عامر اور بادام کا پیڑ

Updated: June 25, 2022, 11:16 AM IST | Saleem Khan | Faizpur

عامر اپنا ہوم ورک کرتا رہتا ہے تبھی اچانک بجلی چلی جاتی ہے۔ اس کی امّی اُسے آنگن میں بادام کے پیڑ کے نیچے چارپائی بچھا کر دیتی ہیں تاکہ وہ سکون سے پڑھائی کر سکے۔ ہوم ورک کرتے وقت عامر کے اوپر پتّے گرنے لگتے ہیں، وہ ناراض ہو کر پیڑ سے کہتا ہے کہ شرارت نہ کرے، اسی وقت....

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

دوپہر کا وقت تھا۔ امّی باورچی خانے میں برتن صاف کر رہی تھیں۔ نازیہ باجی واشنگ مشین میں کپڑے ڈال رہی تھیںاور ۱۰؍ سالہ عامربڑی لگن سے اپنا ہوم ورک کر رہا تھا۔ ایسے میں اچانک بجلی چلی گئی۔ بلب، فریج، پنکھے اور واٹر فلٹر سب بے ہوش ہوگئے اور گھر میں سناٹا چھا گیا۔ نازیہ باجی واشنگ مشین کا منہ دیکھتی رہ گئیں۔ عا مر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیااور امی باورچی خانے سے بڑبڑاتی ہوئی نکلیں، ’’لو ابھی گرمی کا موسم آیا نہیں کہ لوڈ شیڈنگ کا تماشا شروع ہوگیا۔ اب تمہارے ابّو سے کہہ کراِنورٹر کا انتظام کرنا ہی پڑے گا۔‘‘ ’’امی میرا امتحان قریب ہے۔ مجھے ہوم ورک بھی کرناہے۔ اب میں کیا کروں؟‘‘ عامر نے ٹھنک کر کہا۔ ’’تم اس بجلی کے بھروسے مت رہو عامر۔ یہ تو آتی جاتی رہے گی۔ آؤ، ادھر میرے ساتھ آؤ....‘‘ امی عامر کو باہر آنگن میں لے گئیں اور بادام کے چھتنار پیڑ تلے چار پائی بچھا کر کہا، ’’تم یہاں بیٹھ کے اطمینان سے پڑھائی کرو۔‘‘ ٹھنڈی گھنی چھاؤں، ہلکی ہلکی ہوا کے جھونکے اور کھلی فضا۔ عامر کو امی کی تجویز بہت پسند آئی اوراس نے فوراً بستہ کھول کر اپنا کام شروع کردیا۔ تھوڑی دیر بعد بادام کے پیڑ کا ایک پتہ ٹھیک عامر کے سر پہ آگرا۔ وہ چونک گیا مگر جب پتہ اس کے سر سے پھسل کر سامنے آگیاتواس نے ایک لمبی سانس لی اورپتّے کو غور سے دیکھا، زرد سوکھاپتہ پاپڑ کی طرح سکڑا ہوا تھا۔ اس نے پتّے کو احتیاط سے اٹھاکر ایک طرف رکھ دیا اور پھر اپنے کام میں جٹ گیا مگر دوسرے ہی پل ایک اور پتہ اس کے نوٹ بک پر گرا۔ عامر نے ناگواری سے اوپر دیکھتے ہوئے پیڑ سے کہا ’’کیوں پریشان کررہے ہوبھائی، مجھے سکون سے اپنا کام کرنے دو۔‘‘ ’’ہاں ہاں، تم اپنا کام کرو.... میں اپنا کام کررہا ہوں۔‘‘ پیڑ نے شاہانہ انداز میں جواب دیا۔ ’’تم کیا کام کررہے ہو، تم تو شرارت کررہے ہو۔‘‘ ’’نہیں نہیں میاں، تم غلط سمجھ رہے ہو۔ میں تمہارے لئے ہوا کر رہا ہوںاور اسی وجہ سے میرے سوکھے پتّے جھڑ رہے ہیں۔ ناراض ہونے کے بجائے تمہیں میرا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔‘‘ ’’شکریہ کیوں؟‘‘ ’’کیونکہ میں دھوپ جھیل کر تمہارے لئے سایہ کر رہا ہوں۔ ہم پیڑ انسان کی تن من سے خدمت کرتے ہیں لیکن انسان نہ ہماری اہمیت جانتا ہے نہ قدر کرتا ہے۔ یہ تو ہماری اعلیٰ ظرفی ہے کہ ہم برابر اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔‘‘ ’’اچھا ذرا بتاؤ، تم انسان کے اور کیا کام آتے ہو؟‘‘ عامر نے تیوریاں چڑھاکر پوچھا۔ ’’ویسے اپنے منہ میاں مٹھو بننا تو ٹھیک بات نہیں ہے لیکن تم نے پوچھا ہے تو اب بتانا بھی ضروری ہے۔ اوریہ باتیںآگے تمہارے کام بھی آئیں گی۔‘‘ ’’ اب زیادہ شیخی مت بگھارو، کام کی بات کرو مسٹر۔ مجھے ’’پھلوں سے بھری ٹوکری‘‘ کی تصویربنانی ہے۔‘‘
 ’’عامر میاں، پیڑ تو سر تا پا انسان کے کام آتا ہے۔ جڑیں اور پتے دوا سازی کے کام آتے ہیں۔ تنے سے گوند اور لاکھ حاصل ہوتی ہیں۔ نیم اور پیلو وغیرہ درختوںکی نرم ٹہنیاں مسواک کے کام آتی ہیں۔ کچھ درختوں کے گودوں سے ربر اور ساگودانہ جیسی چیزیں بنتی ہیں۔ شہد کی مکھیاں ہماری ڈالیوں پر چھتا بناکر شہد جمع کرتی ہیں۔ اور دیکھو میاں یہ جو تمہاری کتاب میں مختلف پھلوںکی تصویریں دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ سارے پھل پیڑوں سے دستیاب ہوتے ہیں۔ کاجو، اخروٹ، پستہ، انجیر تمام قسم کے میوے بھی پیڑوں پرہی لگتے ہیں اور میں تم کو بادام کھلاتا ہوں یہ تو معلوم ہے نہ، یا یہ بھی بتانا پڑے گا۔ سائنس میں تم نے پڑھاہوگا کہ، ہم نباتات کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس جذب کرکے فضا کی آلودگی دور کرتے ہیں اور ہماری خارج کی ہوئی آکسیجن گیس انسان اور دوسرے تمام جاندارلیتے ہیں۔ ’’کسی شاعر نے ہمارے متعلق کیا خوب کہاہے؎
ہم سایہ دار پیڑ زمانے کے کام آئے
جب سوکھنے لگے تو جلانے کے کام آئے
 دیکھا تم نے ہم پیڑ انسان کے کتنے کام آتے ہیں مگر انسان ہمارے کوئی کام نہیں آتا، ہمارے کیا انسان تو کسی کے کام نہیں آتا، اسے تو بس اپنے آپ کی فکر لگی رہتی ہے۔‘‘ پیڑ کی باتیں سن کر عامرسوچ میں پڑ گیا تھا، کہ وہ پیڑ کو اب کیا جواب دے مگر اتفاق سے اسی وقت وہاں نازیہ باجی آگئیں ’’کون تھا عامر، مجھے کسی کی آوازسنائی دے رہی تھی۔‘‘ ’’اچھا ہوا باجی آپ آگئیں۔ اپنا یہ بادام کا پیڑمجھ سے کہہ رہا تھا، انسان کسی کے کام نہیں آتااورہم پیڑ....‘‘ عامر نے نازیہ کو ساراماجراکہہ سنایا۔ نازیہ باجی دسویں جماعت میں تھیں، درسی کتابوںکے ساتھ ساتھ انہیں دینی کتابوں کے مطالعے کابھی شوق تھا۔ اسلامی کوئزاور تقریری مقابلوں میں وہ کئی انعام حاصل کر چکی تھیں۔ انہوں نے سراٹھاکرپیڑ کومعنی خیزنظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا ’’تم یہ کس بنا پر کہہ رہے ہو کہ انسان کسی کے کام نہیں آتا؟‘‘ ’’میں نے کبھی دیکھا ہی نہیں کہ انسان کسی کے کام آیا ہے، اور یہی سچائی ہے۔‘‘ ’’اچھا!یہی سچائی ہے! میاں سچائی سن کر تمہاری جڑوں تلے سے زمین نکل جائے گی۔‘‘ ’’اچھا، بتائیے بتائیے باجی، مَیں بھی تو سنوں انسان کی اعلیٰ کارکردگی۔‘‘ پیڑ نے اکڑ کر پوچھا۔  ’’تو یاد کرو اپنے بچپن کے دن۔ تمہارے پودے کو یہاں ہمارے ابّو نے لگایا تھا اور ایک عرصے تک ہم سب نے تمہیں وقت پر کھاد اور پانی دیا تھا۔ تمہاری حفاظت کیلئے پنجرا لگایا تھا جو آج بھی تمہارے تنے کے گرد موجود ہے۔ اور سنو، شجر کاری مہم کے تحت انسان ہر سال ہزاروں پودے لگاتا ہے، اور ان کی نشوو نما کرتا ہے۔ حکومت نے نباتات و حیوانات کی حفاظت کیلئے قانون بنائے ہیں۔ اوراب ذرا نظامِ قدرت بھی سمجھ لو۔ یہ زمین و آسمان چاند سورج اور ستارے۔ تم جیسے پیڑ پودے اور تمام جاندار آپسی تال میل پر منحصر ہیں، ان میں انسان سب سے افضل و اعلیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات اسی کیلئے بنائی ہے۔ اس کی ہر شئے انسان کے کام آتی ہے۔ انسان اپنے خالق و مالک کی اس نوازش پر اس کی شکر گزاری اور بندگی کرتا ہے۔ رہا سوال کسی کے کام آنے کا، توکسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے؎
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں، انساں کے انساں
 انسان کا پہلا فرض ہے انسان کے کام آنا، اور بے شک انسان دکھ، درد اور مصیبت میں، تن من دھن سے ایک دوسرے کی مددکرتاہے۔ کسی کی جان پر بن جائے تو اپنا خو ن بھی دیتا ہے اور ملک اور قوم کی خاطر اپنی جان تک نثار کر دیتا ہے۔ مگرتم، تم انسان کی عظمت کیا جانو کہ جو اپنی تعریف آپ کرتے ہیں وہ عقل کے اندھے ہوتے ہیں۔ انہیں دوسروں کی خوبیاں دکھائی نہیں دیتیں!‘‘
 نازیہ باجی کی عالمانہ باتیں سن کربادام کے پیڑ کی سٹی گُم ہوگئی اور اس کی ڈالیاں شرم سے جھک گئیں۔ اس نے افسردہ لہجے میں کہا ’’مجھے معاف کر دیجئے باجی، واقعی انسان اشرف المخلوقات ہے اور ہم سب اس کے خدمت گار ہیں۔‘‘ ’’معافی مجھ سے نہیں عامر سے مانگو۔ تم نے اسے بہت پریشان کیا ہے۔‘‘ ’’ہاں ہاں عامربھائی، میںاپنی نادانی پرشرمندہ ہوں۔ مجھے معاف کردیجئے۔‘‘ اورعامر کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ اسی اثنا میں امی کی آواز آئی ’’عامر بیٹے اندر آجاؤ، بجلی آگئی ہے۔‘‘ عامر نے اپنی کتابیں بیاضیں سمیٹیں اور دونوں بھائی بہن دوڑتے ہوئے گھر میں داخل ہو گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK