کالا پتھر

Updated: March 27, 2021, 11:41 AM IST | Mohammed Umar Ahmed Khan

طارق روزانہ اسکول جاتے وقت بوڑھے برگد کی جڑوں میں پڑا کالے رنگ کا پتھر دیکھتا اور سوچتا کہ اللہ تعالیٰ نے خواہ مخواہ اس کالے پتھر کو دنیا میں بھیجا ہے۔ مگر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ کالا پتھر اس کیلئے عزیز ہوجاتا ہے۔ پڑھئے مکمل کہانی:

Black Stone
کالا پتھر

طارق جب بھی اسکول جاتا تو بوڑھے برگد کی بدصورت جڑوں کے قریب اسے کالے رنگ کا ایک پتھر دکھائی دیتا۔ یہ کالا پتھر مدت سے وہیں پڑا تھا۔ کسی نے اسے وہاں سے ہٹانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
 طارق جب بھی اس کالے پتھر کو دیکھتا تو سوچتا کہ اللہ تعالیٰ نے خواہ مخواہ اس کالے پتھر کو دنیا میں بھیجا ہے۔ نہ تو یہ کسی کام آسکتا ہے اور نہ یہ خوبصورت ہے۔ طارق یہ بھی سوچتا کہ اللہ تعالیٰ نے شاید بہت ساری چیزیں ایسے ہی بنا دی ہیں جن سے کبھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔
 ایک روز موسم ابر آلود ہو رہا تھا۔ آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، طارق بستہ کاندھے پر لٹکائے اسکول جانے کے لئے نکلا۔ وہ تیز تیز قدموں سے چلا جا رہا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں نہ بارش شروع ہو جائے۔ جب وہ برگد کے درخت کے قریب پہنچا تو موٹی موٹی بوندیں پڑنے لگیں اور دیکھتے دیکھتے موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔
 طارق تیز بارش سے بچنے کے لئے بوڑھے برگد کے درخت کے نیچے جا کھڑا ہوا۔ اسے بوڑھے برگد کے درخت کے نیچے کھڑے ہوئے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ معلوم نہیں کہاں سے منہ پر نقاب ڈالے ایک آدمی نمودار ہوا اس نے جیب سے کوئی سفید رنگ کی چیز نکالی۔ آدمی نے وہ سفید سی چیز طارق کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ’’برفی کھاؤ.... ہم تمہیں برفی کھلائے گا۔‘‘
 طارق نے اپنے امّی ابّو سے سن رکھا تھا کہ اگر کوئی مشکوک شخص کھانے کی کوئی چیز دے تو کبھی نہ کھانا کیونکہ ایسے لوگ بچوں کو پکڑنے والے ہوتے ہیں۔ وہ کھانے پینے کی چیزوں میں بے ہوشی کی دوا ملا دیتے ہیں اور جب کوئی بچہ ان کی دی ہوئی چیز کھالے تو وہ بے ہوش ہو جاتا ہے، چنانچہ طارق نے گھر والوں کی نصیحت کے پیش نظر اس آدمی سے معذرت کر لی اور کہا ’’شکریہ جناب! مَیں برفی نہیں کھاتا۔‘‘
 ’’کیسے نہیں کھاؤ گے تم.... کھاؤ.... کھاؤ!‘‘
 آدمی نے اچانک اپنی جیب سے چمکتا ہوا تیز دھار کا خنجر نکال لیا اور طارق کی طرف بڑھنے لگا وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ لڑکے کو پکڑنے کا سنہری موقع ہاتھ لگا ہے۔
 اس مشکل مرحلے میں جبکہ سخت طوفانی بارش جاری تھی قبرستان کا ویران علاقہ اور پھر خنجر ہاتھ میں تھامے، آدمی کے خطرناک ارادے، طارق کو ڈرانے لگے لیکن اس نے اپنے اوسان بحال رکھے۔ اسے پوری اُمید تھی کہ اللہ اس کے ساتھ ہے وہ اسے اس مشکل سے بچا لے گا۔
 نقاب پوش آدمی خنجر پکڑے آگے بڑھ رہا تھا اور طارق آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ رہا تھا۔ پیچھے ہٹتے ہٹتے اچانک اسے کسی چیز سے ٹھوکر لگی وہ لڑکھڑا کر نیچے گرا اور کوئی سخت چیز اس کے ہاتھوں سے ٹکرائی۔ طارق نے دیکھا وہ کالے رنگ کا وہی بدصورت پتھر تھا جو درخت کی جڑوں کے قریب بیکار پڑا تھا اور جسے دیکھ کر طارق سوچتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے خواہ مخواہ اس کالے پتھر کو دنیا میں پیدا کیا جو نہ تو خوبصورت ہے اور نہ کسی کام کا۔
 لیکن اب اس کالے پتھر سے اللہ تعالیٰ کام لینے والا تھا۔ وہ پتھر طارق کے ہاتھوں میں تھا اور اپنا کام دکھانے والا تھا۔
 نقاب پوش جیسے ہی طارق کو پکڑنے کے لئے آگے بڑھا طارق نے کالا پتھر زور سے اس کی طرف اچھال دیا۔ کالا پتھر ٹھیک نقاب پوش کی پیشانی پر لگا۔ اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔ وہ لڑکھڑایا اور دھڑام سے زمین پر گر کر بے ہوش ہوگیا۔ خون کا فوارہ اس کی پیشانی سے پھوٹ نکلا تھا۔ اسے ہرگز یہ اُمید نہ تھی کہ بچہ اچانک اس کو کوئی پتھر پھینک مارے گا۔ نقاب پوش کو بے ہوش دیکھ کر طارق پہلے تو یہ سمجھا کہ وہ پتھر لگنے سے مر گیا ہے لیکن جب اس نے جھک کر اس کی نبض دیکھی تو وہ چل رہی تھی، جس کا مطلب تھا کہ بدمعاش نقاب پوش ابھی مرا نہیں بلکہ صرف بے ہوش تھا۔
 طارق دوڑتا ہوا گھر پہنچا۔ اس کے ابّو گھر پر ہی تھے۔ طارق نے مختصراً سارا واقعہ کہہ سنایا اور یہ بھی کہا کہ ’’ابّو جلدی سے پولیس کو فون کر یں کہیں ایسا نہ ہو کہ بدمعاش کو ہوش آجائے اور وہ بھاگ جائے۔‘‘ طارق کے ابّو نے جلدی سے پولیس کو فون کیا، ایک انسپکٹر کی سربراہی میں پولیس کے سپاہی کچھ دیر بعد موقع واردات پر پہنچ گئے۔
 بچوں کو پکڑنے والا نقاب پوش ابھی تک بے ہوشی کی حالت میں زمین پر پڑا تھا۔ سپاہیوں نے انسپکٹر کے حکم پر اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈالیں اور اسے اسپتال لے گئے جہاں اسے ہوش میں لاکر پہلے تو اس کی مرہم پٹی کی گئی پھر اسے تھانے منتقل کر دیا گیا۔
 پوچھ گچھ کے دوران میں نقاب پوش نے انکشاف کیا کہ وہ بچوں کو پکڑ کر ایک غیر آباد پہاڑی علاقے میں لے جاتا تھا جہاں اغوا شدہ بہت سے بچّے موجود ہیں جن سے مشقت کا کام لیا جاتا ہے۔ نقاب پوش کی نشاندہی پر پولیس نے اس کے اڈے پر چھاپہ مار کر اس کے بہت سے مجرم ساتھی اور اغوا شدہ بچے برآمد کر لئے۔
 حکومت نے، طارق کے کارنامے سے متاثر ہوکر اسے نقد پانچ ہزار روپے اور بہادری کی تعریفی سند انعام میں دی۔
 طارق اپنے اس کارنامے پر اتنا خوش نہیں تھا جتنا اسے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کوئی چیز بیکار نہیں بنائی ہے۔ اللہ تعالیٰ بیکار چیزوں سے کام لینا بھی خوب جانتا ہے۔ اس موقع پر طارق کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی بلند صفاتی کا وہ ذکر یاد آگیا کہ ’’جو کچھ تم نہیں جانتے وہ جانتا ہے اور وہ بڑا جاننے والا اور حکمت والا ہے۔‘‘
 اس واقعے سے طارق اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی قوت سے واقف ہوگیا اور اسے اس بات کا بھی پتہ چل گیا کہ دنیا کی کوئی بھی چیز بیکار نہیں ہے ہر چیز کا اپنا کام ہے اور وقت آنے پر وہ چیز اللہ کے حکم سے اپنا کام سر انجام دیتی ہے۔
 وہ کالا پتھر آج بھی طارق کی کتابوں والی الماری محفوظ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK