مٹھی بھر چاول

Updated: December 19, 2020, 3:16 AM IST | Javed Ansari | Mumbai

یہ کہانی سُونی نام کے لڑکے کی ہے۔ وہ ہر وقت غلیل لے کر چڑیاں کے پیچھے دوڑ رہتا تھا۔ جانیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

سُونی جب اپنے ماموں کے یہاں سے اپنے گاؤں آیا تو غلیل اور مٹی کی گولیاں بھی ساتھ لایا۔ وہ کچھ دنوں کے لئے اپنے ماموں کے یہاں بنارس گیا تھا۔ بہت ضد کرنے پر اس کی ماں نے اُسے کچھ دنوں کے لئے بنارس جانے دیا تھا۔ وہ تو چاہتی تھی، سُونی کیا، اس کا کوئی لڑکا شہر نہ جائے۔ اس نے سُنا تھا کہ شہر کے لڑکے بہت شریر اور برے چال چلن کے ہوجاتے ہیں ۔ مُرلی کا لڑکا راجا جب بھاگ کر شہر گیا، پھر لوٹ کر آیا تو اس میں کئی برائیاں پیدا ہوگئی تھیں ۔ راجا بیڑی، پان اور نہ جانے کیا کیا کھانے لگا تھا۔سُونی کی ماں نے جو سوچا تھا وہی ہوا۔ سُونی بنارس سے آنے کے بعد ہاتھ میں غلیل اور جیب میں مٹی کی گولیاں بھرے کھیتوں اور آم کے باغوں میں دوڑا کرتا۔ اُس پر جیسے کوئی بھوت سوار ہوگیا تھا۔ چڑیوں کے پیچھے بھاگتا رہتا۔کئی بار اس کی ماں بگڑی اور سمجھایا بھی۔ لیکن اُس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ چھٹیوں کے دن سارا دن غلیل چلاتے بتا دیتا۔ چڑیاں جب اسے دیکھتیں ۔ اپنی تیز تیز آواز میں اسے کوستیں ا ور آسمان میں اُڑ جاتیں ۔ 
کچھ دنوں سے وہ نہ جانے کیوں اُداس رہنے لگا تھا۔ جب وہ گھر سے چلتا تو مٹی کی گولیاں اور غلیل رکھ لیتا۔ لیکن اب اسے ایک بھی چڑیا دکھائی نہ دیتی۔ اس کے پہنچنے کے پہلے ہی وہ سب اڑ جاتیں ا ور دوسرے کھیتوں اور باغ میں چلی جاتیں ۔ ایسا کیوں ہوتا، یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ وہ اُداس سا رہنے لگا تھا۔ اُسے کوئی چڑیا آتے دیکھتی تو پھر سے اُڑ جاتی۔ سُونی ہاتھ ملتا رہ جاتا۔ پڑھنے میں بھی اس کا جی نہ لگتا۔ اس کے ماسٹر بھی اب اس سے ناراض رہنے لگے تھے۔ وہ اب پڑھنے میں پہلے سے کم دلچسپی لینے لگا تھا۔ سُونی کے گھر سے زیادہ غائب رہنے سے اس کی ماں بھی اس پر بہت بگڑتیں اور اس کے ابّا میاں سے بھی شکایت کرنے لگی تھیں ۔ سُونی اب کھویا کھویا سا رہنے لگا تھا۔ اس کی امّی بھی اس سے ناراض تھیں ۔ ابّا میاں بھی اسے بگڑتے۔ اسکول میں روز اس پر مار پڑتی۔ سُونی اب پڑھنے میں بہت کمزور ہوگیا تھا۔ وہ پیچھے کا سب سبق بھول گیا تھا۔ یہ سب باتیں سُونی کو بے چین کئے رہتیں ۔ 
ایک دن سُونی صبح اُٹھا تو بہت اداس تھا۔ اس کے چہرے پر مردنی چھائی ہوئی تھی۔ وہ آنگن میں دیوار کا سہارا لئے بیٹھا تھا۔ رات میں اس نے خواب دیکھا تھا کہ اس نے باغ میں اپنے غلیل سے ایک چڑیا کو زخمی کر دیا تھا۔ وہ بیچاری غلیل کی چوٹ سے تڑپنے لگی تھی۔ غلیل کی چوٹ لگتے ہی ایک جھاڑی میں گر پڑی تھی۔ اس کے پنکھ اس جھاڑی میں پھنس کر رہ گئے تھے اور بہت سی چڑیاں اُس کے اردگرد جمع ہوگئی تھیں ۔ وہ چڑیاں تیز تیز آواز میں چلّا رہی تھیں ۔ کچھ ہی دیر میں زخمی چڑیا نے پھڑپھڑا کر دم توڑ دیا تھا۔ یہ دیکھ کر سُونی کو ترس آگیا تھا۔ اس نے اسے بچانے کی لاکھ کوشش کی لیکن وہ اس بیچاری چڑیا کو بچا نہ سکا۔ یہ منظر دیکھ کر سُونی کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔ 
اِس خواب نے سُونی کو بہت بے چین کر دیا تھا۔ اُس کے غلیل سے کئی چڑیاں زخمی ہوگئی تھیں ۔ سُونی کے سامنے وہ سب ایک ساتھ آگئیں ۔ سُونی نے آنگن میں دیوار سے لگی کیل میں لٹکتے اپنے غلیل کو نفرت سے دیکھا۔ اب اسے اس غلیل سے نفرت ہوگئی تھی۔وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور غلیل ہاتھ میں لے کر اُسے نفرت سے دیکھنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اُس نے غلیل کو توڑ دیا۔ اس کی ماں پاس ہی بیٹھی چاول چُن رہی تھیں ۔ سُونی جلدی سے اٹھا اور اپنی ماں کے پاس چلا گیا۔ ماں اس کے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا غلیل دیکھ کر چونک پڑیں ۔ کہیں آج صبح ہی صبح سُونی کسی سے لڑ تو نہیں گیا؟ اس کی ماں نے ایک بار سُونی کے چہرے پر نظر ڈالی۔ سُونی کا چہرہ کھل اٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ ’’کیا بات ہے....؟ آج صبح ہی صبح تم بہت خوش ہو؟ یہ غلیل کیسے ٹوٹی؟‘‘ اس کی ماں نے سُونی سے پوچھا۔’’ماں ....! اب غلیل کی بات نہ کرو۔ مجھے اس سے نفرت ہوگئی ہے۔‘‘ سونی نے بہت معصومیت سے کہا۔اُس کی ماں ہنس پڑیں اور پیار سے اس کے گال پر ایک ہلکی سی چپت لگائی۔ اُس کے ہاتھ میں مٹھی بھر چاول دے کر کہا ’’لے جا.... اسے چڑیاں کو کھلا دے۔‘‘سُونی مٹھی بھر چاول لئے... خوش خوش باہر نکل گیا۔سُونی روز چڑیاں کو غلیل سے مارتا تھا۔ آج چڑیوں کو چاول کھلا کر اُسے بہت خوشی ہوئی۔ اسے ایک مٹھی چاول نے اتنی خوشی دی، جتنی خوشی ایک مٹھی سونا بھی اسے نہ دے سکتا۔ اب وہ چڑیوں کو روز چاول کھلانے لگا۔ چڑیاں اسے دیکھتے ہی چوں چوں کرتی، خوشی سے چہچہاتی اس کے پاس آجاتیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK