نیت کا پھل

Updated: February 22, 2020, 3:05 PM IST | Ishrat Rehmani | Mumbai

’’میری ماں کہتی ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کے بادشاہ سلامت کی نیت میں کوئی کھوٹ یا خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ اس لئے ہمارے پھولوں کا رس خشک ہونے لگا ہے۔ بہت مشکل سے کئی پھلوں سے یہ آدھا گلاس رس نکل سکا ہے۔‘‘

علامتی تصویر
علامتی تصویر

کسی زمانہ میں ایک بڑا نیک دل، سخی اور منصف بادشاہ تھا۔ اس کے ملک میں کوئی شخص غریب اور محتاج نہ تھا۔ بادشاہ اپنے وزیروں کو ملک کے ہر شہر اور ہر قصبہ کے علاوہ تمام گاؤں میں بھیج کر اپنی رعایا کا حال معلوم کرواتا اور خود بھی جگہ جگہ گھومتا پھرتا.... اگر کسی علاقے میں کوئی شخص محنت مشقت یا نوکری کرکے کمائی کرنے کے قابل نہ ہوتا تو اس شخص کے کنبے کیلئے شاہی خزانے سے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جاتا۔ اس طرح اس شخص کی ساری ضرورتیں پوری ہوتی تھیںا ور غریبی کا نام و نشان بھی کہیں نظر نہیں آتا۔ اسی طریقے سے اس بادشاہ کی طرف سے ایسے حاکم اور منتظم افسر تعینات کئے گئے تھے کہ وہ دن رات ملک کے چپہ چپہ پر گھوم کر حفاظت کرنے میں مصروف رہتے چنانچہ اس ملک میں کہیں چوری یا کسی کے خلاف ظلم یا زیادتی نہ ہونے پاتی۔ بادشاہ انصاف اور انتظام میں دنیا کے دوسرے بادشاہوں سے بہتر اور مشہور تھا۔
 اس ملک کا نام شاد آباد تھا کیونکہ وہاں سب لوگ خوشحال اور آرام چین سے آباد تھے ملک کے کھیتوں میں ہر قسم کا اناج پیدا ہوتا تھا اور باغوں میں ہر قسم کے عمدہ خوش ذائقہ پھل اور رنگ برنگ کے خوشنما پھول جگہ جگہ اپنی بہار دکھاتے نظر آتے چنانچہ شادآباد باغ بہار ہوا تھا۔
 ایک مرتبہ ملک شادآباد کا نیک دل بادشاہ شکار کیلئے اپنے وزیروں اور امیروں کو ساتھ لے کر جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ وہاں جنگل میں پہنچ کر بادشاہ سلامت خود اور اس کے ساتھی وزیر جو گھوڑوں پر سوار تھے، شکار کے جانوروں کی تلاش میں ادھر اُدھر پھیل گئے۔ بادشاہ گھومتا پھرتا کسی ایسی بستی میں پہنچ گیا جو بہت خوبصورت دکھائی دیتی تھی۔ اس بستی میں جگہ جگہ پھلوں کے بے شمار درخت اور جنگلی پھولوں کے خوشنما پودے تھے حالانکہ وہاں کوئی دریا، نہر یا چشمہ نظر نہیں آتا تھا۔ بادشاہ قدرت کی یہ بے مثال کاریگری دیکھ کر اپنے دل میں بہت خوش ہوا اور خدا کا شکر بجا لایا۔
 گرمی کا موسم تھا اور دوپہر کا وقت۔ بادشاہ کو سخت گرمی کی وجہ سے پیاس کی شدت محسوس ہوئی۔ وہ بہت تھک بھی گیا تھا لیکن پینے کے پانی کا کہیں پتہ نہ تھا۔ آخر بادشاہ کو ایک درخت کے نیچے چند بچے کھیلتے نظر آئے۔ بادشاہ نے ان بچوں کو اپنی طرف بلایا۔ ان میں ایک بچی جو زیادہ سمجھدار معلوم ہوتی تھی اس سے بادشاہ نے پانی پلانے کی خواہش ظاہر کی۔ بادشاہ کی یہ خواہش سن کر وہ لڑکی تیزی سے بھاگتی ہوئی اپنے گھر گئی اور جلدی سے پھلوں کا شربت بنا کر ایک گلاس میں لے آئی۔ یہ شربت بہت میٹھا اور ٹھنڈا تھا۔ بادشاہ شربت پی کر تازہ دم ہوگیا اور اس نے لڑکی سے خوش ہو کر بہت تعریف کی اور اس سے کہا کہ ’’تم نے شربت بنانے کی کیوں تکلیف کی۔ سادہ پانی لے آتیں!‘‘ لڑکی نے جواب دیا کہ ’’شربت تو نہیں بنایا۔ ہمارے چھوٹے سے گھر میں کئی درخت ہیں ان میں جو پھل لگے ہیں یہ ان کا رس ہے۔ میری ماں نے ایک پھل توڑ کر اس کا رس نچوڑ کر گلاس میں بھر دیا۔ میں یہ رس آپ کے لئے لے آئی۔‘‘ بادشاہ کو یہ بات سن کر بہت تعجب ہوا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس بستی میں کس قدر لذیذ اور خوش ذائقہ پھل پائے جاتے ہیں۔ پھر لڑکی سے ایک گلاس اور رس لانے کی فرمائش کی۔ لڑکی جلدی سے رس کا گلاس لانے کے لئے چلی گئی۔ اس درمیان میں بادشاہ سلامت کو خیال آیا کہ اس خوبصورت بستی کو کیوں نہ سرکاری ملکیت میں لے لیا جائے۔ ایسے عمدہ اور لذیذ پھولوں اور اس کے رس سے تو ہمارے شاہی خاندان کو لطف حاصل کرنا چاہئے۔ بادشاہ یہ بات سوچ ہی رہا تھا کہ لڑکی رس کا آدھا گلاس لئے منہ بسورتی آئی اور شرمندگی کے ساتھ آدھا گلاس دیتے ہوئے بولی ’’میری ماں کہتی ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کے بادشاہ سلامت کی نیت میں کوئی کھوٹ یا خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ اس لئے ہمارے پھولوں کا رس خشک ہونے لگا ہے۔ بہت مشکل سے کئی پھلوں سے یہ آدھا گلاس رس نکل سکا ہے۔‘‘ بادشاہ لڑکی یہ بات سن کر بہت حیران ہوا اور دل میں بہت شرمندہ بھی ہوا کہ میری نیت میں ایسی برائی کیوں پیدا ہوئی۔ مَیں نے اپنی رعایا کے غریب لوگوں کی بستی پر زبردستی قبضہ کرنے کا ارادہ کرکے ایسا گناہ کیوں کیا۔ اس نے دل ہی دل میں اپنی اس بدنیتی کے لئے اللہ پاک کے حضور توبہ کرکے معافی مانگی پھر بادشاہ نے لڑکی کی یہ بات کو آزمانے کے لئے کہ دیکھوں اس میں کہاں تک سچائی ہے، لڑکی سے کہا ’’اچھا ایک بار پھر کوشش کرو، شاید کچھ زیادہ رس نکل آئے اور میری پیاس بجھ جائے۔ لڑکی نے بادشاہ کو اجنبی سمجھ کر اس کی پیاس بجھانے کی خاطر رس لانے کے لئے دوبارہ گھر میں گئی اور تھوڑی ہی دیر بعد ہنستی ہوئی خوشی سے رس کا بھرا گلاس لے کر آئی اور بولی ’’امّاں کہتی ہیں کہ اللہ کا شکر ہے، ہمارے بادشاہ سلامت کی نیت ٹھیک ہوگئی۔ اس بار ایک ہی پھل نچوڑنے سے پورا گلاس رس سے بھر گیا۔ ہمارے پھلوں میں دوبارہ رس آگیا۔‘‘ لڑکی کی بات سے بادشاہ سلامت کو یقین آگیا کہ واقعی اس نے جو کچھ کہا ہے بالکل سچ ہی ہے۔ انہوں نے لڑکی سے رس کا گلاس لے کر پیا اور خوش ہوکر اسے انعام دیا۔ پھر اس سے پوچھا ’’مجھے پہچانتی ہو، مَیں کون ہوں؟‘‘ لڑکی بولی ’’آپ ایک مسافر ہیں۔‘‘
 بادشاہ سلامت نے کہا ’’مَیں تمہارا بادشاہ ہوں۔‘‘ لڑکی یہ سن کر ڈر کے مارے پیلی پڑ گئی اور کانپتی ہوئی آواز میں اس کے منہ سے چیخ نکل گئی ’’اوہ! ہمارے بادشاہ سلامت!‘‘ لڑکی کی چیخ سن کر سب بچے دور دور سے وہاں آکر جمع ہوگئے۔ بادشاہ سلامت نے لڑکی کو پیار سے تسلی دیتے ہوئے کہا ’’بیٹی ڈرو نہیں، تم نے جو کچھ کہا وہ بالکل سچ تھا۔ میری نیت میں خرابی آگئی تھی مگر میں نے اپنی بدنیتی کے گناہ سے توبہ کرکے اللہ پاک سے معافی مانگی اور اپنی نیت درست کرلی۔ اپنی اماں کو میرا سلام کہنا اور میری طرف سے ان کا شکریہ ادا کرنا، مجھ پر ان کا بڑا احسان ہے۔ ان کی نصیحت نے میری نیت کی خرابی دور کر دی اور نیکی کی بات بتائی۔ یہ بات بالکل سچ ہے کہ ہر ملک کے بادشاہ یا حاکم کی نیت اور اخلاق کا ملک کی رعایا کے لوگوں پر بہت برا اثر ہوتا ہے اور بدنیتی کا اثر اور نتیجہ اس کی حکومت ملک اور قوم سب کے حق میں برا ہوتا ہے۔ دراصل نیک نیتی اور خوش اخلاقی میں ہر خاص اور عام شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی برکت ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر بادشاہ نے اپنے گھوڑے کو دوڑیا اور سب بچے دیکھتے رہ گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK