طلبہ آن لائن کلاسیز کا زیادہ سے زیادہ فائدہ کیسے اٹھائیں

Updated: July 24, 2020, 7:52 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

کورونا وائرس (کووڈ۔۱۹) کے موجودہ بحران میں ملک کے تقریباً تمام تعلیمی ادارے بند ہیں ۔ روزانہ کورونا وائرس کے معاملات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور لاک ڈاؤن بھی جاری ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہمارا ملک بھی معاشی طور پر کمزور ہوتا جارہا ہے۔ دنیا کا ہر شخص پریشانی میں مبتلا ہے۔ سب سے اہم یہ کہ ملک کا مستقبل یعنی طلبہ کا زبردست تعلیمی نقصان ہورہا ہے۔ امسال انہوں نےسالانہ امتحان بھی نہیں دیا ہے اور اب تک اسکولیں ، کالجز، مدارس اور یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کا سلسلہ بھی نہیں شروع ہوا ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کورونا وائرس (کووڈ۔۱۹) کے موجودہ بحران میں ملک کے تقریباً تمام تعلیمی ادارے بند ہیں ۔ روزانہ کورونا وائرس کے معاملات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور لاک ڈاؤن بھی جاری ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہمارا ملک بھی معاشی طور پر کمزور ہوتا جارہا ہے۔ دنیا کا ہر شخص پریشانی میں مبتلا ہے۔ سب سے اہم یہ کہ ملک کا مستقبل یعنی طلبہ کا زبردست تعلیمی نقصان ہورہا ہے۔ امسال انہوں نےسالانہ امتحان بھی نہیں دیا ہے اور اب تک اسکولیں ، کالجز، مدارس اور یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کا سلسلہ بھی نہیں شروع ہوا ہے۔تاہم، بیشتر اسکولوں نے مختلف ایپس کی مدد سے آن لائن کلاسیز کا آغاز کردیا ہے۔ ایسے میں طلبہ کے ساتھ اساتذہ اور والدین کو بھی مختلف پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن جب تک حالات ٹھیک نہیں ہوجاتے تب تک طلبہ کو کسی نہ کسی طرح آن لائن کلاسیز میں شرکت کرنی ہوگی۔ طلبہ آن لائن تعلیم کا فائدہ کس طرح اٹھائیں ؟ اس ضمن میں تعلیمی انقلاب نے انگریزی، اردو، مراٹھی اور ہندی میڈیم کے چند اساتذہ سے بات چیت کی ہے جو ذیل میں پیش کی جارہی ہے۔
آن لائن کلاس کے دوران بیاض ساتھ لےکر بیٹھیں تاکہ اہم نکات نوٹ کئے جاسکیں 

بیشتر اسکولوں نے طلبہ کو ٹائم ٹیبل بھیج دیا ہے۔ ایسے میں طلبہ کو چاہئے کہ وہ اپنا ذاتی ٹائم ٹیبل بھی بنالیں اس طرح انہیں مختلف مضامین کو وقت پر مکمل کرنے میں سہولت ملے گی۔ آن لائن کلاس میں شامل ہونے سے قبل طلبہ اس مضمون کی بیاض اور کتاب ساتھ لے کر بیٹھیں اور اہم نکات کونوٹ کرتے جائیں ۔ کلاس میں شامل ہوتے وقت اکثر انٹرنیٹ کا مسئلہ ہوجاتا ہے، طلبہ کو چاہئے کو وہ عین وقت پر کلاس سے کنکٹ نہ ہوں بلکہ ۱۵؍ سے ۲۰؍ منٹ پہلے ہی اپنا انٹرنیٹ کنکشن اور موبائل فون میں چارجنگ وغیرہ چیک کرلیں ۔ چونکہ کئی طلبہ کلاس میں شامل ہوتے ہیں اس لئے کبھی کبھی شور و غل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، علاوہ ازیں ، ہمارے بیک گراؤنڈ میں بھی کافی آوازیں ہوتی ہیں اس لئے کسی پرسکون جگہ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کریں ، اس سے آپ بلاوجہ کے مسائل اور ذہنی انتشار سے بھی بچیں گے اور کانسپٹ کو سمجھنے میں کافی آسانی ہوگی۔ اہم بات یہ ہےکہ جو کچھ پڑھایا گیا ہے طلبہ کلاس ختم ہونے کے بعد اس کا اعادہ لازمی طور پر کریں ۔
شیخ فوزیہ شاہد، انجمن اسلام سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول، بلاسس روڈ، وائس پرنسپل 

 طلبہ موبائل فون کے بجائے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کا استعمال کریں 

طلبہ کیلئے سب سے اہم بات یہ جاننا ہے کہ جیسی پڑھائی کلاس روم میں ہوتی ہے وہ آن لائن ممکن نہیں ہے لیکن کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ طلبہ کو چاہئے کہ وہ آن لائن کلاسیز میں بیٹھیں ، ٹیچرز کی باتوں کو بغور سنیں ، جو پڑھایا جارہا ہے اس کو بغور دیکھیں اور اہم نکات کو نوٹ کرتے جائیں ۔ اگر گھر پر لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر ہے تو موبائل فون کے بجائے اس پر پڑھائی کریں ، آنکھوں پر زور کم پڑے گا۔ تمام جماعتوں کی تقریباً تمام مضامین کی نصابی کتابیں بازار میں دستیاب ہیں ، طلبہ آن لائن پڑھائی کے ساتھ ساتھ ان کا مطالعہ بھی کریں ۔ ان شاء اللہ اسکولوں کے دوبارہ کھلنے پر آپ کی کافی پڑھائی مکمل ہوچکی ہوگی اور تعلیمی نقصان کم سے کم ہوگا۔ علاوہ ازیں ، طلبہ کو آگے کی پڑھائی مکمل کرنے میں کوئی دشواری بھی نہیں پیش آئے گی۔
مومن فہیم احمد عبدالباری ، لیکچرار، صمدیہ جونیئرکالج، بھیونڈی

 کسی وجہ سے کچھ چھوٹ جانے پر دیگر طلبہ کی مدد لیں 

حالات کی مناسبت سے طلبہ اور اساتذہ کیلئے آن لائن درس وتدریس ہی ایک بہترین متبادل ہے۔ اس کا فائدہ طلبہ کا ضرور اٹھانا چاہئے۔ اگر آپ آن لائن کلاسیز میں شرکت نہیں کررہے ہیں تو فوری طور پر اس میں شامل ہوں کیونکہ اسکول شروع ہونےکے بعد طلبہ کو وہ چیزیں دوبارہ نہیں پڑھائی جائیں گی جو لاک ڈاؤن کےدوران پڑھائی جا چکی ہیں ۔ اس مسئلہ سے سب سے واقف ہیں کہ آن لائن کلاس میں شامل ہونے پر مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کبھی کبھی کنکشن ٹوٹ جاتا ہے جس کی وجہ سے چند منٹ کی باتیں طالب علم نوٹ نہیں کرپاتا، ایسی صورت میں اسے چاہئے کہ وہ کلاس ختم ہونے کے بعد دیگر طلبہ سے رابطہ کرے اور ان سے پوچھ لے یا پھر وہ ٹیچر کو بھی فون کرکے پوچھ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ، آج یوٹیوب وغیرہ پر ہر مضمون کے متعدد ویڈیوز ہیں ، طلبہ ان سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں ۔ طلبہ کو ٹائم ٹیبل دیا جاچکا ہے، اس کے مطابق وہ اپنی پڑھائی کریں اور کوشش کریں کہ کسی بھی وجہ سے ان کی کوئی کلاس کا نقصان نہ ہو۔
گوکل سنگھ موتی رام پاٹل، مارواڑی کمرشیل اسکول، چیرا بازار، ممبئی، مراٹھی ٹیچر

گھر پر سماجی دوری کا خیال رکھتے ہوئے ساتھ بیٹھ کر بھی پڑھائی ممکن ہے 

موجودہ دور میں اساتذہ اور طلبہ درس و تدریس کے روایتی طریقے پر عمل نہیں کرسکتے، لیکن آن لائن کلاسیز کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے کے عمل کو جاری رکھا جاسکتا ہے۔ طلبہ کا تعلیم سے رابطہ منقطع نہیں ہونا چاہئے ورنہ برسوں کی محنت ضائع ہوجائے گی، اس لئے ہر طالب علم کو چاہئے کہ وہ آن لائن کلاسیز میں ضرور شامل ہو۔ کلاس میں شامل ہونے کے بعد نصابی کتابوں میں جو ایکٹیویٹیز ہوتی ہیں ،انہیں اپنے طور پر حل کرنے کی کوشش کریں ۔ اسی طرح جن طلبہ کے گھر قریب ہیں وہ سماجی دوری کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ساتھ میں بیٹھ کر بھی پڑھائی کرسکتے ہیں ۔ طلبہ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ مشکل کے اس دور میں بھی انہیں مثبت رویہ اختیار کرنا ہے۔ اسی صورت میں کچھ ممکن ہے۔ نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ اسکول کی جانب سے دی جانے والی آن لائن تعلیم کے علاوہ مختلف ایپس کی مدد سے بھی اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتے ہیں ۔
جے ونت مرلی دھر کلکرنی،گاندھی بال مندر ہائی اسکول، انگریزی ٹیچر

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK