فوزیہ اور ناہید کی شامت

Updated: September 24, 2022, 12:37 PM IST | Wasia Irfana | Mumbai

فوزیہ اور ناہید، دونوں بہنیں ایک موٹی خاتون کا مذاق اڑاتے ہیں۔ موٹی خاتون اس وقت انہیں گھور کر رہ جاتی ہے۔ ایک دن اچانک ان کا آمنا سامنا ہوتا ہے اور

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

’’ارے، انہیں تو دیکھو ذرا....‘‘ مَیں نے ناہید کو ٹہوکا دیا۔ ایک کافی سے زیادہ لحیم شحیم عورت اندر داخل ہو رہی تھی۔ ’’باپ رے.... یہ تو پورا چلتا پھرتا پہاڑ ہیں....‘‘ ناہید حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر بولی۔ ’’یہ کرسی میں کیسے سما سکیں گی؟‘‘ مجھے تشویش تھی۔ ’’توبہ کرو.... کرسی تو ٹوٹ جائے گی۔ ان کیلئے ایک الگ صوفہ ہونا چاہئے۔ وہ دیکھو.... ارے.... وہ تو بیٹھ بھی گئیں۔‘‘ ہال میں جتنی عورتیں بیٹھی تھیں سب حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھیں کچھ مسکرا رہی تھیں لیکن وہ سب سے لاپروا ہو کر اپنا پرس کھول کر اُس میں سے الائچی نکال کر چھیلنے لگیں۔ ہم نے اپنی عمر میں پہلی بار اتنی موٹی عورت دیکھی تھی۔ وہ بقول ناہید کے واقعی چلتا پھرتا پہاڑ معلوم ہوتی تھیں۔ لائٹ بجھ گئی۔ وہ پکچر دیکھنے لگیں۔ لیکن ہم دونوں بار بار انہیں دیکھ رہے تھے۔ ایسا عجوبہ کبھی دیکھنے کو کہاں ملے گا؟ ہم دونوں دو چار سیٹیں پھلانگ کر بالکل اُن کے سر پر پہنچ گئے۔ ’’ناہید، تم نے کبھی سند باد جہازی کے پرندے کا رُخ کا انڈا دیکھا ہے؟‘‘ مَیں نے اتنی اونچی آواز سے کہا کہ وہ اچھی طرح سن لیں۔ ’’پہلے تو نہیں دیکھا تھا لیکن اتفاق سے.... آج نظر آگیا۔‘‘ ناہید نے بھی اتنی ہی اونچی آواز میں جواب دیا۔ ’’یہ آج ہی معلوم ہوا کہ.... وہ پرندہ اور اُس کا انڈا فرضی نہیں بلکہ اصلی تھا....‘‘ مَیں نے پھر کہا۔ ہمارے پاس بیٹھی ہوئی دو تین لڑکیاں کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔ انٹرول ہوا.... انہوں نے پیچھے مڑ کر ہمیں گھور کر دیکھا، پھر انجان بن گئیں۔ آخر خدا خدا کرکے پکچر ختم ہوئی.... آج سے پہلے ہمیں کوئی کھیل اتنا دلچسپ نہیں معلوم ہوا تھا۔ حالانکہ ہم نے کھیل کم دیکھا تھا اور اُس آٹھویں عجوبہ کو زیادہ.... ہم دونوں باہر ان کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن ہم دونوں کو یہ دیکھ کر بے حد حیرت ہوئی کہ وہ بڑی پھرتی اور تیزی سے آرہی ہیں۔ ہم تو سمجھے تھے کہ قلابازیاں کھاتی ہوئی چلیں گی۔ ’’چلو... دیر ہو رہی ہے۔‘‘ مَیں نے ناہید کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹا۔ ’’ذرا ٹھہرو، انجام بھی دیکھ لیں۔ یہ رکشا پر کیسے سوار ہوتی ہیں دیکھیں گے۔‘‘ ناہید بولی۔ ’’وہی رکشا والا انہیں لے جائے گا جسے اپنا رکشا توڑنا مقصود ہو، یا پھر... انہیںد و قسطوں میں لے جانا پڑے گا۔‘‘ ’’کیا ہوا؟ آدھے راستے میں اُتر کر خود رکشا کھینچنے لگیں گی۔‘‘ ناہید ہنس پڑی۔ ابھی ہم بکواس ہی کر رہے تھے کہ ایک نفیس اور شاندار کار آکر اُن کے قریب ٹھہر گئی پھر باوردی ڈرائیور نے اُتر کر دروازہ کھولا اور وہ محترمہ تیزی سے چلتی ہوئی، ایک گہری نگاہ ہم پر ڈال کر کار میں بیٹھ گئیں۔ کار ایک زنّاٹے سے ہمارے پاس سے گزر گئی۔ کار کے اندر سے بھی وہ قہر آلود نظروں سے ہمیں گھور رہی تھیں۔ دوسرے دن امی کو بڑی تیزی سے گھر کی صفائی کرتے دیکھ کر ہم ذرا چکرائے۔ ’’کون آرہا ہے امی؟‘‘ مَیں نے پوچھا۔ ’’تمہارے کالج کی جو نئی پرنسپل آئی ہیں۔ وہ میری بچپن کی دوست ہیں۔ آج مَیں نے انہیں مدعو کیا ہے۔ تم لوگ بھی اپنے کمرے، کتابیں وغیرہ صاف کو لو۔ ممکن ہے وہ تمہارا ٹیسٹ لیں....‘‘ ہم خوشی سے اُچھل پڑے۔ امی کی دوست؟ اور وہ بھی ہمارے کالج کی پرنسپل صاحبہ.... جن کا صرف چرچا سنا تھا ابھی تک کسی نے انہیں دیکھا نہیں تھا۔ تعطیلات کے فوراً بعد ان کا تقرر ہوا تھا۔ ہم لوگوں کو خوشی اس بات کی تھی کہ جب وہ امی کی دوست ہیں تو ہمارے لئے ہر قسم کی آسانیاں ہیں جو جی چاہے کریں کوئی روک ٹوک کرنے والا نہ ہوگا۔ امی بار بار نصیحت کر رہی تھیں ’’ان سے تمیز سے بات کرنا، ادب سے پیش آنا، نگاہ نیچی رکھنا تاکہ وہ تم دونوں سے متاثر ہو کر جائیں.... یہ نہیں کہ شریر بدتمیز چھوکریوں کی طرح ادھم مچاتی ہوئی آؤ۔‘‘ ہم نے امی کو یقین دلا دیا کہ جیسا آپ کہہ رہی ہیں ہم بالکل ویسا ہی کریں گے۔ جھٹ پٹ ہم نے پورے گھر کو آئینہ بنا دیا۔ جلدی جلدی اپنی کتابوں وغیرہ کو صاف کیا، تاکہ اگر وہ دیکھنا چاہیں تو ہماری خوش سلیقگی کا پہلے ہی رعب پڑ جائے۔ اس درمیان ہم لوگوں کا خاص موضوع رات والی صاحبہ بھی تھیں جن کا تذکرہ کر کرکے ہم کئی بار بے ساختہ ہنس پڑتے تھے۔
 تھوڑی دیر کے بعد زنانہ ڈرائنگ روم سے امی کے اور ان کے قہقہے سن کر ہم لوگ اچھل پڑے۔ دل بڑی زور سے دھک دھک کرنے لگا۔ پرنسپل کا تصور، امی کی سہیلی ہونے کے باوجود بھی بڑا ہیبت ناک تھا۔ غائبانہ ہی اُن کا رعب دل پر بیٹھا جا رہا تھا.... ہماری پہلے کی پرنسپل تو ایسی تھیں کہ ان کی آواز سن کر ہی کپکپی طاری ہو جاتی تھی۔ خدا جانے یہ کیسی ہوں؟ کئی دفعہ امی کے بلانے پر ہم ڈرتے، دبکتے اور سہمتے ہوئے ڈرائنگ روم میں گئے۔ ہمارے سر جھکے ہوئے تھے، ہاتھ اور پاؤں کانپ رہے تھے۔ امی کی آواز آئی، ’’یہ میری لڑکی فوزیہ ہے اور وہ میری بہن کی بچی ناہید، جسے تعلیم کےخیال سے مَیں نے اپنے پاس بلا لیا ہے!‘‘ ’’اچھا! تو یہ تمہاری لڑکیاں ہیں؟‘‘ انہوں نے ایک لمبی سانس چھوڑ کر بڑے طعن سے پوچھا۔ ’’کیوں؟ کیا تم انہیں پہچانتی ہو؟‘‘ امی حیرت سے بولیں۔ ’’ہاں! مَیں ان سے مل چکی ہوں....‘‘ ان کا یہ جواب سن کر ہم نے چونک کر انہیں دیکھا اور پھر.... ان کی صورت اور طول و عرض پر نظر پڑتے ہی ہماری آنکھوں کے سامنے چاند سورج ستارے سبھی گھوم گئے۔ ہمارے منہ سے ایک دل دوز چیخ نکلی، پھر ہم دونوں چکرا کر وہیں ڈھیر ہوگئے۔ ’’ماشاء اللہ بڑی پُر مذاق بچیاں ہیں تمہاری...‘‘ ہمارے سن ہونے والے کانوں میں بھی ان کی آواز تیر کی طرح گھسی۔ ’’کیا بات ہے؟ تم نے انہیں کہاں دیکھا... مَیں تو تم سے اب ایک طویل عرصہ کے بعد مل رہی ہوں۔‘‘ امی نے پوچھا، پھر ہمارے دم رک گئے۔ ’’کہیں اور نہیں بھئی.... یہیں کار سے اترتے ہوئے مَیں نے انہیں کمپاؤنڈ میں دیکھا تھا۔ اب چھوڑو اس تذکرے کو.... لاؤ.... چائے جلدی پلاؤ۔‘‘ انہوں نے ہنس کر کہا۔ ان کی وسیع القلبی پر ہمارے چہرے شرم سے سرخ ہوگئے۔ لیکن پھر یکایک ہی ہم میں ایک عجیب قسم کی قوت آگئی۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا، آنکھوں میں کچھ اشارے کئے۔ اور پھر.... وہیں سے ایک جست لگا کر ان کے قریب پہنچ گئے۔ انہوں نے بڑی حیرت سے ہمیں دیکھا، لیکن اتنی دیر میں ہی ہم اُن کے پاؤں کو تھامے، ان کے قدموں پر اپنا سر رکھ چکے تھے!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK