تندرستی ہزار نعمت ہے

Updated: July 17, 2021, 4:22 PM IST | Dr. Rauf Parikh

رؤف اپنے گھر اور اسکول کے کام سے پریشان ہوگئے تھے۔ وہ آرام کرنا چاہتے تھے، اس لئے دن رات غور و فکر ہی میں بسر ہونے لگے کہ ’’اسکول اور کام کاج‘‘ سے کس طرح چھٹکارا ملے؟ بالآخر انہیں اس مسئلہ کا حل مل جاتاہے۔ پڑھئے مکمل کہانی:

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

ایک دن ہم اپنے کپڑوں پر استری کرنے بیٹھے تو ہمارے بڑے بھائی صاحب تشریف لے آئے۔ اُن کے ہاتھ میں دُھلے ہوئے کپڑوں کی ایک گٹھڑی تھی۔ کپڑوں کا یہ پہاڑ انہوں نے ہمارے سامنے ڈھیر کیا اور ایک نادر شاہی حکم صادر کر دیا کہ ’’شام تک یہ سب کپڑے استری ہوجائیں۔‘‘
 ہم کپڑے لے کر امّی کے پاس پہنچے اور معصوم سا منہ بنا کر انہیں بھائی جان کے ’’ظلم‘‘ کی داستان سنائی۔ لیکن ہوا یہ کہ نماز بخشوانے گئے تھے اور روزے گلے پڑ گئے۔ امّی نے کہا کہ ’’منّی اور پپو کی یونیفارم بھی ساتھ ہی استری کر دینا۔ آخر بھائی بہنوں کے کام بھائی بہن ہی آتے ہیں۔ ذرا سا کام کہہ دیا تو جان نکلی جا رہی ہے.... چلو جاؤ بڑے بھائی کے سب کپڑے، منّی اور پپو کی یونیفارم، میری ساڑھی اور اپنے تمام دُھلے ہوئے کپڑے استری کرو چلو۔ خدا کی پناہ! آج کل کے لڑکے تو....‘‘
 امّی تو جانے کتنی دیر تک کیا کچھ کہتی رہیں، ہم چپ چاپ سر جھکائے استری کرتے رہے۔ ’’بڑے بھائی کے کپڑے اس وجہ سے کہ وہ ’’بڑے‘‘ ہیں۔ ان کی خدمت تمہارا فرض ہے اور چھوٹے بھائی کے اس لئے کہ ’’آخر چھوٹے‘‘ بھائی ہیں۔ ابھی انہیں ایسے کاموں کی تمیز کہاں؟ تم بڑے ہو ذرا چھوٹے بھائی کا اتنا تو خیال کیا کرو۔‘‘
 ’’یہ الگ بات ہے کہ ہم سے ’’بڑے‘‘ ہم کو ’’چھوٹا‘‘ سمجھ کر خیال نہیں رکھتے اور ’’چھوٹے‘‘ ہمیں ’’بڑا‘‘ سمجھ کر کوئی خدمت نہیں کرتے۔ غرض اسی استری میں ٹیلی ویژن پر ہمارے پسندیدہ پروگرام بھی نکل گئے۔
 اور باتیں تو خیر ہم جیسے تیسے سہ لیتے مگر ایک چیز ہم سے برداشت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے ساتھ اپنا گزارا ہے اور وہ ہے ’’اسکول‘‘۔ گدھوں کی طرح ہوم ورک کرنا، طوطوں کی طرح رٹنا، گھوڑے کی طرح چابک کھانا اور گائے کی طرح چپ رہنا۔ غرض اسکول کی وجہ سے ہم رفتہ رفتہ جانور بنتے جا رہے تھے اور دوسری بات یہ کہ استاد صاحبان ہمارے ہی پیچھے پڑ جاتے ہیں اور کسی سے کچھ نہیں کہتے۔ بس ہمارے سر پر ڈنڈا لئے کھڑے ہیں اور وہ بھی بہت معمولی باتوں پر۔ یعنی تاریخ کیوں یاد نہیں؟ الجبرے کے سوالات کیوں حل نہیں کئے؟ ایک ہفتے سے کہاں غائب تھے؟ جماعت میں امرود کیوں کھا رہے ہو؟ لیجئے یہ بھی کوئی بات ہوئی۔
 خیر ہم نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ جب تک بے آرامی کی فضا ختم نہ کر لی جائے، چین اور آرام حرام ہے۔ اس لئے دن رات غور و فکر ہی میں بسر ہونے لگے کہ ’’اسکول اور کام کاج‘‘ سے کس طرح چھٹکارا ملے؟ خدا بھلا کرے ہماری بھابی صاحبہ کا جو بیٹھے بٹھائے بیمار ہوگئیں اور ہم کو نہایت عمدہ ترکیب بلا قیمت بتا دی گئی۔ ہم بھابی صاحبہ کی بیماری کو نہایت حسرت سے تکا کرتے تھے۔ یہ دودھ، یہ بسکٹ، یہ پھل، یہ آرام، یہ ناز برداریاں، یہ تیمار داریاں، یہ حسیں بیماریاں، آخرکار ہم نے بھی بیمار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
 جوں جوں بھابی صحت یاب ہوتی گئیں، ہم بیمار ہوتے گئے۔ یعنی اُدھر کا مال اِدھر آتا گیا۔ جوں جوں بھابی کی بیماری گھٹی، اُن کی ناز برداری گھٹی۔ اِدھر ہم بیمار ہوتے چلے گئے اور ناز برداریوں کی کثرت ہوتی گئی۔ وہاں کے سارے پھل، دودھ کے گلاس اور بسکٹ کے پیکٹ اِدھر منتقل ہونے لگے۔ اسکول کی چھٹیاں الگ۔ ہمیں کوئی خاص بیماری تو نہ تھی۔ بس کبھی پیٹ میں درد ہو جاتا۔ کبھی سر درد کے مارے پھٹنے لگتا اور کبھی ہاتھ پیر اینٹھ جاتے۔ دو ہفتے تو مزے سے کاٹ دیئے لیکن اس کے بعد گھر والے اکتائے نظر آنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کر دیا اور جب اُن کا شک بڑھ گیا تو ایک دن ہماری موجودگی میں جان بوجھ کر بلند آواز سے بھائی جان کو بتایا کہ ’’اب میں ایک کڑوی دوا دوں گا تاکہ رؤف جلدی سے ٹھیک ہوسکے۔ ورنہ پھر انجکشن.....‘‘
 یہ سن کر ہم دَھک سے رہ گئے اور ڈاکٹر صاحب بھی تاڑ گئے لیکن ہم نے بھی مطمئن ہونے کی اداکاری شروع کر دی کیونکہ وہ دوا تو ہمیں پینی نہیں تھی۔ البتہ برآمدے میں رکھا ہوا گملا روز بہ روز سوکھتا جا رہا تھا۔
 ابّا جان نے بھی ہمیں ایک دو بار ٹٹولنے والی نظروں سے دیکھا اور اُلٹے سیدھے سوال پوچھے۔ تب ہم نے سوچا کہ اب کافی ہوگیا۔ اب ایک دو ماہ ٹھیر کر یہ ناٹک رچائیں گے۔ مگر آنکھوں میں بار بار بسکٹ، پھل، دودھ اور سارے دن کا آرام پھرنے لگا اور ساتھ ہی اسکول بھی خیال آیا۔ ہم نے سوچا کہ ’’بس دو دن اور یہ سب کرلیں۔ اس کے بعد تندرست ہوجائیں گے اور کچھ عرصے بعد.....‘‘ ہم یہ سب سوچ کر مسکرا دیتے.... مگر افسوس کہ اب ہم اگر سچ مچ بیمار ہوتے ہیں تو بھی کسی کو یقین نہیں آتا بلکہ سب کہتے ہیں کہ ’’بہانے کر رہا ہے۔‘‘ ’’اسکول نہیں جانا چاہتا...‘‘ بھائی جان آنکھیں نکال کر کہتے ہیں، ’’جاؤ کپڑے استری کرو۔ پھر ہوم ورک کر لینا۔ استری کے بعد بازار سے سودا لے آؤ اور میری کل کی پارٹی کا انتظام کر لو۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
 دراصل ہوا یہ تھا کہ پپو صاحب ایک دن جب ہمارے کمرے میں ہمارے بسکٹ چرانے آئے تو انہوں نے اپنے اس ’’بیمار‘‘ بھائی کو دوا گملے میں انڈیلتے دیکھ لیا۔ اس دن امّی کو گملے کے پودے کے سوکھنے کا راز معلوم ہوگیا اور ہم..... اس کے بعد پھر کبھی بیمار نہیں ہوسکے۔ سارے آرام اور مزے ختم۔ حالانکہ تندرست ہیں اور تندرستی کو ہزار نعمت کہا جاتا ہے لیکن ہم کو ایک بھی نعمت میسر نہیں۔ ہمارے ہاں ساری نعمتیں بیماروں کے لئے ہیں کہ ’’تندرستی‘‘ ہزار نعمت نہیں بلکہ ’’بیماری‘‘ ہزار نعمت ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK