گرمی

Updated: May 29, 2021, 5:57 PM IST | Idris Siddiquie

موئی انتہائی ذہین لڑکا ہے لیکن وہ سوال بہت پوچھتا ہے۔ موئی کی اس عادت کی وجہ سے اس کی امی اور کلاس ٹیچرکافی پریشان رہتی ہیں لیکن اس کے ابّا اس کی ماں کو سمجھاتے ہیں کہ موئی کے سوالات پر غصہ کرنے کے بجائے جواب دیا کرو کیونکہ ذہین بچے بہت کچھ سیکھنا چاہتے ہیں اس لئے سوال کرتے ہیں۔ پڑھئے اس کی مکمل کہانی:

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

ننھے موئی کے ذہن میں کتنے ہی سوال گھومتے رہتے ہیں اور اکثر اسکول میں جواب نہیں ملنے پر اُسے امّی اور پاپا سے پوچھنے پڑتے ہیں۔ کبھی کبھی امّی جھنجھلا کر کہتی ہیں ’’تمہارے دماغ میں ہر وقت کیڑے کلبلاتے رہتے ہیں۔ اپنی پڑھائی کی طرف دھیان دو اور بیکار باتوں میں وقت برباد نہ کرو۔‘‘ اگر پاپا سن لیتے تو وہ امّی کو سمجھاتے ہیں ’’اس طرح بچے میں جاننے کی خواہش ختم ہوجاتی ہے اور اُس کی ذہانت پر بھی برا اثر ہوتا ہے۔ تمہیں موئی کو مایوس نہیں کرنا چاہئے۔‘‘
 ’’مَیں بھی کوشش کرتی ہوں لیکن کام میں مصروف ہونے پر اُس کے سوالوں کی بوچھار سے اُلجھن اور چڑچڑاہٹ ہوتی ہے۔ حالانکہ بعد میں افسوس بھی ہوتا ہے!‘‘
 ’’بھئی کام کسے نہیں ہوتے؟ اُس کے ننھے دماغ میں جس وقت کوئی بات آتی ہے تو وہ تم یا مجھ سے ہی سوال کرے گا۔ کل شام کو ٹیلی ویژن دیکھتے وقت اُسے خاموش ہوجانے کیلئے کہا تھا۔‘‘
 ’’ہاں! کیونکہ وہ میرا پسندیدہ ٹی وی سیریل ہے اور اس کے بے تکے سوال بور کر رہے تھے۔‘‘
 ’’بچے وقت کا انتظار نہیں کرسکتے اور پھر بعد میں بھول جاتے ہیں۔ اس طرح وہ معلومات سے محروم رہ جائیں گے۔‘‘
 ’’لیکن موئی بہت زیادہ باتونی ہے اور اسکول میں بھی یہی شکایت ملتی ہے۔‘‘ امّی نے پریشانی بتائی۔ ’’ذہین بچے ہی سوال پوچھتے ہیں۔ اُن میں بہت کچھ جاننے کی خواہش ہوتی ہے۔‘‘ پاپا نے وجہ بیان کی کہ موئی اتنے سوال کیوں کرتا ہے لیکن امّی مطمئن نہیں ہوئیں۔
 ’’اگلی پیرنٹس-ٹیچر میچنگ میں چلنا اور اس کی ٹیچر سے بات کرنا۔‘‘ چونکہ پاپا اپنے دفتر کی وجہ سے اسکول بہت کم جا پاتے ہیں اور امّی کو ہی موئی کی شکایتیں سننی پڑتی ہیں اس لئے انہوں نے پاپا سے چلنے کے لئے کہا تاکہ وہ خود موئی کی ٹیچر سے بات کریں۔
 ’’مَیں ضرور چلوں گا خواہ چھٹی ہی کیوں نہ لینی پڑے۔‘‘ اور پاپا اگلی میٹنگ میں چھٹی لے کر گئے۔ انہوں نے موئی کی کلاس ٹیچر فرزانہ سے بات کی۔
 ’’کیا موئی بہت زیادہ سوال پوچھتا ہے؟‘‘
 ’’ہاں!‘‘ مس فرزانہ نے تھوڑے تعجب سے کہا کیونکہ زیادہ تر والدین بچوں کے امتحان میں نمبروں کی بات کرتے ہیں اُن کی عادتوں کے بارے میں نہیں۔ ’’وہ بہت باتونی ہے اور کلاس میں بہت بولتا ہے۔‘‘
 ’’کیا یہ غلط بات ہے؟‘‘ پاپا کے سوال پر مس نے تھوڑا سنبھل کر جواب دیا ’’غلط تو نہیں کہا جاسکتا لیکن دوسرے بچے بور ہوتے ہیں بہت زیادہ سوالوں کی وجہ سے۔‘‘
 ’’دیکھئے ذہین بچوں کے دماغ میں بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں اس لئے اُن کے تجسس کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ میرے خیال میں دوسرے بچوں کو بھی سوال پوچھنے کے لئے ہمت افزائی کرنی چاہئے۔‘‘
 ’’مَیں آپ کی بات سے اتفاق رکھتی ہوں۔ کیا موئی کو مجھ سے کوئی شکایت ہے؟‘‘ مس نے اپنی صفائی میں پوچھا۔ وہ سمجھیں کہ شاید موئی نے گھر پر شکایت کی ہوگی۔
 ’’موئی کو نہیں اُس کی امّی کو شکایت ہے کہ موئی کلاس میں بہت بولتا ہے۔‘‘ پاپا نے ہنستے ہوئے کہا تاکہ ٹیچر کو برا نہیں لگے۔ ’’وہ آپ کی صرف تعریف ہی نہیں بلکہ قربت محسوس کرتا ہے۔‘‘ یہ سچ بھی ہے کیونکہ موئی کو اپنی کلاس ٹیچر بہت پسند ہیں۔ مس فرزانہ کو اچھا لگا کہ بچے انہیں پسند کرتے ہیں۔
 موئی بہت ذہین اور حاضر جواب بھی ہے اسی لئے مس فرزانہ اُسے خاص توجہ دیتی ہیں چونکہ موئی نرسری سے اسی اسکول میں پڑھ رہا اسی لئے بعض سینئر ٹیچر مذاق میں کہتی ہیں کہ ہم اور ہمارے بچے یہیں رہیں گے جب تک بارہویں کلاس پاس نہیں کر لیتے! وہ تو ابھی چوتھی کلاس میں ہے لیکن چھٹی کلاس کے بچوں سے زیادہ معلومات رکھتا ہے بس تھوڑا جلدباز ضرور ہے! جنرل اسٹڈیز کی کلاس میں روزمرہ کی باتیں بھی پڑھائی جاتی ہیں جن کا سائنس سےتعلق ہوتا ہے۔ مس نے سوال کیا ’’نیچے فرش دیکھ کر بتاؤ کہ اس میں کیا لگا ہوا ہے؟‘‘
 موئی نے سب سے پہلے ہاتھ اُٹھایا اور مس نے اُسے موقع دیتے ہوئے جواب دینے کی اجازت دی۔
 ’’چوکور بلاک کے بیچ میں شیشہ لگا ہوا ہے۔‘‘
 ’’ویری گڈ۔ لیکن کیوں؟‘‘
 ’’یہ ہمیں نہیں معلوم۔‘‘ موئی نے ایمانداری سے کہا۔
 ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ گرمی سے ٹھوس کی اوپری سطح پھیلتی ہے جبکہ شیشہ میں تبدیلی نہیں آتی۔ اگر بلاک کے درمیان شیشہ نہ ہو تو فرش کی سطح پھیلنے پر اس میں دراڑ آجائے گی یا پھر فرش تھوڑا سا ٹیڑھا ہوجائے گا۔‘‘
 ’’لیکن شیشہ کیوں نہیں پھیلتا یا سردی سے سکڑتا نہیں؟‘‘
 کسی بچے نے وہی بات دوبارہ دہرائی۔
 ’’کچھ ٹھوس چیزیں گرمی سے پھیلتی اور سردی سے سکڑتی نہیں بلکہ وہ نیوٹرل ہوتی ہیں۔ اُن میں شیشہ اور لکڑی اہم ہیں۔‘‘ مس نے دیکھا کہ موئی ابھی تک فرش پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔
 ’’اچھا تم لوگوں نے ریل کی پٹری دیکھی ہے؟‘‘ انہوں نے سوال کیا اور جواب میں زیادہ تر بچوں کے ہاتھ اُٹھ گئے۔
 ’’کیوں موئی! کیا تم نے ریلوے لائن نہیں دیکھی؟‘‘  ’’دیکھی ہے مس۔ ابھی چھٹیوں میں باہر گئے تھے تب ریل سے سفر کیا تھا۔‘‘ موئی نے جواب دیا اور وضاحت بھی دے دی۔
 ’’کیا تم لوگوں نے اس بات پر دھیان دیا کہ لوہے کی پٹری میں تھوڑی دوری پر ذرا سی جگہ خالی چھوڑی جاتی ہے اور بیڑیاں ایک دوسرے سے ملا کر بچھائی نہیں جاتیں؟‘‘
 اس سوال پر زیادہ تر بچے خاموش رہ گئے۔ انہوں نے ریلوے لائن پر اتنا زیادہ دھیان نہیں دیا۔ ’’اس کی وجہ بتا سکتے ہو؟‘‘
 ’’جی ہاں! گرمی سے پٹری کی سطح پھیلتی ہے۔‘‘ یہ موئی ہی تھا جس نے پچھلے جواب کو یاد رکھتے ہوئے وجہ بتا دی۔
 ’’شاباش! اگر پٹری میں تھوڑی جگہ نہ رکھی جائے تو گرمی سے پٹری کی سطح بڑھ جانے پر ریلوے لائن ترچھی ہو کر اوپر، بس تھوڑا سا، اُٹھ جائے گی اور اس پر چلنے والی ٹرین کے پہئے اُتر جائیں گے۔‘‘ ’’ٹریک سے پہئے اُترنے پر ایکسی ڈینٹ ہوجائے گا نا؟‘‘ موئی نے سوال کی شکل میں جواب دیا۔
 چھٹیوں میں گرمی اپنے عروج پر ہے۔ پاپا بھی چھٹی کے دن گھر پر رہتے ہیں اور خبروں پر بات کر رہے کہ دنیا بھر میں گرمی بڑھتی جا رہی ہے گلوبل وارمنگ سے لوگ پریشان ہیں۔ تبھی موئی نے کہا لیکن اس کے لہجہ میں کوئی شرارت نہیں۔ ’’پاپا گرمی کا ایک فائدہ بھی ہے۔‘‘
 ’’وہ کیا؟‘‘ پاپا نے حیرت سے پوچھا ’’یہاں سبھی گرمی بڑھنے کے نقصان سے پریشان ہیں تمہیں کیا فائدہ نظر آرہا ہے؟‘‘
 ’’کیونکہ.... گرمی سے مادّہ پھیلتا ہے۔ میری کلاس میں بتایا گیا تھا کہ ٹھوس چیزیں گرمی سے پھیلتی ہیں۔‘‘
 ’’تو؟‘‘ پاپا اب بھی نہیں سمجھے کہ موئی کیا کہنا چاہ رہا ہے۔
 ’’تو گرمی بڑھنے سے مَیں جلدی بڑا ہوجاؤں گا!‘‘ موئی کی معصومیت پر کمرہ ہنسی سے گونج اُٹھا۔
 ’’بھئی تمہاری سائنس لاجواب ہے!‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK