خیالی گھڑا

Updated: March 13, 2021, 12:21 PM IST | Atique Siddiqui

یہ شیخ چلّی کی کہانی ہے۔ وہ اس وہم میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ان کے سر پر ایک گھڑا رکھا ہوا ہے اور ہر وقت اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ گھڑا گر کر ٹوٹ نہ جائے۔ اس وہم کی وجہ سے شیخ چلّی کی امّاں کافی پریشان تھی۔ شیخ چلّی کی امّاں اور خالہ انہیں ایک حکیم کے پاس لے جاتے ہیں۔ جانئے کہ کیسے شیخ چلّی اس وہم سے باہر آتے ہیں؟

Imaginary Pitcher
خیالی گھڑا

شیخ چلّی کو وہم ہوگیا تھا کہ اُن کے سر پر مٹی کا گھڑا رکھا ہے۔ اِس خیالی گھڑے کو ہر وقت دونوں ہاتھوں سے سنبھالے اور ٹوٹنے سے بچانے کی فکر میں رہتے تھے۔ کمرے یا گھر کے دروازے سے نکلتے تو بڑی احتیاط برتتے۔ گھٹنوں کو خم دے کر آہستہ آہستہ چلتے کہ کہیں گھڑا چوکھٹ سے ٹکرا کر ٹوٹ نہ جائے۔ راستہ چلتے تو پھونک پھونک کر قدم رکھتے کہ کسی کا دھکا یا خود انہیں ٹھوکر نہ لگ جائے اور گھڑا زمین پر آرہے۔ شیخ چلّی کی اِس بیماری سے اُن کی امّاں بہت پریشان تھیں۔ لاکھ سمجھاتیں کہ کوئی گھڑا وڑا نہیں ہے تیرے سر پر مگر شیخ چلّی نہ مانتے ’’ہے کیوں نہیں.... بوجھ سے ہماری گردن ٹوٹی جاتی ہے اور تم کہتی ہو گھڑا سر پر نہیں ہے۔ امّاں اپنی آنکھوں کا علاج کرواؤ جو اتنا بڑا گھڑا بھی نہیں سیکھ سکتیں....‘‘ وہ چیخ اٹھتے۔
 بس کھانا کھاتے اور سوتے وقت وہ خیالی گھڑا اتار کر قریب رکھ لیتے۔ ورنہ ہر وقت ہر جگہ سر پر ہی اٹھائے پھرا کرتے۔ ایک روز بازار جانے کو گھر سے نکلے۔ گلی کا موڑ مڑ کر سڑک پر آئے تھے کہ ایک نوجوان تانگے والا، تانگا بھگاتا گزرا۔ ٹکر ہوتے ہوتے بچی تھی۔ شیخ چلّی لڑکھڑا گئے اور خیالی گھڑے کو مضبوطی سے سر پر جماتے ہوئے چلّائے ’’ارے بدبخت! کیا تیری ساس کی بارات نکلی جا رہی ہے کہ دیوانوں کی طرح تانگا بھگائے چلا جا رہا ہے۔ ابھی ہمارا گھڑا گر کر پھوٹ جاتا۔‘‘
 تانگے والا تو کیا سنتا وہ تو اتنی دیر میں کہیں کا کہیں نکل گیا تھا۔ قریب ہی ایک شریر لڑکا کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ حیرت سے بولا ’’گھڑا؟ کون سا گھڑا گر کر پھوٹ جاتا؟‘‘ شیخ چلّی نے غصے سے لڑکے کو گھورا اور برا سا منہ بنا کر بولے ’’یہی جو ہمارے سر پر دھرا ہے اور کون سا.... اتنا بڑا گھڑا دکھائی نہیں دیتا.... آنکھیں ہیں یا بٹن!‘‘
 لڑکا سمجھ گیا یہ کوئی پاگل ہے۔ اُس کے ہونٹوں پر شرارت آمیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس دوران کچھ اور لڑکے بھی وہاں آگئے تھے، سب شیخ چلّی کے پیچھے لگ گئے۔ ’’توڑ دو توڑ دو اس کا گھڑا توڑ دو....‘‘ وہ نعرے لگاتے اُن پر پتھر پھینکنے لگے۔ شیخ چلّی کی حالت دیکھنے والی تھی۔ دونوں ہاتھوں سے خیال گھڑا سنبھالے پتھروں سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ گھڑے کے گر جانے کا خوف انہیں بھاگنے بھی نہ دیتا تھا۔ کچھ لوگوں نے ڈانٹ ڈپٹ کر لڑکوں کو بھگایا۔ شیخ چلّی بجائے بازار جانے کے ہانپنے کانپتے گھر لوٹ گئے۔ ’’گھڑا‘‘ سر سے اُتار کر احتیاط سے ایک طرف رکھا اور نڈھال سے چار پائی پر گر پڑے۔ اُن کی امّاں پریشان ہوکر دوڑی آئیں،’’کیا ہوا میرے بچّے ! طبیعت تو ٹھیک ہے تیری؟‘‘ انہوں نے شیخ چلّی کی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
 ’’ارے امّاں! نہ پوچھو کیا ہوا۔‘‘ شیخ چلّی روہانسی آواز میں بولے ’’نجانے ساری دنیا ہمارے گھڑے کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہے۔ آج تو اُن شیطان کے چیلوں نے پھوڑ ہی ڈالا تھا اگر کچھ بھلے لوگ انہیں بھگا نہ دیتے۔‘‘
 اُسی وقت شیخ چلّی کی خالہ گھر میں داخل ہوئیں۔ شیخ چلّی کی حالت دیکھ کر وہ بھی پریشان ہوگئیں۔ ماجرا سن کر شیخ چلّی کی امّاں سے بولیں ’’اے باجی! مجھے لگتا ہے سایہ ہوگیا ہے اس پر.... کسی مولوی کو دکھاؤ۔‘‘ پھر کچھ سوچنے کے بعد کہا ’’ہمارے محلے میں ایک حکیم جی ہیں.... بڑے اللہ والے۔ بہت شفا ہے اُن کے ہاتھ میں.... روحانی علاج بھی کرتے ہیں۔ انہی کے پاس چلو!‘‘
 اگلے روز دونوں بہنوں نے شیخ چلّی سے حکیم کے پاس چلنے کو کہا تو وہ پھیل گئے کہ ہم تو نہیں جائیں گے۔ دونوں بہنوں نے سمجھایا تو بولے ’’کیوں جائیں ہم حکیم کے پاس.... نہ بخار.... نہ کھانسی نہ کچھ اور.... تم لوگوں کو کوئی بیماری ہے تو تم چلی جاؤ.... ہمیں کیوں لے جا رہی ہو....‘‘ دونوں نے بہت منت سماجت کی تو بالآخر راضی ہوگئے۔
 حکیم صاحب نے پورا حال سنا۔ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی.... شیخ چلّی کی ماں سے بولے ’’تو آپ کے خیال میں آپ کے بیٹے کو وہم ہے کہ اس کے سر پر کوئی گھڑا رکھا ہے؟‘‘
 ’’جی حکیم جی!‘‘ امّاں نے جواب دیا ’’اور اس وہم سے یہ خود ہی نہیں.... ہم سب بھی بہت پریشان ہیں.... اور ہماری یہ بہن تو کہتی ہیں کہ اس پر کوئی سایہ ہوگیا ہے۔ اللہ کے واسطے کچھ کیجئے!‘‘
 ’’مگر بہن!‘‘ حکیم صاحب کی مسکراہٹ گہری ہوگئی، ’’ہمارا خیال یہ ہے کہ وہم آپ کے بیٹے کو نہیں خود آپ کو ہوگیا ہے کہ اس کے سر پر کوئی گھڑا موجود نہیں ہے.... گھڑا تو واقعی رکھا ہوا ہے اس کے سر پر۔‘‘ حکیم صاحب کی بات سے شیخ چلّی کی امّاں اور خالہ پر تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے مگر شیخ چلّی خوشی سے اُچھل پڑے اور فوراً ہی خیالی گھڑے کو دونوں ہاتھوں سے سنبھالتے ہوئے بولے ’’دیکھا! ہم نہ کہتے تھے.... ہمیں کوئی وہم نہیں ہے۔ تم لوگوں کی بینائی کمزور ہوگئی ہے۔ اب تو حکیم جی نے بھی کہہ دیا... بولو... اب کیا کہتی ہو!‘‘
 دونوں بہنوں کو تو جیسے سکتہ ہوگیا تھا۔ وہ کیا کہتیں۔ حکیم صاحب نے شیخ چلّی کو اگلے روز شام کو اکیلے آنے کو کہا اور جب یہ لوگ چلے گئے تو اپنے ملازمین کو بلا کر کچھ ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا: کل شام سامنے والے نیم کے درخت کے نیچے دو کرسیاں لگا دی جائیں۔ پھر ایک ملازم کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ایک خالی گھڑا لے کر درخت پر بیٹھ جائے اور دوسرے کو ذمہ داری سونپی کہ وہ ایک ڈنڈا لے کر درخت کی آڑ میں کھڑا رہے اور شیخ چلّی سے گفتگو کے دوران جب وہ اشارہ کریں تو دبے پاؤں آکر شیخ چلّی کے سر سے کچھ اوپر اس طرح ڈنڈا گھمائے گویا اُن کے سر پر دھرے گھڑے کو نشانہ بنایا ہو۔ اُسی وقت درخت پر بیٹھا ملازم گھڑا نیچے پھینک دے۔
 اگلے روز شام کو شیخ چلّی مطب پہنچ گئے۔ حکیم صاحب واحد آدمی تھے جنہوں نے شیخ چلّی کے سر پر گھڑے کی تصدیق کی تھی اس لئے وہ حکیم صاحب سے بہت خوش تھے۔
 حکیم صاحب انہیں ساتھ لے کر درخت کے نیچے کرسیوں پر جا بیٹھے۔ باتوں کے دوران اشارہ کرنے پر درخت کی آڑ میں چھپے ملازم نے شیخ چلّی کے پیچھے پہنچ کر اُن کے سر کے اوپر ہوا میں ڈنڈا گھمایا۔ اسی وقت درخت پر بیٹھے ملازم نے گھڑا نیچے پھینک دیا جو گرتے ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔
 ’’ارے.... یہ کیا....‘‘ حکیم صاحب نے گھبرا جانے کی اداکاری کی، ’’میرے معزز مہمان کا گھڑا پھوڑ ڈالا۔ ٹھہر تو جا بدمعاش....‘‘ وہ چیختے ہوئے کرسی سے اٹھے مگر ڈنڈے سے وار کرنے والا ملازم اتنی دیر میں نظروں سے اوجھل ہوچکا تھا۔
 ’’بھاگ گیا بدبخت.... ہاتھ آجاتا تو....‘‘ حیم صاحب دو چار قدم دوڑنے کے بعد رک کر بڑبڑائے اور واپس شیخ چلّی کے پاس آئے جو حیران پریشان یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے۔
 ’’آپ کو کوئی چوٹ تو نہیں آئی؟‘‘ حکیم صاحب نے شیخ چلّی کے کاندھے پر ہمدردی سے ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ ’’نن... نہیں... ہم بالکل ٹھیک ہیں۔‘‘ شیخ چلّی نے چونک کر جواب دیا۔ ’’مگر افسوس... آپ کا گھڑا پھوٹ گیا۔ نجانے کون بدمعاش تھا وہ...‘‘ حکیم صاحب نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا۔ ’’جج... جی ہاں... پپ... پتہ نہیں کون تھا...‘‘ شیخ چلّی نے کہا... اور گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ پھر ایک ٹھنڈی سانس بھر کر بولے ’’چلئے اچھا ہی ہوا... ہر وقت سنبھالنا پڑتا تھا... جان چھوٹی۔‘‘ حکیم صاحب، مسکراتی نظروں سے انہیں دیکھ رہے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK