ڈاکٹر رادھا کرشنن اور یوم اساتذہ کی دلچسپ کہانی

Updated: September 05, 2020, 3:02 AM IST | Mumbai

ہمارے ملک میں ہر سال ۵؍ ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جاتا ہے۔ اس دن ملک کے دوسرے صدر جمہوریہ اور ماہر تعلیم ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کی پیدائش ہوئی تھی۔

Dr. Radha Krishnan Photo: INN
ڈاکٹر رادھا کرشنن۔ تصویر: آئی این این

ہمارے ملک میں ہر سال ۵؍ ستمبر کو یوم اساتذہ منایا جاتا ہے۔ اس دن ملک کے دوسرے صدر جمہوریہ اور ماہر تعلیم ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کی پیدائش ہوئی تھی۔ اسی کے پیش نظر اس دن کو پورے ملک میں یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن پورے ملک میں مختلف تقریبات کاانعقاد کیا جاتا ہے۔ اسکولوں میں طلبہ کو ایک دن کیلئے استاد یا معلم بننے کا موقع دیا جاتا ہے۔ طلبہ اپنے اساتذہ کو تحائف پیش کرتے ہیں ۔ سروپلی رادھا کرشنن کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ بحیثیت مدرس وہ کئی عظیم تعلیمی عہدوں پر فائز رہے۔ ان میں کلکتہ یونیورسٹی میں کنگ جارج پنجم چیئر آف مینٹل اینڈ مارل سائنس اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں اسپالڈنگ پروفیسر آف ایسٹرن ریلیجن اینڈ ایتھیکس قابل ذکر ہیں ۔۱۹۵۴ء میں انہیں ’بھارت رتن‘ جیسا عظیم الشان اعزاز دیا گیا تھا۔ 
 ڈاکٹر رادھا کرشنن نے رابندر ناتھ ٹیگور پر انگریزی میں ’دی فلاسفی آف رابندرناتھ ٹیگور‘ نامی کتاب لکھی تھی۔ ان کے تعلیمی سفر کا اثر ان کی عملی زندگی پر واضح طور پر نظر آیا۔ وہ ہمیشہ اعلیٰ تعلیمی اقدار کو موضوع بناتے۔
 خوش اخلاقی ان کی اہم صفت تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ۴۰؍ سال استاد کے فرائض انجام دیئے۔ جب وہ ۱۹۶۲ء میں صدر جمہوریہ کے عہدے پر فائز ہوئے تو کچھ شاگرد اور اساتذہ ان کے پاس گئے اور ان کا یوم پیدائش ’یوم اساتذہ‘ کے طور پر منانے کی خواہش ظاہر کی۔ کافی دیر کی بحث کے بعد طلبہ انہیں قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس طرح ۵؍ ستمبر کو یوم اساتذہ کے طور پر منانے کی شروعات ہوئی۔ 
 سروپلی رادھاکرشنن ایک تیلگو برہمن خاندان میں مدراس پریسیڈنسی میں واقع تھیروتانی کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ یہ گاؤں آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کی سرحد پر واقع ہے۔ والد کا نام ویرا سوامی اور ماں کا نام سیتاما تھا۔ ان کی ابتدائی زندگی تروتنی اور تروپتی میں گزری تھی۔ ان کے والد زمیندار کے یہاں مالیات کے نائب افسر تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم تروتانی کے بورڈ ہائی اسکول سے حاصل کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ مشرق اور مغرب کے درمیان انہوں نے ایک پل کا کام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ اور اساتذہ کسی بھی قوم کا سب سے اہم سرمایہ ہوتے ہیں ۔ اساتذہ قوم کے معمار ہیں جن سے بہت کچھ سیکھ کر طلبہ ملک اور قوم کو ترقی کے راستے پر گامزن کرتے ہیں ۔
 اس مرتبہ لاک ڈاؤن کے سبب اسکولوں میں روایتی طور پر یوم اساتذہ نہیں منایا جاسکے گا۔ خیال رہے کہ اس دن ہائی اسکولوں کے طلبہ خاص طور پر دہم جماعت کے طلبہ کو ایک دن کیلئے ٹیچر بنایا جاتا ہے۔ ملک کے تعلیمی اداروں میں مختلف قسم کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK