مبارک دن

Updated: January 30, 2021, 11:58 AM IST | Raja Rehan Sajid

مالی نے کہا ’’بچو! کسی کی برائی کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ ہر وہ بات غیبت کہلاتی ہے جو بطور خامی یا عیب کسی شخص میں موجود ہو اور وہ اس کی غیر موجودگی میں بیان کی جائے۔ شاید آپ کو یہ معلوم نہیں کہ کسی کی غیبت کرنا اللہ کی نظر میں اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے۔‘‘

Village Life
گاؤں کی زندگی

گرمیوں کی چھٹیاں تھیں۔ زاہد، کلیم، جاوید اور مَیں نے پکنک منانے کا پروگرام بنایا۔ پہلے یہ طے پایا کہ چاروں پچاس پچاس روپے اکٹھے کریں گے اور پکنک پر جاتے ہوئے راستے کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے لیں گے۔ لیکن کلیم نے اس منصوبے کی مخالفت کی۔ اس کا کہنا تھا کہ بازاری کھانے کی چیزیں غیر معیاری ہوتی ہیں اور پھر مہنگی بھی۔ اس لئے بہتر ہے کہ ہم چاروں اپنے اپنے گھروں سے اپنی اپنی پسند کی چیزیں پکوا کر لے آئیں اور وہاں اکٹھے بیٹھ کر کھائیں گے۔ اس طرح ایک تو معیاری اور صاف ستھری چیزیں کھانے کو ملیں گی دوسرے بچت بھی ہو جائے گی۔ کلیم کی یہ تجویز سب کو پسند آئی۔
 اب بات آگئی کہ کون کیا لائے گا۔ جاوید نے کہا کہ مَیں آم لے آؤں گا۔ زاہد نے کہا کہ وہ روٹیاں لائے گا۔ مَیں نے پلاؤ پکوا کر لانے کو وعدہ کیا جبکہ کلیم نے حامی بھری کہ وہ مرغ پکوا کر لائے گا۔ پھر یہ طے پایا کہ کل صبح ۹؍ بجے سب اپنے اپنے حصے کی چیزیں لے کر قریبی بس اسٹاپ پر پہنچ جائیں گے اور وہاں سے اکٹھے پکنک پوائنٹ پر بذریعہ بس روانہ ہو جائیں گے۔ ہم سب نے پکنک کی خوشی میں رات بے قراری سے کاٹی۔
 صبح ہوئی تو نماز پڑھنے کے فوراً بعد مَیں نے اپنی امّی سے پلاؤ پکانے کی فرمائش کی اور انہیں پکنک کے پروگرام سے آگاہ کیا۔ تھوڑی دیر بعد ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ مَیں نے فون اٹھایا تو دوسری جانب زاہد بول رہا تھا۔ اس نے خوشخبری سنائی کہ وہ اپنی امی سے دیسی گھی کے پراٹھے پکوا رہا ہے۔ دیسی گھی کے پراٹھوں کا نام سن کر میرے منہ میں پانی بھر آیا۔ آہا.... مرغ کے ساتھ پراٹھے کھانے میں کتنا مزہ آئے گا۔
 مَیں نے فون پر زاہد کو وقت پر بس اسٹاپ پر پہنچنے کی ہدایت کی اور فون بند کر دیا۔ آٹھ بجنے والے تھے مَیں بالکل تیار تھا اور سوچ رہا تھا کہ ابھی کلیم کا فون بھی آئے گا کہ وہ بھی اپنی امّی سے مرغ پکوا رہا ہے لیکن ساڑھے آٹھ بج گئے کلیم کا فون ابھی تک نہیں آیا تھا۔ مَیں نے اپنی امّی کو چھوٹی پتیلی میں پلاؤ ڈالنے کو کہا اور خود کلیم کو فون کرنے لگا۔ جوں ہی فون کی گھنٹی بجی تو دوسری طرف سے کلیم نے خود ہی فون اٹھایا جیسے وہ میرے ہی فون کا انتظار کر رہا تھا۔
 ’’ہیلو، کلیم مرغ گلا ہے یا نہیں....‘‘
 ’’مجھے افسوس ہے کہ آج مَیں آپ کے ساتھ نہیں جاسکتا اسلئے کچھ بھی نہیں کیا۔‘‘ کلیم نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا، ’’ارے، مَیں آپ کے ساتھ آج پکنک پر نہیں جوسکتا کیونکہ گاؤں سے کل رات میری خالہ آگئی ہیں، مجھے ان کے ساتھ ماموں کے گھر جانا ہے۔ ’’اچھا پھر خدا حافظ۔‘‘ مَیں نے غصے سے ٹیلیفون پٹخ دیا۔
 مَیں سوچنے لگا کہ سالن کے بغیر کھانے کا مزہ خاک آئے گا۔ لہٰذا اب ہمیں بازادی سالن پر ہی گزارہ کرنا پڑے گا۔ ٹھیک ۹؍ بجے ہم تینوں دوست بس اسٹاپ پر موجود تھے۔ جاوید نے آموں کی ٹوکری اٹھا رکھی تھی۔ جبکہ میرے پاس گرم گرم خوشبو دار پلاؤ کی دیگچی تھی۔ اور زاہد ایک کپڑے میں بندھے دیسی گھی کے پڑاٹھے اٹھائے ہوئے تھا۔ بس اسٹاپ پر کھڑے دوسرے تمام لوگوں کی نظریں ہم پر جمی ہوئی تھیں کیونکہ آموں، پلاؤ اور پراٹھوں کی خوشبو نے ماحول کو معطر بنا رکھا تھا۔
 تھوڑی دیر بعد بس آگئی اور ہم تینوں بس میں سوار ہوگئے۔ ٹھیک ایک گھنٹہ بعد ہم ایک جھیل کے کنارے چھوٹے سے باغیچے میں موجود تھے۔ وہاں اور لوگ بھی اپنے بچوں سمیت آئے تھے۔ ہم نے اپنا سامان باغیچے کے بوڑھے مالی کے حوالے کیا اور خود جھیل کی سیر کو نکل گئے۔ موسم بڑا خوشگوار تھا۔ ہم بہت خوش تھے مگر کلیم کی کمی بری طرح محسوس کر رہے تھے۔ مَیں رہ رہ کر مرغ کا سالن نہ ہونے کی وجہ سے کلیم کو کوس رہا تھا۔ ہم جھیل کے کنارے کھیلتے کھیلتے دور نکل گئے۔ اب دوپہر ہوگئی۔ سب کو بھوک لگی تو زاہد نے کہا ’’اس سے پہلے کہ ہم بھوک سے نڈھال ہو کر یہاں گر پڑیں بہتر یہی ہے کہ ہم واپس چلے جائیں۔ سبھی نے تجویز کو پسند کیا اور باغیچے کی طرف چل پڑے۔ باغیچے میں پہنچ کر مالی سے کھانا مانگا۔
 بابا کوٹھری کی اندر سے کھانا لا کر ہمیں دیا۔ ہم نے بابا کا شکریہ ادا کیا۔ ہم سب مل کر کھانا کھانے لگے تو ہم نے بابا کو بھی کھانے کی دعوت دے دی کیونکہ ویسے ہی کھانا کلیم کے نہ ہونے سے بچ ہی رہا تھا۔ کھانا کھانے لگے تو ہمیں سالن کی کمی محسوس ہوئی کیونکہ جلدبازی میں بازار سے سالن نہ خرید سکے تھے۔
 مَیں پھر بول پڑا کہ سالن کے بغیر کھانے کا مزہ نہیں آرہا۔ اس کے بعد سبھی نے کلیم کی برائی شروع کر دی۔ ’’کلیم مطلب پرست اور مفت خور ہے۔ ذرا سا خرچ کرنا پڑے تو اس کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔‘‘ سب نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔
 مالی نے کہا ’’بچو! کسی کی برائی کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ ہر وہ بات غیبت کہلاتی ہے جو بطور خامی یا عیب کسی شخص میں موجود ہو اور وہ اس کی غیر موجودگی میں بیان کی جائے۔ شاید آپ کو یہ معلوم نہیں کہ کسی کی غیبت کرنا اللہ کی نظر میں اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے۔‘‘
 یہ باتیں سن کر ہم تینوں قدرے غمگین ہوگئے۔ بابا نے ہمیں خاموش اور اداس دیکھا تو کہا ’’بیٹے فکر نہ کرو اللہ تعالیٰ بڑے بڑے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ بشرطیکہ اس سے سچے دل سے معافی مانگی جائے۔ ہاں گھر جاکر کلیم سے بھی اپنی باتوں کی معافی مانگ لینا اور یہ عہد کریں کہ آئندہ آپ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں گے۔ اب آپ گھر جائیں، آپ کے والدین آپ کا انتظار کر رہے ہوں گے۔‘‘ بابا کی بات ختم ہوتے ہی سب اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم نے بابا کو الوداعی سلام کیا اور باری باری ہاتھ ملایا۔ واپسی پر ہم سب سوچ رہے تھے کہ آج کتنا مبارک دن ہے کہ ہم نے زندگی کے بہترین اصولوں سے واقفیت حاصل کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK