ضمیر

Updated: April 17, 2021, 3:44 PM IST | Mayal Khairabadi

سدّو، صدیق بھائی کی دکان سے تیل لانے جاتا ہے مگر صدیق بھائی سدّو کو دکان سنبھالنے کا کہہ کر نماز پڑھنے چلے جاتے تھے۔ اتنی دیر میں سدّو کی نیت بدل جاتی ہے اور وہ چوری کا ارادہ کر لیتا ہے۔ پڑھئے مکمل کہانی

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

’’اچھا بس کہانی ختم.... اب جاؤ، سو رہو....‘‘ امّی جان نے کہا اور ہم سب اٹھے اپنی اپنی چارپائی پر جا لیٹے۔ سدّو بھی جاکر لیٹ گیا۔ امّی بھی اپنی چارپائی پر جا بیٹھیں۔ ایک نظر ہم سب پر ڈالی اور لیٹ گئیں۔ اچانک سدّو اٹھ کر اپنی چارپائی پر بیٹھ گیا اور امّی جان کی طرف دیکھ کر بولا ’’امّی جان! دیکھئے تو، ہمارے اندر بھی ایک آدمی ہوتا ہے۔‘‘
 ’’ارے واہ!‘‘ ہم سب کی زبان سے نکلا۔
 اس نے پھر کہا ’’سچ مچ امّی جان! ہمارے اندر ایک آدمی ہوتا ہے!‘‘ دوسری بار کہا تو امّی نے پوچھا ’’اس کا نام کیا ہے؟‘‘ ’’نام تو مجھے نہیں معلوم لیکن ہوتا ہے۔‘‘ سدّو نے جواب دیا۔ ’’امّی! یہ یوں ہی بے سر پیر کی بات کرتا ہے۔‘‘ صفّو باجی نے لیٹے لیٹے کہا اور سدّو جھنجھلا گیا۔ بولا ’’آج اس اندر کے آدمی نے بات کی تھی۔‘‘ ’’بات کی تھی؟‘‘ امّی جان نے تعجب کے ساتھ کہا اور ہم سب بھی کبھی امّی کا منہ تکتے اور کبھی سدّو کو دیکھتے۔
 ’’کیا بات کی تھی؟‘‘ امّی نے سدّو سے پوچھا۔
 ’’امّی! بات ایسی ہے کہ مَیں بتانا نہیں چاہتا آپ خفا ہوں گی۔‘‘
 ’’بتاؤ تو، دیکھوں بات کیا ہے۔‘‘
 ’’چوری کی بات ہے امّی!‘‘
 ’’چوری کی!‘‘ اب تو ہم سب اپنی اپنی چارپائی پر اُٹھ کر بیٹھ گئے۔ ہم سمجھ گئے کہ آج سدّو جھوٹ بکے گا۔ لیکن بات ہوگی مزیدار۔
 امّی نے کہا ’’اچھا سناؤ.... سنوں تو، کیا ہوا۔ کیا تم نے آج چوری کی؟‘‘
 ’’نہیں امّی چوری تو نہیں کی لیکن آج میرا ایمان خراب ہوگیا تھا۔‘‘
 ’’کیسے؟‘‘
 ’’وہ ایسے امّی! آج آپ نے تیل لینے بھیجا تھا نا! تو مَیں گیا۔ صدیق بھائی دکان پر بیٹھے تھے۔ مَیں نے ان سے کہا ایک روپیہ کا تیل دے دیجئے۔ انہوں نے مجھے تیل دیا اتنے میں عصر کی اذان ہونے لگی۔ انہوں نے مجھ سے کہا ’’سدّو بیٹے! ذرا دیر دکان پر بیٹھے رہو مَیں نماز پڑھ کر آتا ہوں۔‘‘ ’’امّی! مَیں دکان پر بیٹھ گیا۔ صدیق بھائی اٹھ کر چلے گئے انہوں نے صندوقچی میں قفل بھی نہیں لگایا۔ جب انہوں نے میرا والا روپیہ صندوقچی میں رکھا تھا تو مَیں نے دیکھا تھا.... صندوقچی میں ڈھیروں نوٹ تھے۔‘‘
 ’’اچھا! تو وہیں تیری نیت خراب ہوگئی تھی۔‘‘
 ’’ہاں امّی! مگر سنئے تو میری نیت خراب ہوگئی تھی مگر مَیں نے چوری نہیں کی۔‘‘
 ’’تو کیسے بچ گیا؟‘‘
 ’’امّی جان! اسی میرے اندر کے آدمی نے بچا لیا۔‘‘ ’’ارے واہ! پھر وہی بات!‘‘ ہم سب اپنی اپنی چار پائی پر بیٹھے بیٹھے سوچتے رہے۔ اب تو ہم سب کو کہانی کا مزہ آنے لگا۔ امّی جان نے پوچھا ’’اس نے کیسے بچا لیا؟‘‘
 ’’اس نے ایسے بچا لیا امّی! کہ پھر وہ جو ڈھیروں نوٹ مَیں نے دیکھے تھے نا! تو مَیں نے سوچا کہ ایک مٹھی نکال کر جیب میں رکھ لوں۔ مَیں نے صندوقچی کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اِدھر اُدھر دیکھا کہ کوئی میری طرف دیکھ تو نہیں رہا ہے۔‘‘ ’’مگر یہ تو بھول گیا کہ اللہ میاں تو دیکھ رہے ہیں۔‘‘
 ’’ہاں امّی! یہ تو معلوم تھا لیکن اس وقت میں سب کچھ بھول گیا۔ اللہ بھلا کرے میرے اندر کے آدمی کا۔ اس نے جیسے ہی صندوقچی کی طرف میرا ہاتھ بڑھتے دیکھا۔ پکارا: ’’سدّو! بری بات! چوری کرنا بری بات ہے۔‘‘میرا ہاتھ جھٹ سے سمٹ گیا۔ پہلے تو مَیں سمجھا کہ پاس والا دکاندار روک رہا ہے مگر اس وقت پاس والا دکاندار اپنے گاہکوں کو سودا دے رہا تھا۔ مَیں نے سوچا کہ پھر کس نے مجھے ٹوکا۔
 مَیں نے سوچا کہ شاید ڈر کی وجہ سے آپ سے آپ میرے کان بجے۔ مَیں نے پھر صندوقچی کی طرف ہاتھ بڑھایا اور ذرا سا اس کی طرف کھسک بھی گیا اچانک پھر مَیں نے سُنا۔ ’’سدّو میاں کیا کرتے ہو۔ تمہاری امّی نے بتایا ہے کہ چوری کرنا گناہ ہے چوری کرنے والے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتے ہیں۔‘‘
 مَیں پھر ڈر گیا۔ مَیں پھر اپنی جگہ بیٹھ گیا اور اب سوچنے لگا کہ یہ آواز تو میرے جسم کے اندر سے آرہی ہے۔ ’’کسی اور نے بھی یہ آواز سنی؟‘‘ رفّواپیا نے اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے پوچھا۔
 ’’نہ، وہ آواز ایسی تھی کہ میرے سوا کوئی سُن بھی نہیں سکتا تھا۔ تعجب کی بات یہ تھی کہ میرے اندر کا آدمی مجھے ٹوک کر چُپ ہوجاتا تھا۔
 ’’تیسری بار مَیں نے دل کو پکّا کرکے صندوقچی میں ہاتھ ڈال دیا۔ اچانک میرا دل دھڑکا اور پھر میرے اندر کے آدمی نے اس زور سے مجھے ڈانٹا کہ مَیں کانپ گیا۔ اس نے کہا ’’کیا کرتے ہو سدّو میاں! اللہ سے ڈرو۔ وہ دیکھ رہا ہے۔‘‘
 یہ ڈانٹ سن کر مَیں نے صندوقچی بند کر دی۔ اپنی جگہ آبیٹھا لیکن مَیں بیٹھا بیٹھا کانپ رہا تھا۔ اتنے میں صدیق بھائی آگئے پوچھا ’’کوئی سودا لینے آیا تھا کہ نہیں؟‘‘
 مَیں نے جواب دیا ’’کوئی نہیں آیا تھا۔‘‘
 ’’اچھا بیٹے! اب تم جاؤ۔‘‘
 صدیق بھائی نے مجھ سے کہا اور مَیں چلا آیا۔ بس تب سے یہی سوچ رہا ہوں کہ میرے اندر ایک آدمی ضرور ہے جو مجھے برائیوں پر ٹوکتا ہے۔ امّی جان! یہ آدمی کون ہے؟‘‘
 امّی جان نے بتایا ’’بیٹا! اس کا نام ضمیر ہے۔ ضمیر نام کا آدمی ہر آدمی کے اندر ہوتا ہے۔ جو لوگ اس کا کہنا مانتے ہیں وہ نیک بن جاتے ہیں جو لوگ بار بار اس کے ٹوکنے نہیں مانتے تو یہ آدمی کمزور ہو جاتا ہے اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب یہ بالکل نہیں ٹوکتا، جب یہ نہیں ٹوکتا.... تو لوگوں کے دلوں سے نیکی کا خیال نکل جاتا ہے اور وہ بُرے بن جاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں سے اللہ تعالیٰ سدا کے لئے ناراض ہوجاتے ہیں تم سب اللہ کا شکر ادا کرو کہ تم سب کا ضمیر زندہ ہے۔ اچھا! اب سوجاؤ۔‘‘
 ہم سب پھر لیٹ گئے۔ اور نیند کی گود میں جاپہنچے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK