اِس وقت پوری دُنیا کا اولین مشترکہ ہدف ہے کووڈ۔۱۹؍ کا علاج

Updated: May 08, 2020, 8:51 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

دنیا بھر میں تقریباً ۱۱۵؍ لیباریٹریز میں کووڈ۔۱۹؍ کی ویکسین بنانے کا کام شروع ہے۔ تاہم، اب تک کسی کو بھی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ دنیا پُر امید ہے کہ وہ اسے ضرور شکست دے گی۔دنیا بھر میں تقریباً ۴؍ لاکھ افراد کوروناوائرس (کووڈ۔۱۹) سے متاثر ہوچکے ہیں مگر اب تک ایسی کوئی دوا یا ویکسین تیار نہیں کی جاسکی ہے جس سے اس بیماری کا علاج کرنے میں ڈاکٹروں کو مدد مل سکے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی ویکسین ۲۰۲۱ء کے اوائل میں مارکیٹ میں آئے گی ۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

دنیا بھر میں تقریباً ۴؍ لاکھ افراد کوروناوائرس (کووڈ۔۱۹) سے متاثر ہوچکے ہیں مگر اب تک ایسی کوئی دوا یا ویکسین تیار نہیں کی جاسکی ہے جس سے اس بیماری کا علاج کرنے میں ڈاکٹروں کو مدد مل سکے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی ویکسین ۲۰۲۱ء کے اوائل میں مارکیٹ میں آئے گی ۔ بیشتر ماہرین کا ماننا ہے کہ اس وائرس کی دوا بنانے میں تقریباً ۱۸؍ مہینے لگ سکتے ہیں ۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، دنیا بھر کے کروڑ پتی اور ارب پتی افراد اس وائرس کی ویکسین تیار کرنے والی مختلف کمپنیوں کو خطیر رقم فراہم کررہے ہیں ۔ اس سے یہ واضح ہے کہ فی الحال پوری دنیا کا اولین مشترکہ ہدف کورونا وائرس کا علاج بن چکا ہے۔ کئی لیبا ریٹریز کا دعویٰ ہے کہ وہ ویکسین بنا لینے کے بہت قریب ہیں اور انہوں نے انسانوں پر اس کا ٹرائل بھی شروع کردیا ہے۔ یاد رہے کہ چند ہفتوں پہلے آکسفورڈ یونیورسٹی نے انسانوں پر ویکسین کا تجربہ شروع کردیا ہے۔ تاہم، اسے خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ہے۔
 ویکسین بنانے کی دوڑ میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ گزشتہ دنوں ’’سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا‘‘ نے بھی کورونا وائرس کی ویکسین پر کام کرنا شروع کیا ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں ۱۱۵؍ مقامات پر اس وائرس کی دوا بنانے کا عمل شروع ہے۔ کووڈ۔۱۹؍ کی ویکسین تیار کرنے کیلئے متعدد کوششیں جاری ہیں ۔ فروری ۲۰۲۰ء میں ڈبلیو ایچ او نے کہا تھا کہ اس وائرس کے خلاف ویکسین کم سے کم ۱۸؍ ماہ میں دستیاب ہوگی۔ 
علاج کیلئے کیا کام ہو رہا ہے؟
 پوری دنیا میں ۱۵۰؍ سے زائد ادویات پر تحقیق ہو رہی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو پہلے ہی مختلف بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال ہو رہی ہیں اور اب وائرس کے خلاف ان کا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں ڈبلیو ایچ او نے ’’یکجہتی ٹرائل‘‘ کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد قابل بھروسہ علاج کا تعین کرنا ہے۔ برطانیہ کا دعویٰ ہے کہ اس حوالے سے اس کا ٹرائل دنیا میں سب سے بڑا ہے، جس میں تاحال ۵؍ہزار سے زیادہ مریض حصہ لے رہے ہیں ۔ دنیا بھر میں کئی تحقیقی سینٹرز کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کے خون سے علاج ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
ویکسین کون تیار کررہا ہے؟
 اس وقت عالمی صحت کی فلاح و بہبود کا دارومدار ویکسین تیار کرنے والی چار بڑی کمپنیوں اور متعدد چھوٹی بائیو ٹیکنالوجی کمپنیوں کے رحم و کرم پر ہے۔ زیادہ تر دوا ساز کمپنیوں کا تعلق امریکہ، کینیڈا، چین اور جرمنی سے ہے۔ کووڈ۔۱۹؍ کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے کہا ہے کہ ’’ویکسین کسی ایک ملک یا ایک خطے کیلئے نہیں بلکہ ایسی ہو جو سستی، محفوظ، مؤثر اورعالمی سطح پر آسانی سے دستیاب ہونی چاہئے۔‘‘ متعدد ریاستیں ، یورپی یونین اور گیٹس فاؤنڈیشن عالمی ادارہ صحت کیلئے ۸؍ بلین یورو جمع کرنا چاہتی ہیں تاکہ اس رقم کو ٹیکے اور ادویات کی ایک عالمی ایجنسی بنانے کیلئے استعمال کیا جاسکے جبکہ امریکہ ویکسین کی تحقیق میں کروڑوں ڈالرس خرچ کررہا ہے۔ کووڈ۔۱۹؍ کے خلاف ویکسین تیار کرنے کیلئے دنیا کی مشہور شخصیات اور سلیبریٹیز نے کروڑوں ڈالر عطیہ کئے ہیں ۔ 
کس قسم کی دوا کام کر سکے گی؟
 اس سلسلے میں تین وسیع نقطہ نظر پر کام ہو رہا ہے۔
 اینٹی وائرل ادویات کا استعمال جو وائرس کے جسم کے اندر پھیلنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔
 وہ دوائیں جو مدافعت کے نظام کو بہتر حالت میں لاسکتی ہیں کیونکہ اس مرض سے لڑنے کیلئے انسان کا مدافعتی نظام مضبوط ہونا چاہئے۔ 
ایسی اینٹی باڈیز جو وائرس پر حملہ کر سکیں ۔ پھر چاہے وہ کسی صحت یاب شخص کے خون سے لی گئی ہوں یا لیبارٹری میں بنائی گئی ہوں ۔
چند ادارے جو کووڈ۔۱۹ ؍ ویکسین تیار کررہے ہیں ؟
 کین سینو بائیو لوجاکس (چین)، انسٹی ٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی آف دی اکیڈمی آف ملٹری میڈیکل سائنسنز (چین)، یونیورسٹی آف آکسفورڈ (برطانیہ)، بائیو این ٹیک، فوسن فارما اور پی فائزر (جرمنی اور امریکہ)، سینو ویک بائیو ٹیک (چین)، انووائیو فارماسوٹیکل، سی ای پی ٓئی، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ، انٹرنیشنل ویکسین انسٹی ٹیوٹ (امریکہ اور جنوبی کوریا) اور موڈرنا، یو ایس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشیئس ڈیزیز (امریکہ) ، کووڈ۔۱۹؍ کی ویکسین تیار کرنے میں مصروف ہیں ۔
ہندوستان کیا کررہا ہے؟
 ہندوستان کو ’’ویکسین مینوفیکچرنگ کا پاور ہاؤس‘‘ کہا جاتا ہے۔ہندوستان، دنیا کی تقریباً ۶۰؍ فیصد ویکسین تیار کرتا ہے۔ ہمارے ملک نے اس سے پہلے بھی متعدد بیماریوں کی ویکسین تیار کرنے کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کی ہے۔ بھارت بائیو ٹیک، سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور زائڈس ایسے ادارے ہیں جو ہمارے ہاں اس وائرس کی ویکسین تیار کرنے میں مصروف ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK