EPAPER
Updated: August 03, 2026, 6:02 PM IST | New Delhi
آر ٹی آئی کارکن امیت تیواری کی جانب سے اس بات کی تحقیقات کے مطالبے کے بعد دیپکے کا یہ بیان سامنے آیا کہ دیپکے کے والد، جو ایم آئی ڈی سی کے ایک ریٹائرڈ جونیئر انجینئر ہیں، نے اپنے بیٹے کی بیرونِ ملک تعلیم کیلئے فنڈز کا بندوبست کیسے کیا۔ ایکس پر ایک ویڈیو کے ذریعے جواب دیتے ہوئے دیپکے نے لکھا: ”میں اپنا اسکالرشپ لیٹر اور ایجوکیشن لون لیٹر ظاہر کرنے کیلئے تیار ہوں۔ کیا شہنشاہ اپنی ڈگری دکھائیں گے؟“
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے پیر کے روز اپنے اسکالرشپ اور ایجوکیشن لون (تعلیمی قرض) کے دستاویزات عام کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اپنی تعلیمی ڈگری دکھانے کا چیلنج دیا ہے۔ سورت سے تعلق رکھنے والے آر ٹی آئی کارکن امیت تیواری کی جانب سے اس بات کی تحقیقات کے مطالبے کے بعد دیپکے کا یہ بیان سامنے آیا کہ دیپکے کے والد، جو ایم آئی ڈی سی کے ایک ریٹائرڈ جونیئر انجینئر ہیں، نے اپنے بیٹے کی بیرونِ ملک تعلیم کیلئے فنڈز کا بندوبست کیسے کیا۔ ایکس پر ایک ویڈیو کے ذریعے جواب دیتے ہوئے دیپکے نے لکھا: ”میں اپنا اسکالرشپ لیٹر اور ایجوکیشن لون لیٹر ظاہر کرنے کیلئے تیار ہوں۔ کیا شہنشاہ اپنی ڈگری دکھائیں گے؟“
I am ready to reveal my scholarship letter & education loan letter.
— Abhijeet Dipke (@abhijeet_dipke) August 3, 2026
Will the emperor show his degree? pic.twitter.com/cVUqbz3O9n
شیئر کردہ ویڈیو میں دیپکے نے کہا کہ بی جے پی کے ایک کارکن نے آر ٹی آئی دائر کرکے یہ سوال اٹھایا ہے کہ انہوں نے اپنی تعلیم کیسے مکمل کی۔ دیپکے نے جواباً پوچھا کہ کیا ”آپ کے لیڈر“ اپنی اصلی ڈگری دکھائیں گے؟ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا اسکالرشپ لیٹر اور ایجوکیشن لون لیٹر پیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بوسٹن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے ”عام لڑکے“ کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی نے طلبہ کی حمایت میں انسٹا پر بھی وزیراعظم مودی کو گھیرنا شروع کردیا
پی ٹی آئی کے ساتھ ایک الگ انٹرویو میں، دیپکے نے کہا کہ بنگلہ دیش اور نیپال میں ہونے والے مظاہروں کو ”ہمیں بدنام کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔“ اور اس بات پر زور دیا کہ سی جے پی کی تحریک مختلف تھی۔ جلاوطن بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے اس سے قبل سی جے پی مظاہروں کا موازنہ اس بدامنی سے کیا تھا جو طلبہ کی بغاوت کے بعد ان کے اپنے ملک میں پھیلنے والے افراتفری سے پہلے ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ تیواری نے یکم اگست کو مہاراشٹر حکومت سمیت متعدد حکام کے پاس اپنی شکایت درج کرائی تھی اور سوال اٹھایا تھا کہ ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم اپنے بیٹے کی بیرونِ ملک تعلیم کے اخراجات کیسے برداشت کرسکتا ہے۔ انہوں نے نیٹ پیپر لیک کے مظاہروں سے جڑے معاملات کا سامنا کرنے والے سی جے پی حامیوں کیلئے راجیہ سبھا کے ایم پی کپل سبل کی جانب سے اعلان کردہ لیگل ڈیفنس فنڈ پر الیکشن کمیشن آف انڈیا اور سینٹرل جی ایس ٹی حکام سے بھی رجوع کیا ہے اور سینٹرل بورڈ آف ایکسائز اینڈ کسٹمز کو خط لکھ کر جائزہ لینے کی مانگ کی ہے کہ آیا سبل کی جانب سے قانونی امداد کیلئے دیئے گئے ایک کروڑ روپے پر جی ایس ٹی کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جین زی کے بعد ریزرویشن مخالف تحریک نے ملک گیر شکل اختیار کرلی، سوشل میڈیا پر بحث
دیپکے کے اس چیلنج نے وزیرِ اعظم مودی کی تعلیمی قابلیت پر طویل عرصے سے جاری تنازع کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے جس میں اپوزیشن جماعتیں اس سے قبل ان کی ڈگریوں کے اصلی ہونے پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔