سچ کا نام بڑا

Updated: February 29, 2020, 4:41 PM IST | Ahmed Ibrahim Alvi

انسپکٹر صاحب اس بچّے کا جواب سن کر اس پر غصہ نہیں ہوئے بلکہ وہ بہت خوش ہوئے اور انگریزی کے استاد سے مخاطب ہوئے ’’اس کا مطلب یہ ہے ماسٹر صاحب! آپ کے کلاس کے بچّے نہ صرف پڑھنے میں تیز ہیں بلکہ ایماندار بھی ہیں

سچ کا نام بڑا ۔ تصویر : آئی این این
سچ کا نام بڑا ۔ تصویر : آئی این این

کلاس میں بالکل خاموشی تھی۔ سبھی بچّے چپ چاپ قلم کاپی سنبھالے ہوئے تیار بیٹھے تھے کہ انگریزی کے استاد آئیں اور اِملا بولنا شروع کریں۔ آج انگریزی اِملا کا دن تھا۔ سبھی بچے گھر سے خوب خوب یاد کرکے آئے تھے۔ روزمرہ کی طرح اس دن بھی بچّوں کے انگریزی کے استاد کا انتظار زیادہ دیر نہ کرنا پڑا۔ گھنٹہ بجنے کے تھوڑی دیر بعد انگریزی کے استاد کلاس میں آگئے۔
 استاد کے کلاس میں آتے ہی سبھی بچّے ان کی تعظیم کے لئے بڑے ادب سے کھڑے ہوگئے۔ استاد نے ان کو بیٹھ جانے کا اشارہ کیا اور وہ سب بیٹھ گئے اور ان کی طرف متوجہ ہوگئے۔
 انگریزی کے استاد نے بہت شفقت اور نرمی سے کہا ’’بچو! آج ہمارے اسکول میں انسپکٹر صاحب آئے ہوئے ہیں اور وہ اسکول کا معائنہ کریں گے۔ اس لئے مَیں تم لوگوں کو اِملا نہیں بولوں گا ابھی انسپکٹر صاحب آتے ہوں گے وہی تم لوگوں کو اِملا بولیں گے۔‘‘
 ’’جی... جی.... اچھا ماسٹر صاحب!‘‘ اگلی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے بچّوں نے استاد کی بات ختم ہوتے ہی ایک ساتھ دھیمی آواز میں کہا۔ یہ سن کر استاد نے پھر ان کو مخاطب کیا ’’دیکھو بچّوں.... گھبرانا بالکل نہیں.... جیسے ہی انسپکٹر صاحب کلاس میں داخل ہوں تم سب بہت خاموشی اور بہت ادب سے کھڑے ہو جانا پھر جب کہیں ’’پلیز سیٹ ڈاؤن!‘‘ تو تم سب بیٹھ جانا پھر جب وہ پوچھیں کہ آج کیا ہے تو صرف مانیٹر جواب دے کر سر آج ڈکٹیشن کا دن ہے....‘‘ انگریزی کے استاد بچّوں کو یہ سمجھا ہی رہے تھے انسپکٹر صاحب کلاس میں داخل ہوئے۔ ان کو دیکھتے ہی سب بچے ادب سے کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے پورے کلاس پر بھرپور نظر دوڑاتے ہوئے ان سب سے بیٹھ جانے کو کہا پھر انگریزی کے استاد سے مخاطب ہوئے ’’ماسٹر صاحب.... کیا پڑھا رہے ہیں؟‘‘
 ’’سر.... آج ڈکٹیشن کا دن ہے۔‘‘ انگریزی کے استاد نے جواب دیا۔
 ’’اچھا.... اچھا.... تو آج ڈکٹیشن کا دن ہے تو لایئے آج مَیں ہی بول دوں دیکھوں آپ کے بچّے کیا پڑھتے ہیں۔‘‘ انسپکٹر صاحب نے مسکراتے ہوئے انگریزی کے استاد سے کہا۔ انگریزی کے استاد یہ سن کر انسپکٹر صاحب سے ذرا سا ہٹ کر اور ایک کونے میں کھڑے ہوگئے تاکہ انسپکٹر صاحب سب لڑکوں کو اچھی طرح دیکھ سکیں۔ سبھی بچّے اِملا لکھنے کے لئے تیار ہوگئے۔
 انسپکٹر صاحب نے کہا ’’بچّو.... تمہارا قلم کاپی تیار ہے ناں؟‘‘
 ’’جی ہاں سر....‘‘ سبھی بچوں نے ایک ساتھ جواب دیا۔
 ’’تو لکھو.... میں بولتا ہوں۔‘‘ انسپکٹر صاحب نے کہا اور پھر رک کر اِملا بولنا شروع کر دیا: Forest فاریسٹ، Man مین، Cup کپ، Teacher ٹیچر، Kettle کیٹل۔
 سبھی بچّے گھر سے خوب پڑھ کر اور یاد کرکے آئے تھے اس لئے ان سبھی نے جلدی جلدی انسپکٹر صاحب کے بولے ہوئے پانچوں لفظ بالکل ٹھیک ٹھیک لکھ دیئے۔ انگریزی کے استاد نے خوش ہو کر بچّوں کے پاس جا جا کر دیکھا تو صرف ایک بچہ ایسا نکلا جو ’’کیٹل‘‘ نہیں لکھ پایا تھا اور باقی چاروں لفظ اس نے بالکل ٹھیک لکھے تھے۔ وہ بچہ چاہتا تھا تو بغل میں بیٹھے کسی بھی بچّے کی نقل کرسکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا وہ اپنی جگہ پر بیٹھا رہا اور اس نے اپنی نظر اپنی کاپی سے ذرا بھی نہ ہٹائی۔
 انسپکٹر صاحب دھیرے دھیرے سبھی بچّوں کے پاس گئے اور انہوں نے سب کی کاپیاں دیکھیں۔ وہ جب اس بچّے کے پاس گئے تو وہ بچہ سب بچّوں کی طرح ادب سے کھڑا ہوگیا اور اس نے اپنی کاپی انسپکٹر صاحب کو پیش کر دی۔ انسپکٹر صاحب نے اس کی کاپی دیکھی اور پھر مسکراتے ہوئے اس سے بولے ’’تم کو ’کیٹل‘ کی اسپیلنگ نہیں معلوم؟‘‘
 ’’نو سر....‘‘ اس بچّے نے بہت ایمانداری اور شرمساری سے کہا۔
 انسپکٹر صاحب اس بچّے کا جواب سن کر اس پر غصہ نہیں ہوئے بلکہ وہ بہت خوش ہوئے اور انگریزی کے استاد سے مخاطب ہوئے ’’اس کا مطلب یہ ہے ماسٹر صاحب! آپ کے کلاس کے بچّے نہ صرف پڑھنے میں تیز ہیں بلکہ ایماندار بھی ہیں۔ اس بچّے کے دائیں بائیں دونوں طرف بیٹھے ہوئے بچّوں نے سبھی لفظ صحیح لکھے ہیں اگر یہ بچہ چاہتا تو نقل کرسکتا تھا یا پوچھ سکتا تھا.... مگر یہ نقل کرنا یا پوچھنا بھی بے ایمانی سمجھتا ہے اس لئے اس نے ایسا نہیں کیا.... مَیں آپ کے سبھی بچّوں سے اور اس بچّے سے بہت خوش ہوں۔‘‘
 انسپکٹر صاحب انگریزی کے استاد سے اتنا کہہ کر اس بچّے سے مخاطب ہوئے ’’کیوں بچّے.... تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
 ’’جناب! میرا نام موہن داس ہے۔‘‘ اس بچّے نے بہت شائستگی سے جواب دیا جس کو سن کر انسپکٹر صاحب نے کہا ’’تم ضرور ایک دن نام پیدا کرو گے۔‘‘
 انسپکٹر صاحب کا کہنا سچ ثابت ہوا۔ اس بچّے نے آگے چل کر بڑا نام پیدا کیا۔ بڑا ہو کر اس نے ہمارے ملک ہندوستان کو غلامی سے نجات دلانے کا راستہ دکھایا خود بڑی بڑی مصیبتیں جھیل کر ملک کو آزاد کروایا۔ اس نے ساری زندگی اپنے وطن اور عوام کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جان دے دی۔ وہ مر گیا مگر اس کا نام اور کام امر ہوگیا۔ ساری دنیا اس کی عزت کرتی ہے۔ اس کا نام بڑے ادب اور احترام سے لیا جاتا ہے۔ اس کا پورا نام تو موہن داس کرم چند گاندھی ہے مگر ہم ہندوستانی محبت سے اس کو ’باپو‘ کہتے ہیں۔ وہ ’بابائے قوم‘ بھی کہلاتا ہے۔ سچا، ایماندار اور نیک ہونے کے سبب وہ ’مہاتما‘ بھی کہلاتا ہے۔ ہندوستان میں جتنے بھی بڑے آدمی پیدا ہوئے ان سب میں وہ شامل ہے اور یہ صرف اس لئے کہ اس نے شروع ہی سے جھوٹ سے نفرت کی اور سچ بولنے کی عادت ڈالی۔ اس لئے ہمیشہ سچ بولنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK