جاندار پیڑ

Updated: January 23, 2021, 11:36 AM IST | Hussain Qureshi

پیڑ نے کہا، ’’ہاں! ہم اپنی جگہ پر ہی حرکات کرتے رہتے ہیں۔ خود سے جگہ منتقل نہیں کرسکتے ہیں۔ لیکن ہم میں بھی جان ہوتی ہے اور تمہاری طرح ہی ہمارے جسم کے اعضاء ہوتے ہیں مگر ہمارا درد کوئی نہیں سنتا ہے۔ البتہ ہر کوئی ہم سے مستفید ہوتاہے۔‘‘

Living Tree - Pic : INN
جاندار درخت ۔ تصویر : آئی این این

کافی دنوں بعد احمد، فرزانہ، شاکر اور طاہرہ، آج گاندھی گارڈن میں پکنک کے لئے آئے تھے۔ گارڈن کا نظارہ دلکش و پُر کشش تھا۔ کھیل کے میدان نے سبز چادر اوڑھ رکھی تھی۔ نرم نرم گھاس تلوؤں کو قالین کا احساس دے رہی تھی۔ بچوں کیلئے کھیلنے کے مختلف لوازمات جیسے جھولیں، گول چکر والی سیڑیاں اور بیلنس پہیے تھے۔ بچے اس پر خوب مزے لے لے کر خوشی سے کھیلتے رہتے تھے۔ گارڈن، الگ الگ رنگ و نسل کے پھولوں و پودوں سے مزین تھا۔ 
 احمد کو فٹبال کھیلنا بہت پسند تھا۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ فٹبال کھیل رہا تھا۔ فرزانہ نے زور دار کِک لگائی جس سے فٹبال دور ایک چھوٹے پیڑ سے جا ٹکرایا۔ فرزانہ دوڑتی ہوئی، فٹبال لینے اس پیڑ کے قریب پہنچی۔ اس نے فٹبال کو اٹھایا اور واپس جانے لگی تبھی اسے کسی کے رونے کی آواز سنائی دی۔
 ’’ک... کک... کون... ہے وہاں؟ کیوں رو رہے ہو؟‘‘ فرزانہ نے گھبراتے ہوئے سوال پوچھا۔ وہ اِدھر اُدھر نظریں دوڑا رہی تھی۔ مگراسے کوئی نظر نہیں آیا۔ البتہ رونے کی آواز لگاتارآ رہی تھی۔ احمد نے فرزانہ کو پکارا ’’کیا ہوا؟ کیا کر رہی ہو؟ چلو جلدی....‘‘ فرزانہ سے جواب نہ ملنے پر وہ خود دوڑ کر اس کے پاس پہنچ گیا۔ پہنچتے ہی احمد کو بھی رونے کی آواز سنائی دی۔ اس نے فرزانہ سے پوچھا ’’کون رو رہا ہے؟ اور.... کیوں رو رہا ہے؟‘‘ فرزانہ نے گھبراہٹ کے عالم میں کہا ’’مَیں بھی رونے والے کو تلاش کر رہی ہوں۔ مگر.... کوئی.... نظر نہیں.... آ رہا ہے....‘‘
 ’’مَیں تمہارے سامنے ہی ہوں۔‘‘ پھر اِس آواز نے دونوں کو چونکا دیا۔ احمد نے چھوٹے پیڑ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لڑکھڑاتی آواز میں کہا ’’فرزانہ.... اِس پیڑ سے آواز آ رہی ہے۔‘‘
 ’’کیا پیڑ سے آواز؟ وہ کیسے....‘‘
 ’’تم غور سے سنو۔‘‘ فرزانہ سے احمد نے کہا۔
 ’’ارے! ہاں.... تم صحیح کہہ رہے ہو۔ آواز اسی پیڑ کی ہے۔‘‘ فرزانہ نے تعجب سے جواب دیا۔ ’’تم رو کیوں رہے ہو؟‘‘ فرزانہ اور احمد نے پیڑ سے ایک آواز میں پوچھا۔
 چھوٹے پیڑ نے جواب دیا ’’میرے تنے پر کسی نے بہت زور سے پتھر مارا ہے۔ جس سے میری ایک شاخ ٹوٹ چکی ہے۔ اِسی کے درد میں مَیں رو رہا ہوں۔ جیسے تمہارے جسم کے حصے پر چوٹ لگنے سے درد ہوتا ہے۔‘‘ فرزانہ نے کہا ’’ہمیں معاف کر دیجئے۔ ہم فٹبال کھیل رہے تھے اسی دوران گیند تمہیں لگی ہے۔‘‘
 گفتگو کے درمیان شاکر اور طاہرہ بھی دوڑ کر آگئے۔ احمد نے پیڑ سے پوچھا ’’تمہیں درد کیسے ہو سکتا ہے۔ تم تو بے جان ہو....‘‘
 طاہرہ نے کہا ’’نہیں... ایسا.... نہیں ہے۔ نباتات بھی جاندار ہوتے ہیں۔ وہ بھی چھوٹے سے بڑے ہوتے ہیں۔ اپنے جیسے دوسرے پودے پیدا کرتے ہیں۔ لیکن یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت نہیں کرتے ہیں نا....‘‘ شاکر نے پوچھا۔
 پیڑ نے کہا، ’’ہاں! ہم اپنی جگہ پر ہی حرکات کرتے رہتے ہیں۔ خود سے جگہ منتقل نہیں کرسکتے ہیں۔ لیکن ہم میں بھی جان ہوتی ہے اور تمہاری طرح ہی ہمارے جسم کے اعضاء ہوتے ہیں مگر ہمارا درد کوئی نہیں سنتا ہے۔ البتہ ہر کوئی ہم سے مستفید ہوتاہے۔‘‘
 فرزانہ نے پوچھا ’’تمہارے جسم کے اعضاء کون کون سے ہوتے ہیں؟‘‘ احمد نے کہا ’’ہاں! ہمیں بتاؤ.... پلیز....‘‘
 ’’میرے پیر زمین کے اندر دھنسے ہوئے ہیں۔ اسے ’جڑ‘ کہتے ہیں۔ جو جھاڑو جیسے نوکیلے کھردرے ریشے ہوتے ہیں، تمہارا ڈالا ہوا یا بارش کا پانی ہم اسی جڑوں سے پورے جسم میں پہنچاتے ہیں۔ اس کے ساتھ زمین سے نمکیات بھی حاصل کرلیتے ہیں جس طرح خون تمہا رے جسم میں گردش کرتا رہتا ہے۔ پانی، سورج کی روشنی اور ہوا ہماری غذا ہے۔ جڑ، نہایت اہم عضو ہے.... یہ جو موٹا لمبا حصہ تم دیکھ رہے ہو نا اسے ’تنہ‘ کہتے ہیں۔ یہ ہمارے لئے، تمہاری ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتا ہے۔ اسی سے ہم شاخوں تک پانی و نمکیات پہنچاتے ہیں۔ اسی کے سہارے ہم کھڑے ہوئے ہیں۔  تنے سے نکلنے والے باریک لمبے لکڑی کے ٹکڑوں کو ’شاخیں‘ کہتے ہیں۔ جس پر ہمارے جسم کے اعضاء پتے، پھول اور پھل لگتے ہیں۔ پتے تمام مخلوق کو ہوا دیتے ہیں۔ یہ ہوا جانداروں کی زندگی ہے۔ تم ہر وقت ناک یا منہ سے جسم کے اندر جو ہوا لیتے ہو نا... اسے آکسیجن کہتے ہیں اور جو ہوا تم باہر چھوڑتے ہو اسے ’کاربن ڈائی آکسائیڈ‘ کہتے ہیں۔ ہم پیڑ، پودے اور درخت بارش برسانے میں کافی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ پوری دنیا کو ہم پھول، پھل اور دوائیاں مہیا کرتے ہیں۔‘‘
 چاروں بچے پوری توجہ کے ساتھ پودے کی باتیں سن رہے تھے‌۔ احمد نے کہا ’’ہاں! ہمیں یہ معلوم ہے۔‘‘
 ’’ پھر بھی تم ہمیں توڑتے ہو۔‘‘ فوراً پیڑ نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’اگر تم ماحول کو صحتمند رکھنا چاہتے ہو اور خود بھی تندرستی سے زندگی گزارنا چاہتے ہو تو ہماری حفاظت کرو۔ پودے زیادہ سے زیادہ لگاؤ اور اس کی دیکھ بھال بھی کرو.... سمجھے نا؟‘‘
  فرزانہ نے پیڑ کو گلے لگا کر `’’سوری‘‘ کہا۔ احمد نے کہا ’’تم نے ہمیں پیڑ پودوں کے بارے میں مفید معلومات دی ہے۔ ہم سب تمہارا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘ شاکرنے شاخ کو اپنے گالوں سے لگاتے ہوئے کہا، ’’میرے دوست، اب ہم پیڑ پودوں کی حفاظت بھی کریں گے اور نئے پودے بھی لگائیں گے۔ اور ہاں! مَیں یہ تمام معلوماتی باتیں اپنے سبھی دوستوں کو بتاؤں گا۔‘‘
 پیڑ نے کہا ’’بہت خوب.... اب جاؤ کھیلو... کودو اور جلد گھر جاؤ۔‘‘ تمام بچے خوشی خوشی میدان پر جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK