EPAPER
Updated: April 13, 2026, 7:51 PM IST | New York
ٹیک ارب پتی ایلون مسک کے حالیہ بیان نے کووڈ ۱۹؍ ویکسین کی حفاظت پر دوبارہ عالمی بحث چھیڑ دی ہے۔ مسک نے ایک وائرل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین کی دوسری خوراک کے بعد انہیں شدید ردعمل محسوس ہوا۔ ویڈیو میں سابق ٹاکسیکولوجسٹ ہیلمٹ سرگئی کے متنازع دعوے شامل ہیں، جنہیں صحت کے حکام نے مسترد کر دیا۔ فائزو اور دیگر عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ ویکسینز سخت کلینیکل ٹرائلز کے بعد منظور کی گئیں اور ان کی حفاظت پر سائنسی اتفاق موجود ہے۔
ٹیک ارب پتی ایلون مسک کی جانب سے ایک متنازع بیان نے ایک بار پھر کووڈ ۱۹؍ ویکسین کی حفاظت کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث کو ہوا دے دی ہے۔ مسک نے ایک وائرل ویڈیو کلپ شیئر کیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ویکسین کی دوسری خوراک لینے کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا ’’جیسے وہ مر رہے ہوں۔‘‘ اس بیان نے سوشل میڈیا پر تیزی سے توجہ حاصل کی اور مختلف حلقوں میں بحث کو جنم دیا۔
The vaccine dosage was obviously too high and done too many times.
— Elon Musk (@elonmusk) April 12, 2026
I had the original Wuhan virus before there was any vaccine and it was much like any other cold/flu. Bad, but not terrible.
But my second vaccine shot almost sent me to the hospital. Felt like I was dying. https://t.co/rFuUpzBkKH
یہ ویڈیو سابق فارماسیوٹیکل ٹاکسیکولوجسٹ ہیلمٹ سرگئی کی جرمن پارلیمنٹ میں دی گئی گواہی پر مبنی ہے، جس میں انہوں نے ایم آر این اے ویکسینز، خصوصاً کومیرنیٹی، کی منظوری کے عمل پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حفاظتی مطالعات مکمل نہیں کیے گئے اور ویکسین سے متعلق اموات کی اصل تعداد رپورٹ شدہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
سرگئی، جو ماضی میں فائزو اورروشے جیسے اداروں سے وابستہ رہے، نے اپنی گواہی میں جرمنی کے پال ایلرک انسٹی ٹیوٹ کے ڈیٹا کا حوالہ دیا، جس میں ویکسینیشن کے بعد رپورٹ ہونے والی اموات شامل تھیں۔ تاہم انہوں نے ان اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا بھی دعویٰ کیا، جسے ماہرین نے سائنسی طور پر غیر مستند قرار دیا۔ دوسری جانب جرمن وزیر صحت کارل لوٹر بیک نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ویکسینیشن کے بعد رپورٹ ہونے والی اموات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ویکسین کی وجہ سے ہوئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر کیس کی سائنسی بنیاد پر جانچ کی جاتی ہے اور وجہ و اثر کا تعلق ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا الزام: امریکہ نے اسلام آباد معاہدہ سبوتاژ کیا، کشیدگی بڑھ گئی
عالمی سطح پر صحت کے ادارے، بشمول امریکہ اور یورپ کے ریگولیٹرز، بارہا اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ کووڈ ۱۹؍ ویکسینز کو منظوری دینے سے پہلے وسیع پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز کیے گئے تھے، جن میں ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار افراد شامل تھے۔ ان مطالعات نے ویکسینز کی حفاظت اور مؤثریت کو ثابت کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین کے بعد کچھ افراد میں عارضی ضمنی اثرات جیسے بخار، تھکن یا جسم میں درد عام بات ہے، لیکن سنگین ردعمل انتہائی نایاب ہیں۔ ان تمام حالات میں مسک کے بیان نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور سائنسی حقائق کے درمیان فرق کو نمایاں کر دیا ہے، جہاں ماہرین مسلسل عوام کو مستند معلومات پر انحصار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔