، فرن، سلور فر اور بانس کےجنگلات ہیں۔جانوروں میں انڈین منٹجیک، ایشین پام سیوٹ، مالایان جائنٹ اسکوائرل اور نایاب کلاؤڈڈ لیپرڈ دیکھے جا سکتےہیں۔ ٹریکنگ اور برڈ واچنگ کے لیے یہاں ہمالیائی مونال اور اسپاٹڈ رین-بیبلر جیسے پرندے ملتے ہیں۔
کِلے پکھو
زیرو سےصرف۷؍کلومیٹر دور یہ ایک خوبصورت پہاڑی چوٹی ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ ایک طرف زیرو کا سرسبز سطح مرتفع نظر آتا ہے اور دوسری طرف برف پوش ہمالیہ کی چوٹیاں۔ چھوٹی سی ٹریک کے بعد یہاں سے ۳۶۰؍ڈگری کا نظارہ ملتا ہے۔ بہار یعنی فروری سے اپریل میں یہاں کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔
پائن گروو / میولیانگ
اولڈ زیرو سے۳؍کلومیٹر دور یہ دیودار کے درختوں سے گھرا پرسکون مقام ہے۔ مقامی زبان میں اسے’میولیانگ‘کہتے ہیں۔ پکنک فوٹوگرافی اور فطرت سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہ بہترین جگہ ہے۔ یہاں پیدل یا ٹیکسی سے پہنچا جا سکتا ہے۔
ڈولو منڈو
زیرو کے مغربی حصے میں ڈاپوریجو روڈ پر واقع یہ پہاڑی صرف ٹریکنگ سے قابلِ رسائی ہے۔ چوٹی سے ہاپولی ٹاؤن اور اولڈ زیرو کا شاندار نظارہ ملتا ہے۔ شہر کی بھیڑ سے دور سکون چاہنے والوں کے لیے بہترین ہے۔
مِڈے
یہ جگہ اپنے بلند و بالا نیلے دیودار اور گھنےبانس کے جنگلات کے لیےمشہورہے۔یہاں اپاتانی وادی کا سب سے بڑا درخت موجود ہے جس کا گھیر تقریباً۷؍میٹر ہے۔ یہاں بھی صرف پیدل پہنچا جا سکتا ہے اور ایڈونچر پسندوں کے لیے جنت ہے۔
سیکھے جھیل
ہاپولی ٹاؤن سےتقریباً ۲ء۵؍کلومیٹر دور یہ اروناچل کی پہلی اور سب سےبڑی مصنوعی جھیل ہے۔ حکومت اور اپاتانی کمیونٹی کے تعاون سے پانی کے تحفظ کے لیے بنائی گئی یہ جھیل اب پکنک اور بوٹنگ کے لیے مقبول ہے۔
اپاتانی گاؤں
ہانگ اور ہری جیسے گاؤں میں اپاتانی ثقافت کو قریب سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں بانس کے روایتی گھر، ہینڈلوم اور خواتین کے مخصوص نقش و نگار والی ثقافت ملتی ہے۔
زیرو میوزک فیسٹیول
ہر سال ستمبر میں ہونے والا یہ آؤٹ ڈور میوزک فیسٹیول ہندوستان کے آزاد موسیقاروں کو ایک پلیٹ فارم دیتا ہے۔۲۰۲۵ء میں یہ ۲۵؍سے ۲۸؍ستمبر تک منعقد کیا گیا تھا۔اپاتانی قبیلے کی میزبانی میں یہ موسیقی، آرٹ اور ثقافت کا سنگم ہے۔
میگھنا کیو ٹیمپل
یہاں ۵۰۰۰؍سال پرانا ایک غار بھی موجود ہے جس میں مندر موجود ہے۔یہ غار ۱۹۶۲ء میں دریافت کئے گئے تھے۔یہ غار ۳۰۰؍ فٹ بلندی پر واقع ہے۔یہاں سنسکرت میں کی گئی نقاشی اور شاندار فن تعمیر دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں سے پہاڑوں، جنگلات اور دریاؤں کا نظارہ کیاجاسکتاہے۔
یہاں کی خصوصیت
زیرو ویلی میں اپاتانی ثقافت، سیڑھی دار کھیت اور پائیدار زراعت یہاں کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں۔یہاں کے لوگ ہندی اور انگریزی بول لیتے ہیں۔