چورن والے چاچا

Updated: July 03, 2021, 4:00 PM IST | Agency

ربانی میاں اسکول کے قریب چورن فروخت کرتے ہیں۔ وہ پوری دیانتداری سے اپنا کام کرتے ہیں۔ ان کی دیانتداری کی وجہ سے ہر کوئی انہیں پسند کرتا ہے۔ پڑھئے مکمل کہانی:

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

نام تو ان کا ربانی میاں تھا مگر مشہور وہ ’’چورن والے چاچا‘‘ کے نام سے تھے۔ پستہ قد، گندمی رنگت اور کھچڑی جیسے بالوں والے چاچا کے ماتھے پر پڑی بے شمار لکیریں تقدیر سے ہوئی ہاتھا پائی کا فسانہ بیان کرتی ہیں۔ دیکھنے والی آنکھیں فوراً ان کے حالات سے با خبر ہو جاتیں۔ صبح سویرے چاچا جب دودھیا رنگ کے کرتا از ار اور ہم رنگ ٹوپی پہنے سر پر لکڑے کا چوکور خوانچہ اٹھائے اپنی گلی سے نکلتے تو محلے کے بچے اُنہیں دیکھ کر اُن کے پیچھے ہو لیتے۔ اُنہیں انتظار ہوتا کہ چاچا جلد از جلد اپنا خوانچہ اُتارے تاکہ اس میں دھرے نت نئی چیزوں سے وہ لطف اندوز ہو سکیں۔ اُن کے خوانچے میں زیرہ گولی، لال گولیاں (ٹافی)، دھنیا دال، میٹھی املی، مکواس، سونف، چوہے کی..... (میٹھی سونف)، کئی طرح کے چورن، جیلی نما ٹکیاں اور چا ٹن ہوتی تھیں جنہیں بچوں کے ساتھ بڑے بھی شوق سے کھاتے تھے۔  چورن والے چاچا نہ جانے کب اس غریب بستی میں آن بسے تھے۔ اُس وقت اُن کے ساتھ اُن کی بیوی اور گود میں ایک بچی تھی۔ اب تو ماشاء اللہ دوسری بھی جوان ہوچکی ہے۔ مچھلی بازار کے تین رستہ نکڑ پر لگے چاچا کے ٹھیلے سے بچ کر گزرنا مشکل تھا۔ تینوں ہی راستے اہم جو تھے۔ ایک راستہ سیدھا سرکاری اسکول کی طرف جاتا تھا تو دوسرا اسٹیشن کی طرف۔ جبکہ تیسرا راستہ بائیں جانب موڑ کاٹتے ہی ڈاک گھر پہنچا دیتا۔ ان تینوں راستوں پر مسلسل آمدورفت اور چہل پہل رہتی جو دھندہ پانی کرنے والوں کیلئے فائدے مند تھی۔  کبھی کوئی بچہ جلدی میں ہوتا بھی تو چاچا اپنی میٹھی، شیرین زبان میں اُسے روک لیتے۔ ’’ارے راجہ بیٹا! اتنی جلدی جلدی کہاں جا رہے ہو؟ ذرا، ہماری یہ نئی کھٹی میٹھی گولی تو چکھ کر دیکھو۔ گرمی میں نہ زبان سوکھے گی اور نہ ہی پیاس لگے گی۔ پیسے کی فکر مت کرنا! آج نہیں تو کل دے جانا۔ ‘‘ اور چاچا کی اتنی رس بھری باتوں کے ساتھ کھٹی میٹھی گولیاں منہ میں پانی بھر لانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتی۔ جس کے عوض منّے راجہ ایک کی جگہ دو گولیاں خرید کر کھا لیتے۔ خوش ہو کر چاچا اُسے ایک آدھ زیرہ گولی تھما دیتے جو اگلی بار بلانے کا حربہ ہوتا۔ 
 وہ بڑے اُصول پسند تھے۔ ان کے زرین اصولوں میں سب سے پہلا اصول زبان میں حلاوت کا ہونا ہے۔ اس کے بعد پوری ایمانداری شرط تھی۔ اپنی شرافت کے سبب وہ کبھی کبھی مات بھی کھا جاتے۔ ان کے ساتھ دھندہ کرنے والوں میں، شرفو، کلیم، رحیمی اور جمن کاکا شامل تھے۔ سب اپنی اپنی بساط بھر چیزیں بیچتے۔ شرفو بڈھی کے بال (کینڈی فلوس) بیچتا تو رحیمی برف کے گولے فروخت کرتا۔ وہیں کلیم کھوپرے اور سینگ کی ٹافیاں اور جمن کاکا غبارے بیچ کر گھر بار چلاتے تھے۔ خالی وقت میں وہ اکثر ایک دوسرے سے گپ شپ کر لیتے۔
 سبھی چورن والے چاچا کی سادگی اور شرافت سے واقف تھے۔ وہ اکثر اُنہیں سمجھاتے کہ اگر اس طرح دھندہ کرو گے تو کماؤ گے کیسے؟ گھر کس طرح چلے گا۔ اس پر وہ ہنس کر کہتے ’’وہ مسب الاسباب ہے۔ پتھر میں موجود کیڑے کو رزق پہنچاتا ہے۔ ہم بھی تو اسی کے بندے ہیں۔ ‘‘ کبھی کبھی وہ سب مل کر ان کی کھینچائی بھی کرتے ’’ربو میاں! تم تو لاکھ کے بارہ ہزار کر کے رہوگے....‘‘ شرفو نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔  ’’ہاں نہیں تو کیا.... کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنا....‘‘ سب کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ ’’شام کو گھر واپسی پر بھابھی جی خوب آؤ بھگت کریں گی۔ ‘‘ رحیمی نے تکا لگایا۔ ’’آج تو گھر میں داخل ہونا بھی مشکل نظر آرہا ہے۔ ‘‘ بیچارے چاچا محاوروں کی زبان کیا خاک سمجھتے۔ دوستوں کی ہنسی سے محظوظ ہوتے ہوئے بھابھی جی کے ذکر پر شرما کر رہ گئے۔ یہی ساتھی ان کے دوست، غمخوار، ہمدرد سب کچھ تھے۔   شام کو گھر کے باہر کھاٹ پر بیٹھے پاس پڑوس اور اطراف کے لوگوں میں گھرے ہلکی پھلکی گپ شپ میں مصروف رہتے۔ مغرب کی نماز کے بعد کھانا تناول فرماتے اور پھر باہر چبوتر ہے پر ہی چٹائی بچھا کر سو جاتے اور تیسرے پہر مُرغے کی پہلی بانگ پر ہی جاگ بھی جاتے۔ اُن کی زندگی کے یہی معمولات تھے۔ 
 کچی کھولی بیوی اور دو جوان بیٹیوں کے لئے تو کافی تھی مگر اُن کی موجودگی میں چھوٹی پڑنے لگتی۔ چونکہ وہ خود چھوٹے تھے ایسے میں بڑے خواب کیسے دیکھتے۔ تین سڑکوں کے مرکز پر ٹھیلہ لگانے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہر آنے جانے والے اور ملنے ملانے والوں سے ان کی شناسائی ہونے لگی۔ کبھی کبھی تو ڈاکیہ حضرات کو بھی ان کی رہنمائی درکار ہوتی۔ علاقے میں ایسا شاید ہی کوئی ہو جو چورن والے چاچا کو نہ جانتا ہو۔ اُن کی انسان دوستی کی کہانی بھی خوب ہے۔ 
 ہوا کچھ یوں کہ چاچا کے پڑوس میں رہنے والے بابو بھائی کا بھتیجا اُن سے ملنے شہر سے آیا۔ گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ تھی۔ چاچا اپنی روزی روٹی کی خاطر میونسپل اردو اسکول کے باہر کھڑے اسکول ختم ہونے کا اور بچّوں کے چھوٹنے کا اِنتظار کر رہے تھے۔ مارے گرمی کے پسینہ بہہ بہہ کر اُن کی کانوں کی لوؤں کو گیلا کر رہا تھا جسے اپنے کندھے پر رکھے گمچھے سے وہ شوشو کی آوازوں کے ساتھ صاف کرتے جا رہے تھے۔ قریب کھڑے گولے والے رحیمی سے اُنھوں نے ایک ٹکیا برف مانگ لی۔ اب اُنہوں نے برف کی ٹکیا کو اپنے ملگجے رومال میں لپیٹ کر سر پر رکھ لیا تھا۔ جس سے دھوپ کی شدت سے تمتماتے چہرے پرہلکی راحت کے آثار پیدا ہو رہے تھے۔ پیٹ کی آگ کی تپش، اس تپش کے آگے ہیچ تھی۔ 
 ’’یہ بابو بھائی کا گھر کہاں ہے؟ ‘‘ سوکھا، مریل شخص جو بڑی دير سے خود کو تقریباً گھسیٹتے ہوئے یہاں تک پہنچا تھا اور جسے چاچا بھی قریب آتا دیکھ رہے تھے۔ بے بسی اور لاچارگی کی سی کیفیت میں آنیوالے شخص نے ان سے پوچھا۔ گرمی، دھوپ اور سفر کی تھکان اُس کے جسم کے ساتھ اُس کے چہرے سے بھی عیاں ہو رہی تھی۔ 
 ’’کس بابو بھائی کی بات کر رہے ہو، بھائی؟ یہاں تو تین چار بابو بھائی ہے۔ ایک بابو بھائی تو ہمارے محلّے میں ہی ہے۔ ‘‘ چاچا نے مخاطب کو سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے کہا۔ 
 اسکول چھوٹنے میں اب چند منٹ ہی باقی تھے۔ ایسے میں انجان آدمی کی آمد انہیں نا گوار محسوس ہو رہی تھی۔ آخر اُن کی بکری کا ٹائم تھا۔  ’’وہ جن کے تین بچے ہیں.... بڑا بیٹا شادی شدہ ہے۔ اس کی دو لڑکیاں ہیں.... چھوٹا بیٹا....‘‘  ’’بس بس! ہم سمجھ گئے۔ یہاں سے سیدھا چلے جائیں۔ آگے پہلا دایاں موڑ آئے تو مڑ جایئے گا۔ بائیں گلی میں تیسرا گھر....‘‘ اور اِس سے پہلے کے چاچا اپنی بات مکمل کرتے وہ شخص چکرا کر گر پڑا۔ اسکول کی گھنٹی بج چکی تھی۔ جسے چاچا سننے سے قاصر رہے۔ اس وقت اُن کے دماغ میں کئی طرح کی گھنٹیاں بج رہی تھی۔ بچے خوانچے کے اطراف کھڑے چیخ و پکار کر رہے تھے۔ ہر بچہ جلدی مچا رہا تھا۔
 ’’رحیمی! ذرا میرا خوانچہ دیکھنا!‘‘ کہتے ہوئے چاچا نے آنے والے مسافر کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ پھر برق رفتاری سے اسے قریب رکھے خالی ٹھیلے پر ڈالا اور تقریباً دوڑتے ہوئے قریب کے سرکاری اسپتال لے گئے۔ ڈاکٹر نے معائنے کے بعد واضح کیا کہ وہ گرمی اور تھکان کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے تھے۔ گھبرانے کی بات نہیں۔ اس دن چاچا کے خوانچے کا جو حال ہوا سو ہوا مگر سب کی نظر میں چاچا کا وقار خوب بڑھا۔ کئی دنوں تک ہر کس و ناکس کی زبان پر انہی کا ذکر تھا۔ شادی بیاہ، خوشی غمی ہر جگہ چاچا نظر آنے لگے۔ اتنا ہی نہیں چاچا کو غریبی کے چنگل سے نکالنے کیلئے چند ہاتھ بھی آگے بڑھنے لگے۔
 اب مچھلی بازار کے تین راستوں کے نکّڑ پر چورن کا ٹھیلہ نہیں بلکہ چورن والے چاچا کی دکان سجتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK