EPAPER
Updated: May 30, 2026, 4:22 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
سائنس و ٹیکنالوجی کی اس اہم شخصیت نے کہا کہ بدلتے دَور کے ساتھ خود کو بدلیں، مختلف مہارتوں سے لیس ہوں اور تبدیلی کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں.
ٹیکنالوجی کی تیز رفتاری نے بیک وقت مختلف شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ اس کے بڑھتے عمل دخل سے اسے بنانے والا انسان بھی فکر میں مبتلا ہے۔ ایسے دَور میں جب اے آئی (آرٹی فیشیل انٹیلی جنس) تیزی سے اپنے پَر پھیلا رہا ہے، طلبہ ملازمت اور اپنے مستقبل کے متعلق تذبذب کا شکار ہیں لیکن ہر بدلتا دَور اپنے ساتھ سیکڑوں مواقع بھی لاتا ہے۔
گزشتہ دنوں گوگل کے سی ای او سندر پچائی (Sundar Pichai) نے ’’ہارڈ فورک‘‘ نامی پوڈ کاسٹ پر تسلیم کیا کہ اے آئی سے متعلق بے چینی حقیقی اور قابل فہم ہے۔ پچائی نے کہا کہ گریجویٹس اس بارے میں فکر مند ہیں کہ اے آئی کس طرح ملازمتوں، کریئر اور مستقبل کی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انسان قدرتی طور پر اتنی غیر معمولی رفتار سے ہونے والی تکنیکی تبدیلیوں پر عمل کرنے کیلئے پوری طرح لیس نہیں ہے لیکن اگر طلبہ چند باتوں کا خیال رکھیں تو وہ اے آئی کو بھی شکست دے سکتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو ۵؍ پیغام دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : عالمی کہانیوں کا ترجمہ: بلبل
Adaptability Will Matter More Than Static Skills
بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا سب سے اہم صلاحیت ہوگی
سندر پچائی کے مطابق آنے والے برسوں میں صرف ڈگری یا ایک مخصوص ہنر کافی نہیں ہوگا بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ انسان کتنی تیزی سے نئے حالات کے مطابق خود کو بدل سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے، مسلسل نئے آلات اور ٹولز سامنے آرہے ہیں اور کئی صنعتیں مکمل طور پر بدل سکتی ہیں۔ ایسے میں وہی لوگ آگے بڑھیں گے جو نئی چیزیں سیکھنے، خود کو ان کے مطابق تبدیل کرنے اور بدلتے ماحول کے ساتھ چلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ گوگل کے سی ای او سندر پچائی کے مطابق آج کے طلبہ مستقبل کی تبدیلیوں کے صرف متاثرین نہیں بلکہ ان تبدیلیوں کے رہنما بھی بن سکتے ہیں۔
Students Should Learn to Work With AI
طلبہ کو اے آئی کے ساتھ کام کرنا سیکھنا ہوگا
سندر پچائی اے آئی کو ایسی چیز نہیں مانتے جس سے طلبہ دور رہ سکیں۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت آنے والے وقت میں تقریباً ہر شعبے کا حصہ بن جائے گی، چاہے وہ تعلیم ہو، طب ہو، کاروبار ہو یا میڈیا۔ اسی لئے طلبہ کو اے آئی ٹولز استعمال کرنا، ان کے کام کرنے کا طریقہ سمجھنا اور اپنی روزمرہ پڑھائی یا ملازمت میں انہیں شامل کرنا سیکھنا ہوگا۔ ۱۹؍ مئی ۲۰۲۶ء کو گوگل کی سالانہ کانفریس میں انہوں نے بتایا کہ اے آئی ایجنٹس مستقبل میں تعلیم، دفاتر، تحقیق اور روزمرہ زندگی میں گہرائی سے شامل ہوجائیں گے۔ ان کا اشارہ واضح تھا کہ اے آئی کے ساتھ کام کرنے والے طلبہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : وہ ۲۴؍ شخصیات جو اے آئی کی دنیا کو تشکیل دے رہی ہیں
Human Creativity & Judgment Still Matter
انسانی تخلیقی صلاحیت اور فیصلہ سازی کی اہمیت باقی رہے گی
اگرچہ اے آئی بہت سے کام خودکار طریقے سے کرسکتا ہے، لیکن پچائی کے مطابق انسان کی کچھ خوبیاں ایسی ہیں جنہیں مکمل طور پر مشینیں تبدیل نہیں کرسکتیں۔ انہوں نے خاص طور پر تخلیقی سوچ، تجسس، صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت، مسائل حل کرنے کی اہلیت اور اخلاقی سمجھ بوجھ کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخ میں ہر نئی ٹیکنالوجی نے کام کرنے کے طریقے ضرور بدلے مگر صنعتوں کی اصل سمت کا تعین انسانوں نے ہی کیا۔ گوگل بھی مسلسل یہی پیغام دیتا رہا ہے کہ اے آئی انسان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کیلئے بنایا جارہا ہے، نہ کہ انسانوں کو مکمل طور پر بے کار کرنے کیلئے، اس لئے اس کے ساتھ آگے بڑھیں۔
Students Should Expect Careers to Change
مستقبل میں ایک ہی کریئر پوری زندگی نہیں چلے گا
سندر پچائی کے مطابق آنے والے دور میں یہ ضروری نہیں کہ لوگ پوری زندگی ایک ہی پیشے میں رہیں۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی تبدیل ہوگی، ویسے ویسے ملازمتوں کی نوعیت بھی بدلتی رہے گی۔ کچھ پرانی ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں جبکہ نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ وہ اکثر مثال دیتے ہیں کہ بیس سال پہلے ایپ ڈیولپر، ڈجیٹل مارکیٹئر، اے آئی انجینئر یا سوشل میڈیا پروفیشنل جیسے کئی پیشے تقریباً موجود ہی نہیں تھے۔ آج یہی شعبے لاکھوں لوگوں کو روزگار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق آج کے طلبہ مستقبل میں شاید ایسے شعبوں میں کام کریں گے جو ابھی دنیا میں موجود بھی نہیں ہیں، اس لئے سیکھنے کا عمل کبھی نہیں رکنا چاہئے۔ طالب علمی کے دور میں اسکلز پر توجہ دیں۔
یہ بھی پڑھئے : خراب یا پرانے انڈے پانی پرتیرتے ہیں، کیوں؟
Students Should Not Ignore Anxiety, But ...
اے آئی کے خوف کو نظر انداز نہ کریں مگر گھبرائیں نہیں
پوڈ کاسٹ کے دوران سندر پچائی نے تسلیم کیا کہ اے آئی کے بارے میں لوگوں کا خوف حقیقی اور جائز ہے۔ بہت سے طلبہ کو لگتا ہے کہ مصنوعی ذہانت ان کی ملازمتوں، کریئر اور مستقبل کو متاثر کرسکتی ہے۔ تاہم پچائی کا کہنا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑی ٹیکنالوجی تبدیلی نے ابتدا میں خوف پیدا کیا، لیکن بعد میں نئے مواقع بھی پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت یقیناً کئی ملازمتیں بدل دے گی، کچھ ختم بھی ہوسکتی ہیں، مگر ساتھ ہی نئی صنعتیں اور نئے مواقع بھی سامنے آئیں گے۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ نوجوان خوفزدہ ہونے کے بجائے مستقبل کی معیشت کو بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کریں، اس طرح وہ مضبوط بن سکیں گے۔