تدبیر

Updated: August 29, 2020, 1:21 PM IST | Asad Ashar | Jalgaon

یہ کہانی حسن کی ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ موبائل فون کا عادی ہو جاتا ہے اور پڑھائی سے بالکل منہ موڑ لیتا ہے۔ اس کے والدین بھی اس وجہ سے پریشان تھے۔ اچانک حسن کی والدہ کو ایک تدبیر سوجھتی ہیں اور وہ اُس پر عمل کرتی ہیں، اس کے بعد سب کچھ بدل جاتا ہے۔ پڑھئے مکمل کہانی:

boy with mom
بچہ اپنی ماں کے ساتھ

”چلو بیٹا! موبائل رکھ دو۔ بہت دیر سے لئے بیٹھے ہو! چلو تھوڑی پڑھائی کرو۔“ حسن کی والدہ اسے گھورتی ہوئی خفگی کے ساتھ بولیں۔ 
 ”نہیں امی۔ مجھے نہیں کرنا پڑھائی۔ بعد مَیں پڑھوں گا۔“ حسن نے موبائل سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔ 
 ”بیٹا! چلو رکھ دوموبائل.... نماز کا بھی وقت ہوگیا ہے۔“ انہوں نے نرمی سے دوبارہ اپنی بات پرزوردیا۔ 
 ”جی.... ٹھیک ہے لیکن کچھ دیر بعد.... ابھی مَیں ایک مزیدارگیم کھیل رہاہوں۔“ جواباًاس کی والدہ کچھ نہیں بولیں لیکن دانت پیس کررہ گئیں۔ 
 ”بڑی غلطی کی جو اسے موبائل خریدکر دیا۔“ وہ بڑبڑاتی ہوئی اس کے کمرے سے نکلیں۔ 
 حسن کی والدہ اس سے تنگ آگئی تھیں۔ جب سے لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا، تب سے حسن کے گویامزے ہی مزے تھے۔ وہ دن رات موبائل میں لگا رہتا تھا۔ کبھی فلم دیکھتا، کبھی پب جی کھیلتا، کبھی کوئی سیریل دیکھتا۔ غرضیکہ موبائل اس کے ہاتھ سے الگ ہی نہ ہوتاتھا۔ مہینوں ہوئے، اس نے اپنی کتابوں کی شکل بھی نہ دیکھی تھی۔ حسن کی والدہ ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں اورپڑھائی کے معاملے میں کافی سخت تھیں۔ لیکن اپنے شوہر کے نہ ہونے اورلاک ڈاؤن کی شکل میں غیرمعینہ مدت کی چھٹیوں سے وہ حسن کے سامنے کمزورسی پڑگئی تھیں۔ حسن کے والد اپنی نوکری کی وجہ سے دوسرے شہرمیں رہائش پذیر تھے اور اچانک لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہیں پھنسے رہ گئے تھے۔ اسکول اورکالجز بندہونے کی وجہ سے حسن پڑھائی کی فکر اور امتحان کے ڈر سے آزاد موبائل میں مگن ہوگیا تھا۔ پڑھائی اورمطالعہ سے اسے چڑسی ہوگئی تھی۔ 
 حسن کے کمرے سے نکل کر وہ کچن میں آئیں اوراپنے بقیہ کام نپٹانے لگیں۔ ساتھ ہی وہ حسن اور اس کی پڑھائی کو پرانی ڈگرپر لانے کی تدبیر بھی سوچے جا رہی تھیں۔ وہ حسن کے ساتھ سخت رویہ بھی اختیارکرسکتی تھیں لیکن انہیں یہ سب گوارانہ تھا۔ وہ حکمت عملی پریقین رکھتی تھیں اورایک مؤثرطریقہ کارکے ذریعہ حسن کو سبق سکھا کر راہ ِراست پرلاناچاہتی تھیں۔ آخرکار انہیں ایک تدبیر سوجھ گئی۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑگئی۔ وہ تیزتیزقدموں سے اپنے کمرے میں پہنچیں۔ اپنے موبائل سے حسن کے والد کو فون لگایا۔ ان سے کچھ دیربعد بات کی، انہیں اپنی تدبیر بتائی اورسمجھانے لگیں۔ 
 شام کو حسن عصر کی نماز پڑھ کر سودا سلف لانے گیا۔ جب وہ واپس آیا تو اس کی والدہ اس سے مخاطب ہوئیں، ”حسن بیٹا!تمہارے والد کا فون آیا تھا۔ وہ تم سے بات کرنا چاہتے ہیں۔“
 اتنا سنناتھاکہ حسن خوش ہوگیا اورفوراً اپنے والد کو فون لگایا۔
 خیریت دریافت کرنے کے بعد اس کے والد نے گفتگوآگے بڑھائی۔ پہلے انہوں نے مشہور زمانہ سیریل ’ارطغرل غازی‘، جسے وہ کئی راتوں کی نیند قربان کرکے دیکھتا رہا تھا، اسی سے متعلق کچھ سوالات کئے جن کے وہ جوابات دیتارہا۔ پھر اس کے والد نے اس سے اس کی پڑھائی کے تعلق سے سوالات کرنا شروع کیے۔ انہوں نے حسن سے سائنس، تاریخ اور جغرافیہ کے کچھ سوالات کیے۔ حسن اپنے ذہن پر زور دینے کے باوجود اُن سوالوں کے جوابات نہ دے پایا۔ اُسے شرمندگی محسوس ہوئی۔ اب اس کے والد نے اردو، انگریزی اورہندی کے کچھ الفاظ کے معنی جاننا چاہے۔ حسن نے اپنے ذہن کو ٹٹولا لیکن پورے یقین کے ساتھ جوابات نہ دے پایا۔ والد نے افسوس ظاہرکیاتو اس کی آنکھوں میں آنسوآگئے۔ اس کی والدہ اس کے چہرے پرابھرنے والے تغیرات کو بغوردیکھ رہی تھیں اور اپنی تدبیر کو کارگرثابت ہوتے دیکھ من ہی من خوش ہورہی تھیں۔ حسن کے والد نے اُسے سمجھایا۔ انہوں نے کہا، ”بیٹا، انگریزی زبان میں ایک کہاوت ہے۔ Excess of everything is bad (ہر چیزکا حدسے زیادہ ہونا، براہوتاہے)۔ اورمجھے معلوم ہواہے کہ تم موبائل فون کا استعمال حدسے زیادہ کررہے ہو۔ بیٹا!اس کا نتیجہ بہت براہوسکتاہے۔ تمہارامستقبل اس سے متاثر ہوسکتاہے۔“ پھرانہوں نے اُسے پڑھائی کرنے کی تلقین کی۔ حسن نے سنجیدگی سے پڑھائی کرنے کا وعدہ کیا۔ کچھ دیرمزید سمجھانے کے بعد انہوں نے فون رکھ دیا۔ 
 ”کیاہواحسن بیٹا! کیاابونے تمہیں ڈانٹا؟“ اس کی والدہ نے انجان بن کر پوچھا۔ 
 ”نہیں امی۔ ابو نے تومیری آنکھیں کھول دی۔ آج میں نے ابو کے سامنے بڑی شرمندگی محسوس کی۔“ اورحسن نے پوری بات کہہ سنائی۔ 
 ”بیٹا! پڑھائی سے مسلسل دور رہنے کی وجہ سے تمہاری یہ حالت ہوگئی کہ تم سب کچھ بھول گئے ہو۔“ اس کی والدہ مسکراتی ہوئی بولیں، ”میں نے اس دوران تمہیں کتنا سمجھایا کہ پڑھائی پر دھیان دولیکن تم نے میری ایک نہ سنی۔ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے۔ پڑھائی میں دل لگاؤ اور موبائل کااستعمال کم کردو۔ فضولیات میں وقت ضائع نہ کرو۔ ابھی اسکول کھلنے میں وقت ہے۔ تب تک تم اگلی جماعت کی بھی پڑھائی کرلو۔ خصوصی طور پر زبانوں پر عبور حاصل کرو۔ عربی زبان سیکھنا شروع کردو۔ کتابوں کا مطالعہ کرو۔ قرآن مع ترجمہ و تفسیر پڑھنے اورسمجھنے کی کوشش کرو۔ اِس لاک ڈاؤن کو ایک موقع سمجھ کر خود کو سنوارو۔“ 
 ”جی امی! اِن شاءاللہ، میں اب آپ کی تمام باتوں پر عمل کروں گا۔“ حسن کی آنکھیں نم ہوگئیں اورامی نے اسے گلے لگالیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK