عید کا جوڑا

Updated: May 08, 2021, 4:43 PM IST | Mayal Khairabadi

سعید عید سے قبل اپنے والد کے ساتھ بازار جاکر اپنے پسند کی پھولوں والی ٹوپی اور جوتے لینے کی ضد کرتا ہے اور اس کے والد اس کی ضد پوری کر دیتے ہیں۔ لیکن عید کا جوڑا، رومال، ٹوپی اور جوتے ملنے کے بعد وہ اُداس ہوجاتا ہے کیوں؟ پڑھئے مکمل کہانی:

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

’’....مَیں یہ ٹوپی تو نہیں، یہ پھولوں والی ٹوپی لوں گا!‘‘
 ’’اچھا بھئی یہی لے لو۔‘‘ اور ابّا جان نے پھولوں والی ٹوپی سعید کو خرید دی۔ وہاں سے اُٹھے تو ہم سب جوتوں کی دُکان پر گئے۔ وہاں بھی سعید نے نہ جانے کتنے جوڑے نکلوا کر ایک پسند کیا اور اسی پر اڑ گیا۔ ابّا جان نے اس کو پسند کا جوتا بھی لے دیا۔
 عید کے کئی دن باقی تھے۔ سعید کُرتا، ٹوپی، رومال وغیرہ کے لئے ایک شور مچائے ہوئے تھا۔ لیکن جب اس کے لئے یہ سب کچھ آگیا اور اس نے دیکھ بھال کر خوشی خوشی رکھ بھی لیا تو دوسرے دن سے نہ جانے کیوں اُداس رہنے لگا۔ مَیں نے اُسے چُپ چُپ دیکھا تو اُمّی جان سے ذکر کیا۔ انہوں نے ابّا جان سے کہا۔ سب نے مل کر سوچا مگر کوئی بات نہ سمجھ سکا کہ سعید نے اپنی پسند کی چیزیں پانے پر کیوں چُپ سادھ لی ہے اور کیوں اتنا اُداس رہنے لگا ہے۔
 دو ایک بار مَیں نے پوچھا بھی لیکن وہ کچھ نہ بولا۔ آخر ایک دن امّی جان نے بہلا پھسلا کر پاس بٹھایا۔ بولیں ’’سعید میاں.... کی ٹوپی سب سے اچھی ہے، ہے نا سعید میاں....!‘‘ لیکن سعید نے کوئی دلچسپی نہ لی۔
 اب مَیں نے کہا ’’جوتا بھی تو بھڑک دار ہے۔ اس میں موتی بھی تو ٹکے ہیں۔‘‘ میری بات سنی تو کھسیانی ہنسی ہنستے لگا۔
 اب راشدہ باجی کی باری تھی انہوں نے کہا ’’اور مَیں نے سعید میاں کا رومال کیسا اچھا کاڑھا ہے، کیسے کیسے رنگ برنگے پھول بنائے ہیں۔‘‘
 اس کے بعد ابّا جان نے پھر کچھ کہا، پھر چھوٹی اپیا نے پھر پھوپھی جان نے۔
 سعید اس طرح کی باتوں سے ہمیشہ خوش ہوتا تھا اور سب سے زیادہ اپنی چیزوں کی تعریف کرتا تھاا ور کسی کو ہاتھ لگانے نہ دیتا تھا۔ لیکن آج پہلے تو سُن کر اداس اُداس ہنسی ہنسا پھر نہ جانے اسے کیا سوجھی وہ اٹھا جلدی جلدی گیاا ور اپنا عید کا جوڑا لاکر امّی جان کے آگے ڈال دیا۔
 ساتھ ہی بولا:
 ’’مَیں نہیں پہنتا یہ جوڑا۔‘‘ اور پھر رونے لگا۔
 اب تو ہم سب کو بڑی پریشانی ہوئی اس وقت خفگی کی کوئی بات بھی نہ تھی۔ چھوٹی اپیانے بھی اسے نہ چھیڑا تھا۔ لیکن آخر کچھ نہ کچھ ہوا ہوگا۔ مجھ سے پوچھا گیا۔ باجی سے اپیا سے سب سے ابّا جان نے پوچھا۔ کوئی کچھ نہ بتا سکا۔ تو ابّا جان نے پیار کے ساتھ کہا ’’ہم اس سے اچھا جوڑا سعید میاں کو بنوا دیں گے۔‘‘
 سعید کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
 ابّا جان نے کچھ سوچ کر کہا ’’ہاں بیٹے بتاؤ نا، اس جوڑے کو کیا کرو گے؟‘‘
 سعید نے ابّا جان کو دیکھا ’’بتاؤں؟ ....اچھا نہیں بتاؤں گا۔‘‘
 اب سب لوگ سمجھ گئے کہ بس اسی بات میں کوئی بات ہے۔ امّی جان نے اسے چمکارا اور پھر پوچھا ’’ہاں بیٹے! یہ جوڑا....‘‘ وہ پوری بات نہ کہہ سکی تھیں کہ سعید میاں بیج ہی میں بول اٹھے:
 ’’امّی! پھر یہ جوڑا راشد کو دے دوں؟‘‘
 ’’کون سے راشد کو؟‘‘ ابّا جان نے پوچھا۔
 ’’ابّا جان! میرا دوست راشد۔ وہ جو کل آیا تھا۔ مَیں نے اسے اپنی ٹوپی دکھائی۔ رومال دکھایا، کرتا دکھایا، وہ بیٹھا دیکھتا رہا۔ پھر مَیں نے اس سے پوچھا ’’راشد تمہارا جوڑا کیسا بنا؟‘‘ میرے یہ پوچھنے پر وہ رونے لگا۔‘‘
 ’’اچھا یہ بات ہے۔‘‘ ہم لوگ سمجھ گئے.... راشد بے چارہ یتیم بچہ.... اس غریب کو کس نے جوڑا بنا کے دیا ہوگا، بس اسی کا اتر ہے سعید پر۔
 پھر کیا تھا۔ ایک چھوٹے سے بچے کی اس ذرا سی بات کو ہم بڑوں نے بہت کچھ سمجھ لیا۔ پھر باجی نے، اپیا نے مل کر جلدی جلدی کرتا، رومال اور پائجامہ تیار کیا۔ ابّا جان ٹوپی اور جوتا لائے۔ پھر....؟
 ....پھر کچھ نہ پوچھئے سعید کی خوشی! عید میں جب راشد نے سعید میاں کے ساتھ جوڑا پہنا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سعید میاں کو جنّت مل گئی اور سعید میاں ہی کو کیا ہمیں بھی عید کی سچی خوشی اس دن ہوئی۔ ہم سب نے سعید میاں کو خوب دعائیں دیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK