پیسوں کی مشین

Updated: February 27, 2021, 12:57 PM IST | Hussain Qureshi

یہ کہانی ثاقب کی ہے۔ اے ٹی ایم کارڈ کو دیکھ کر ثاقب کے ذہن میں کئی سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ثاقب کے والد سلیم صاحب اسے اے ٹی ایم کارڈ کے تعلق سے پوری تفصیلات بتاتے ہیں۔ جانیں کہ ثاقب کے والد نے کیا کیا تفصیلات بتائی ہیں:

Money Machine - Pic : INN
پیسوں کی مشین ۔ تصویر : آئی این این

’’ابّو جان! یہ پلاسٹک کا کارڈ لیجئے آپ کی جیب سے گر گیا تھا.... شاید۔‘‘ ثاقب نے کارڈ والد کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’شاباش بیٹا! مجھے دو.... بیٹا یہ ایک قیمتی کارڈ ہے۔ ہم پیسے نکالنے کے لئے جا رہے تھے۔ اس لئے یہ اے ٹی ایم کارڈ میز پر رکھا تھا۔ وہاں سے نیچے گر گیا ہوگا۔‘‘
 ’’ابّو جان! اس کارڈ سے پیسے کیسے نکلتے ہیں؟ اور کتنے پیسے نکلتے ہیں؟‘‘ ثاقب نے سوالات کئے۔ ’’بیٹا! ہمارا بینک میں کھاتہ ہے۔ اس میں ہم پیسے جمع کرتے ہیں۔ جتنے روپے ہمارے کھاتے میں جمع ہیں۔ اتنے پیسے ہم قسط وار نکال سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ روپے نہیں نکال سکتے ہیں۔‘‘ ’’اچھا ابو جان!‘‘ ثاقب نے کہا، ’’سب لوگوں کے کارڈ ایک جیسے ہوتے ہیں؟‘‘
 ’’نہیں بیٹا! ہمیں کارڈ یکساں نظر آتے ہیں۔ مگر کارڈ نمبر الگ الگ ہوتے ہیں۔ جیسے یہاں دیکھو، ان نمبروں کی گنتی کرو...‘‘ سلیم صاحب نے ثاقب کو کارڈ کا نمبر بتاتے ہوئے کہا۔
 ’’ایک.... دو.... تین.... چار.... پانچ.... سولہ... ابو جان سولہ اعداد ہیں۔‘‘ ’’ہاں ثاقب یہ سولہ عددی نمبر ہر کاڈر کا الگ ہوتا ہے؟ اس پر میرا نام‌ بھی لکھا ہوا ہے۔ یہ دیکھو، پڑھو....‘‘
 ثاقب بولا ’’ایس.... اے.... ایل.... آئی.... ایم.... ہاں یہ `سلیم شیخ....‘‘ ’’شاباش بیٹا! تم تو بہت ہوشیار ہو۔ انگریزی‌بھی پڑھ لیتے ہو۔ اس کارڈ پر ایک اور نمبر ہوتا ہے۔ تم اس کارڈ کا معائنہ کرو اور وہ نمبر تلاش کرو تو ذرا....‘‘
 ’’جی ابو تلاش کرتا ہوں۔‘‘ ثاقب نے کارڈ ہاتھ میں لیا اور بغور دیکھنے لگا۔ سامنے دوسرے نمبر نظر نہیں آئے تو اس نے کارڈ کو پلٹ کر دیکھنا شروع کیا۔ تب تک سلیم صاحب باہر جانے کی تیاری کرنے لگے۔ شرٹ کے بٹن لگاتے ہوئے سلیم صاحب نے پوچھا ’’کیا ہوا نمبر نظر نہیں آیا کیا؟‘‘ ’’ابو مل گیا، یہ تین عددی کارڈ کے پیچھے لکھے ہوئے ہیں۔‘‘
 ’’اس کے آگے اور کچھ لکھا ہے کیا؟‘‘ سلیم صاحب نے موزے پہنتے ہوئے پوچھا۔ ’’جی! ابو جان ۴؍ عدد ہیں۔‘‘ ثاقب نے جواب دیا۔
 ’’یہ تین نمبرات CVV نمبر ہوتے ہیں۔ Card Varification Value کارڈ کی قیمت کا تصدیقی نمبر ہوتا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ کارڈ میں رقم کتنی ہے۔ اس نمبر کو بھی کسی سے شیئر نہیں کرنا چاہئے۔ اور وہ چار عدد ہمارے کارڈ کے آخری چار نمبر ہوتے ہیں.... سمجھے؟‘‘
 ’’اچھا.... ابو جان! اب یہ بتاؤاس کارڈ سے پیسے کیسے نکلتے ہیں؟‘‘ ’’مَیں پیسے نکالنے کے لئے ہی جا رہا ہوں۔ تم ساتھ چلو۔ تمہیں بتاتا ہوں کہ اس اے ٹی ایم کارڈ سے پیسے کیسے نکالتے ہیں۔‘‘
 ’’ارے واہ.... سچ....‘‘ ثاقب خوشی سے اُچھل پڑا۔ اے ٹی ایم پہنچ کر سلیم صاحب نے اپنے بیٹے ثاقب سے کہا ’’دیکھو بیٹا! یہ اے ٹی ایم ہے۔ ATM کا مطلب Automated Teller Machine ہوتا ہے۔ اس میں اس طرح کارڈ کو ڈالتے ہیں۔‘‘ سلیم صاحب نے کارڈ مشین میں ڈالتے ہوئے ثاقب سے کہا۔
 ’’ابو جان! کیا اس کارڈ سے کوئی بھی پیسے نکال سکتا ہے؟‘‘ ’’نہیں بیٹا!‘‘ ثاقب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے سلیم صاحب نے کہا، ’’یہ دیکھو کارڈ داخل کرنے کے بعد اپنا خفیہ چار عددی کوڈ ڈالنا ہوتا ہے۔ تب ہی روپے مشین سے نکلتے ہیں۔ یہ دیکھو اس جگہ سے پیسے باہر آتے ہیں۔ مَیں نے دو ہزار روپے کی رقم ڈالی تھی۔ یہ پانچ.... پانچ سو.... کے چار نوٹ نکلے ہیں۔‘‘
 ’’ارے واہ.... یہ تو بالکل نئے نئے.... اور.... کورے کورے نوٹ ہیں۔‘‘ ثاقب نوٹ ہاتھ میں لیتے ہوئے خوشی سے کہا۔ ’’کیا مَیں بھی اس کارڈ سے پیسے نکال سکتا ہوں؟‘‘
 ’’ہاں اگر تمہارے پاس کارڈ کے ساتھ پن کوڈ ہو تو.... جو میں نے ڈالا تھا۔‘‘ 
 ’’آپ نے مجھے اپنا کوڈ نمبر بتایا ہی نہیں۔‘‘ ثاقب ناراضگی کے انداز میں بولا۔
 ’’اس کوڈ نمبر کو نہایت حفاظت سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ کسی کے ہاتھ لگ جائے تو ہمیں نقصان ہو سکتا ہے۔ سمجھے نا... بیٹا...‘‘
 ثاقب نے کہا ’’ہاں ابو جان....‘‘
 ’’بیٹا! اس پن نمبر کو بار بار وقفے سے تبدیل کرتے رہنا چاہئے۔ اسی مشین سے ہم کوڈ کو تبدیل کرسکتے ہیں۔‘‘ سلیم صاحب نے ثاقب کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
 ’’ابو جان! اس مشین میں پیسے کہاں سے آتے ہیں؟‘‘
 سلیم صاحب نے ثاقب کو مشین کا پچھلا حصہ دکھاتے ہوئے کہا ’’یہ دیکھو بیٹا! یہاں سے اس مشین کو بینک کے منیجر صاحب کھولتے ہیں۔ اور اس میں چھوٹے چھوٹے ڈبے ہوتے ہیں۔ اس میں روپیوں کو ترتیب سے ڈالتے ہیں۔ جتنے پیسے مشین میں ڈالے جاتے ہیں اتنے باہر نکلتے رہتے ہیں۔‘‘
 ’’اچھا.... اچھا.... یہ تو بہت اچھا سسٹم ہے.... ابو جان!‘‘ ثاقب نے کہا۔
 ’’ہاں بیٹا! یہاں پر زیادہ وقت نہیں لگتا ہے۔ کوئی پرچہ بھرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ جہاں چاہو جتنے چاہو پیسے نکال لو۔ یہ لوگوں کے لئے سہولت والی پیسوں کی مشین ہے۔‘‘ سلیم صاحب نے اپنے بیٹے کو سمجھایا۔
 ثاقب ہنستے ہوئے سلیم صاحب کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل آیا۔ سلیم صاحب نے ثاقب کا ہاتھ پکڑا اور مسکراتے ہوئے بولے ’’مستقبل میں ایسے ہی ڈجیٹل طریقوں سے روپیوں کا کاروبار ہوگا۔ تم ابھی سے اسے سمجھ کر ماہر بن جاؤ!‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK