بارہ بہنیں

Updated: January 02, 2021, 1:42 PM IST | Ashraf Sabohi

ایک تھا بادشاہ، جس کی تھیں بارہ لڑکیاں، سب کی سب بڑی خوبصورت تھیں۔ سب ایک ہی ساتھ رہتیں اور ایک ہی کمرے میں سوتیں۔ جب لڑکیاں سو جاتیں تو بادشاہ آکر باہر سے کمرے کا دروازہ بند کر دیتا۔ بادشاہ ڈرتا تھا کہ لڑکیوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے،اس لئے وہ ہر رات کو دروازہ بند کر دیتا تھا اور صبح سویرے ہی کھول جاتا

Twelve Sister
بارہ بہنیں

ایک تھا بادشاہ، جس کی تھیں بارہ لڑکیاں، سب کی سب بڑی خوبصورت تھیں۔ سب ایک ہی ساتھ رہتیں اور ایک ہی کمرے میں سوتیں۔ جب لڑکیاں سو جاتیں تو بادشاہ آکر باہر سے کمرے کا دروازہ بند کر دیتا۔ بادشاہ ڈرتا تھا کہ لڑکیوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے،اس لئے وہ ہر رات کو دروازہ بند کر دیتا تھا اور صبح سویرے ہی کھول جاتا۔ایک دن صبح کو جب بادشاہ دروازہ کھولنے آیا تو یہ دیکھ کر اسے بڑا تعجب ہوا کہ بارہوں لڑکیوں کے جوتے ایک قطار میں رکھے ہوئے ہیں، ہر جوتے کی ایڑی گھسی ہوئی ہے۔ جوتے گرد میں اٹے ہوئے ہیں۔ بادشاہ سمجھ گیا کہ لڑکیاں ضرور رات کو کہیں گئی تھیں مگر لڑکیاں کیوں کر باہر گئیں؟ یہ اس کی سمجھ میں نہ آیا اور لڑکیوں سے پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔ آخر اس نے اعلان کیا کہ جو کوئی بھی معلوم کرے گا کہ شہزادیاں رات کو کہاں جاتی ہیں؟ اس کی شادی اس شہزادی سے کی جائے گی جسے وہ پسند کرے گا۔ راج پاٹ بھی اسی کو دے دیا جائے گا مگر شرط یہ ہے کہ تین دن کے اندر معلوم کر کے بتلائے، ورنہ پھانسی دے دی جائے گی۔
 کچھ دنوں کے بعد ایک شہزادہ آیا اور اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کیا۔ بادشاہ نے اس کا استقبال بڑی دھوم دھام سے کیا۔ شہزادیوں کا کمرہ دکھلایا۔ کمرے کے پاس ہی شہزادے کے سونے اور رہنے کا انتظام کیا تاکہ نزدیک سے شہزادیوں کی نگرانی اچھی طرح کرسکے۔رات کو شہزادیوں کے کمرے کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا گیا تاکہ شہزادہ ان کے سونے جاگنے کو اچھی طرح دیکھ سکے لیکن ابھی تھوڑی ہی رات گئی تھی کہ شہزادے کی آنکھوں میں نیند بھر آئی اور وہ بے خبر ہوکر سو رہا۔شہزادیاں ہر رات کی طرح اس رات بھی گھومنے گئیں۔ جب صبح سویرے بادشاہ آیا تو اس نے دیکھا کہ لڑکیوں کے جوتوں پر گرد پڑی ہوئی ہے اور ایڑیاں گھسی ہوئی ہیں۔بادشاہ نے شہزادہ سے پوچھا کہ’’بتلاؤ لڑکیاں کہاں گئی تھیں؟‘‘ وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔ دوسری اور تیسری رات کو بھی شہزادیاں گھومنے گئیں اور شہزادہ ہر رات سوتا رہا۔ آخر چوتھے دن شہزادے کو پھانسی دے دی گئی۔س کے بعد بہت سے شہزادے آئے مگر کوئی بھی یہ نہ معلوم کرسکا کہ شہزادیاں کب اور کہاں گھومنے جاتی ہیں؟ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ ایک غریب سپاہی سڑک سے گزر رہا تھا۔ اس نے بھی بادشاہ کا اعلان دیکھا۔ جی میں آیا کہ کسی طرح یہ بھید معلوم ہوجاتا تو زندگی بڑے آرام سے گزرتی لیکن یہ بھید کیسے معلوم ہو ؟یہ اس کی کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ اسی سوچ میں چلا جا رہا تھا کہ ایک بڑھیا ملی، بڑھیا نے پوچھا: ’’سپاہی سپاہی کہاں جارہے ہو؟‘‘
 سپاہی نے کہا: ’’یہ تو مجھ کو بھی نہیں معلوم، مگر دل یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح شہزادیوں کے گھومنے کا بھید معلوم ہو جاتا تو بڑا اچھا ہوتا۔‘‘ بڑھیا نے کہا: ’’یہ کوئی مشکل بات نہیں۔ بس تم ہمّت کر لو تو بیڑا پار ہے۔دیکھو رات کو کھانے کے بعد لڑکیاں شراب بھجوائیں گی، وہ نہ پینا، اس کے پینے سے بڑی گہری نیند آتی ہے۔ تم ہرگز ہرگز شراب مت پینا۔ بستر پر لیٹتے ہی سوتا ہوا بن جانا اور یہ ظاہر کرناکہ تم گہری نیند میں سو رہے ہو تاکہ شہزادیاں نڈر ہو کر گھومنے جاسکیں۔ یہ لبادہ بھی اپنے ساتھ لے جاؤ، اس میں خاص بات یہ ہے کہ جب تم اس کو اوڑھ لو گے تو تمہیں کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا اور تم سب کودیکھ سکتے ہو۔‘‘
 جب بڑھیا سب کچھ سمجھا چکی تو سپاہی کی ہمّت اور بڑھ گئی۔ وہ بادشاہ کے پاس خوش خوش گیا اور کہنے لگا :’’میں معلوم کروں گا کہ شہزادیاں رات کو کہاں گھومنے جاتی ہیں۔‘‘ بادشاہ نے سپاہی کو عمدہ کپڑے پہنائے اور شہزادیوں کے کمرے کے پاس لے جا کراس کے سونے کا کمرہ بتلا دیا۔شام ہوتے ہی ایک شہزادی شراب کا پیالہ لئے ہوئے سپاہی کے پاس آئی اور ہنس کر پینے کو کہا۔ سپاہی نے اپنے حلق کے پاس ایک تھیلی باندھ رکھی تھی۔ سپاہی نے بڑی ہوشیاری سے شراب تھیلی میں انڈیل لی۔ چارپائی پر لیٹتے ہی گہری نیند میں سوتا ہوا بن گیا۔ شہزادیاں یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔
آدھی رات کے قریب شہزادیاں اٹھیں، کپڑے پہنے، بال سنوارے اور گھومنے جانے کے لئے تیار ہوگئیں۔ سپاہی اپنی چارپائی پر لیٹا ہوا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ شہزادیاں ہنستی ہوئیں کمرے سے باہر نکلیں اور گھومنے کے لئے جانے لگیں۔ سپاہی چپکے سے اٹھا۔ لبادہ اوڑھ کر شہزادیوں کے پیچھے ہولیا۔تھوڑی دور چلنے کے بعد سب سے چھوٹی شہزادی بولی:’’مجھے ڈر لگ رہا ہے، نہ جانے آج کیا بات ہے دل خوش نہیں۔‘‘
 بڑی شہزادی نے کہا: ’’تم بس یوں ہی ڈر رہی ہو۔ کوئی بات نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر تمام شہزادیاں ہنستی ہوئی ایک باغ میں پہنچیں۔ باغ کے تمام درحت نہایت خوبصورتی سے برابر لگے ہوئے تھے۔ پتیاں چاندی کی طرح سفید تھیں۔ سپاہی نے ایک درخت سے چھوٹی سی شاخ توڑ لی۔ شاخ توڑنے سے آواز پیدا ہوئی۔ چھوٹی شہزادی سہم گئی اور دوسری بہنوں سے کہنے لگی :’’کیا تم لوگ یہ آواز نہیں سن رہی ہو۔ آج ضرور کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ مجھے تو بڑا ڈر لگ رہا ہے۔‘‘
 بڑی شہزادی نے پھر ہنس کر اس کی بات کو ٹالا اور کہا کہ کچھ نہیں بس تمہیں کچھ وہم ہوگیا ہے۔ چلتے چلتے شہزادیاں دوسرے باغ میں پہنچیں جہاں درختوں کی پتیاں سنہرے رنگ کی تھیں، باغ کے بیچ میں ایک خوبصورت چبوترا بنا ہوا تھا۔ سب شہزادیاں اس پر بیٹھ گئیں۔یہاں بارہ پیالے شربت کے بھرے ہوئے رکھے تھے۔ ہر ایک شہزادی نے ایک پیالہ پیا اور پھر آگے کی طرف چلیں۔ سپاہی نے یہاں بھی ایک ٹہنی توڑی اور ایک پیالہ اٹھاکر لبادہ میں رکھ لیا۔ چھوٹی شہزادی شاخ ٹوٹنے کی آواز پر پھر ڈری اور بڑی شہزادی نے پھر دلاسہ دیا۔تھوڑی دیر کے بعد شہزادیاں ایک دریا کے کنارے پہنچیں جہاں بارہ کشتیاں کنارے پر لگی ہوئی تھیں اور ہر ایک کشتی میں ایک شہزادہ بیٹھا ہوا تھا۔ شہزادیاں ایک ایک کشتی میں بیٹھ گئیں اور دریا کے بیچ میں جاکر موجوں کا تماشا دیکھنے لگیں۔صبح ہوتے ہوتے شہزادیاں واپس آکر اپنی چارپائی پر سو گئیں۔ بادشاہ نے صبح کو شہزادیوں کے گھومنے کا حال سپاہی سے پوچھا۔ سپاہی نے تفصیل سے تمام جگہیں بتلا دیں اور ثبوت کے طور پر درختوں کی شاخیں اور پیالہ پیش کردیا۔ بادشاہ نے لڑکیوں کوبلاکر پوچھا کہ ’’سپاہی جو کچھ کہہ رہا ہے ٹھیک ہے۔‘‘ لڑکیوں نے کہا :’’ہاں سچ ہے۔‘‘بادشاہ نے اپنا مقرر کیا ہوا انعام دینے کا اعلان کر دیا۔ سپاہی نے بڑی شہزادی کو پسند کیا۔ اس سے شادی کر دی گئی اور سپاہی کو سلطنت کا ولی عہد بنا دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK