اغوا

Updated: August 14, 2021, 1:47 PM IST | Aadil Hayaat

نعمت بھی روز روز کی مار اور ڈانٹ پھٹکار سے اوب گیا تھا۔ اس لئے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پلاننگ اکرنے لگا کہ کسی طرح اس عذاب سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

نعمت ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھتا تھا۔ پڑھائی میں جس قدر ہوشیار تھا، اسی طرح شرارت کرنے میں بھی آگے آگے رہتا تھا۔ اس کی شرارت کے چرچے گھر سے لیکر اسکول تک عام تھے۔ جس سے بھی اس کی تھوڑی سی شناسائی ہوگئی، وہ اس کی شرارتوں کا شکار ضرور بن جاتا تھا۔ اس کی شرارتوں سے گھر کے لوگ ہی نہیں بلکہ اسکول کے اُستاد تک پریشان تھے۔ ہر طرح سے اس کو سمجھانے کی کوشش کی جاتی مگر وہ کسی کی باتوں کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ نتیجے کے طور پر اس کی پٹائی بھی ہوتی تھی۔ گھر میں امّی اور ابّو مارتے تو اسکول میں ماسٹر صاحب کی چھڑی اس کا استقبال کرتی تھی۔ جس طرح گھر کے لوگ اور اسکول کے ماسٹر صاحب اس کی روزانہ کی شرارتوں سے تنگ آگئے تھے، اسی طرح نعمت بھی روز روز کی مار اور ڈانٹ پھٹکار سے اوب گیا تھا۔ اس لئے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پلاننگ کرنے لگا کہ کسی طرح اس عذاب سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ بہت دنوں تک سوچنے کے بعد اس کی سمجھ میں ایک ترکیب آئی اور دوسرے ہی دن اس ترکیب کو عمل میں لے آیا۔
 اس دن اپنے مقررہ وقت پر نعمت اسکول سے گھر واپس نہیں آیا تو گھر کے افراد پریشان ہوگئے۔ انہوں نے اپنے ملنے والوں میں جہاں بھی امکان ہوسکتا تھا کہ نعمت وہاں گیا ہوگا، ہر جگہ فون کر ڈالا مگر سبھی جگہوں سے انہیں نہیں میں ہی جواب ملا۔ انہوں نے نعمت کے اسکول میں بھی فون کیا تو وہاں سے بھی جواب ملا کہ نعمت اسکول میں چھٹی ہوتے ہی اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھر واپس چلا گیا ہے۔ اس طرح بے چینی میں شام دھیرے دھیرے ختم ہوگئی اور رات کی سیاہی نے اپنا پنکھ پھیلانا شروع کر دیا۔ گھر کے تمام لوگ ڈرائنگ روم میں غمگین دروازے کی طرف نگاہ کئے بیٹھے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ نعمت اپنی تمام تر شرارتوں کے باوجود گھر واپس آجائے گا مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ جب رات زیادہ گزر گئی تو اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ سبھی لوگ چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگے۔ نعمت کے پاپا نے بڑھ کر رسیور اُٹھایا اور اسے کان کے پاس لگاتے ہوئے بولے ’’ہیلو....‘‘
 ’’ہیلو.... آپ نعمت کے گھر سے بول رہے ہیں۔‘‘ دوسری طرف سے آواز آئی۔ ’’ہاں.... ہاں.... مَیں نعمت کے گھر سے بول رہا ہوں.... کیا نعمت....‘‘ ’’نعمت ہمارے پاس ہے.... اگر آپ کو نعمت سہی سلامت چاہئے تو ایک لاکھ روپیہ تیار رکھئے۔‘‘ ’’ہاں.... ہم ایک لاکھ روپیہ دینے کو تیار ہیں۔‘‘ نعمت کے ابّو نے ایک ہی سانس میں کہہ ڈالا۔ ’’تو سنئے، کل صبح ٹھیک آٹھ بجے پہاڑی بھوجلہ پر روپیہ لے کر آجایئے.... نعمت آپ کو مل جائے گا.... لیکن کوئی چالاکی کرنے کی کوشش نہیں کیجئے گا، ورنہ....‘‘
 اتنا کہہ کر دوسری جانب سے ٹیلیفون کی لائن کاٹ دی گئی۔ اچانک فون کی لائن کٹنے سے وہ پریشان ہوگئے۔ ان کو پریشان دیکھ کر گھر کے لوگوں کے چہرے کا رنگ بھی پھیکا ہونے لگا۔ انہوں نے جب ساری باتیں گھر کے لوگوں کو بتائیں تو سب نے مل کر ایک ساتھ سوچنا شروع کیا اور آخر میں یہ فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو پولیس تک پہنچا دینا چاہئے۔ ایسا ہی ہوا انہوں نے پولیس آفیسر کو ساری باتیں بتا دیں۔ پولیس والوں نے انہیں دلاسا دیا اور کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں۔ ان شاء اللہ آپ کا لڑکا مل جائے گا۔
 دوسرے دن صبح آٹھ بجے نعمت کے والد صاحب کے ساتھ پولیس والے بھی سادہ لباس میں پہاڑی بھوجلہ گئے۔ جہاں انہیں دس سے بارہ سال کے چھ لڑکے نعمت کے ساتھ کھڑے ہوئے ملے۔ پولیس والوں نے سبھی لڑکوں کو گرفتار کر لیا۔ جب پولیس اسٹیشن پر لاکر ان سے سوالات کئے گئے تو نعمت نے بتایا کہ ان کے ابّو اور گھر کے دوسرےافراد اسے بلاوجہ مارا کرتے تھے اور بغیر کسی غلطی کے ڈانٹتے بھی تھے۔ اس کے علاوہ اسکول میں بھی اسے مار پڑتی تھی۔ اس لئے اس نے اپنا اغوا کروایا تھا تاکہ وہ لوگوں کی مار اور ڈانٹ ڈپٹ سے چھٹکارا حاصل کرسکے۔ نعمت کی باتیں سن کر انسپکٹر کچھ دیر تک خاموش رہا۔ پھر نعمت کو سمجھاتے ہوئے اس نے کہنا شروع کیا ’’دیکھو بیٹا! مَیں مانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم بھی انہیں پریشان کرو... اغوا تو ایک جرم ہے... تم سمجھدار ہوتے ہوئے بھی اس کے مرتکب ہوئے ہو... کوئی بھی ماں باپ اور اسکول کا ٹیچر بغیر کسی غلط کے اپنی اولاد یا اپنے شاگرد کو نہیں مارتا ہے۔ تم ضرور شرارت کرتے ہوگے... وعدہ کرو کہ آئندہ کیلئے تم اپنی شرارتوں سے توبہ کر لو گے اور ہمیشہ اپنے والدین اور ٹیچر کی باتیں مانو گے...‘‘ ’’ہاں سر! مَیں ایسا ہی کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘ نعمت نے اثبات میں جواب دیا تو انسپکٹر نے اس سے کہا ’’اچھا اب تم جاؤ....‘‘
 اس کے بعد انسپکٹر نے نعمت کے والدین کو اپنے پاس بلایا اور انہیں سمجھاتے ہوئے کہ ’’مانا کہ بچّے شرارت کرتے ہیں.... لیکن ان کی شرارتوں کا جواب انہیں سمجھا کر دینا چاہئے۔ انہیں مارنا پیٹنا تو ایک طرح سے جرم ہوتا ہے۔ جس کی سزا قانونی طور پر بہت ہی سخت ہے۔ اسکول میں بھی پابندی ہے کہ کوئی بھی ماسٹر بچّوں کو نہیں مارے بلکہ انہیں پیار کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرے۔ اب تو آپ غلطی کر چکے ہیں جس کا نتیجہ خود آپ کے سامنے ہے۔ اب آپ وعدہ کریں کہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں کریں گے اور اپنے بچوں کی، خواہشوں کا احترام کریں گے۔‘‘انسپکٹر کی باتیں سن کر نعمت کے ابّو نے بھی کہا کہ ’’اب مَیں ایسا نہیں کروں گا اور اپنے بچّوں کو پیار سے سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ ساتھ ہی ان کی خواہشوں کا احترام بھی کروں گا۔‘‘ اب نعمت اپنے والدین کے ساتھ خوشی خوشی رہتا ہے۔ اسے اپنے والدین سے کوئی شکایت بھی نہیں ہے۔ گھر کے تمام لوگ اس کی خواہشات کا احترام کرتے ہیں اور کسی بھی چیز کی کمی اسے محسوس نہیں ہونے دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK