ببلو کی سائیکل

Updated: June 13, 2020, 11:16 AM IST | Saeed Lakht | Mumbai

ببلو نے گھبرا کر بریک لگائے لیکن سائیکل نہیں رکی سرپٹ دوڑتی رہی۔ ہارن آپ ہی آپ بجتا رہا۔ ببلو حیرت سے آنکھیں پھاڑے، سہما سہما گدّی پر بیٹھا تھا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ببلو چھوٹا سا تھا تو ابّو نے اسے اسکوٹر خرید کر دیا تھا۔ وہ دن بھر اُسے اپنے مکان کے سامنے فٹ پاتھ پر دوڑاتا پھرتا۔ اس کے بائیں ہینڈل میں چھوٹا سا ہارن لگا ہوا تھا جسے وہ زور زور سے بچاتا اور ساتھ ہی شور بھی مچاتا جاتا ’’ہٹ جاؤ! بچ جاؤ!‘‘اب وہ ۸؍ سال کا تھا اور جمعہ کے دن اُس کی سالگرہ تھی۔ ابّو نے پوچھا ’’بھئی! اب کے تمہیں کیا تحفہ دیا جائے؟‘‘ اس نے جھٹ کہا ’’مَیں تو سائیکل لوں گا۔ دو پہیوں والی.... سچ مچ کی سائیکل۔‘‘ ان کے گھر کے قریب ہی بازار تھا اور بازار میں سائیکلوں کی کئی دکانیں تھیں ۔ ابّو اسے ایک دکان پر لے گئے جہاں اُس نے ایک خوبصورت سی، لال رنگ کی سائیکل پسند کی۔ اس کے ساتھ ہوا بھرنے کا پمپ بھی تھا اور بائیں ہینڈل میں ہارن لگا ہوا تھا۔ ابّو نے دکاندار کو پونے تین سو روپے دیئے اور سائیکل لے کر گھر آگئے۔
 اس دن چھٹی تھی۔ ببلو چاہتا تھا کہ آج ہی سائیکل چلانا سیکھ لے۔ وہ سائیکل پر بیٹھ گیا تو ابّو نے پیچھے سے گدّی پکڑ لی اور بولے ’’ہاں بھئی! اب پیر مارو۔‘‘ ببلو نے پیڈل پر پیر مارے اور سائیکل چلنے لگی۔ ابّو اس کیساتھ ساتھ دورٹے رہے۔ تھوڑی دور جاکر انہوں نے گدّی پر سے ہاتھ ہٹا لیا اور ببلو بغیر سہارے کے سائیکل چلانے لگا۔ اس طرح اس نے ایک ہی دن میں سائیکل چلانا سیکھ لیا۔
 اور پھر تو یوں ہوتا کہ اسکول سے آتے ہی وہ اُلٹی سیدھی روٹی کھاتا اور سائیکل لے کر باہر نکل جاتا۔ امّی نے اُسے تاکید کر دی تھی کہ بڑی سڑک پر نہ جانا، نہیں تو سائیکل چھین لوں گی۔ وہ ڈر کے مارے بڑی سڑک پر تو نہ جاتا، ہاں گلی کوچوں اور فٹ پاتھ پر خوب دوڑاتا۔
 ببلو میاں اُن بچّوں میں سے ہیں جو چیزیں خرید لیتے ہیں لیکن انہیں ٹھیک سے رکھنے کا ڈھنگ نہیں جانتے۔ ایک چیز کہیں پڑی ہے تو دوسری کہیں ۔ کیرم بورڈ کھانے کے کمرے میں پڑا ہے تو گوٹیاں باورچی خانے میں لڑھک رہی ہیں ۔ گیند نالی میں پڑی سڑ رہی ہے تو بَلّا غسل خانے میں پڑا بھیگ رہا ہے۔ امّی اس کی چیزیں اٹھا اٹھا کر تھک جاتیں اور لاکھ سمجھاتیں مگر وہ اتنا لاپروا تھا کہ ایک ہی دن میں بھول جاتا اور پھر وہی حرکتیں کرنے لگتا۔
 سائیکل کے ساتھ بھی اس نے ایسا ہی کیا۔ ابّو نے کہا تھا کہ مَیں سائیکل خرید کر دے تو رہا ہوں مگر اسے سنبھال کر رکھنا۔ خراب ہوگئی تو دوسری لے کر نہیں دوں گا۔ سو جناب، ببلو میاں نے شروع شروع تو بڑی احتیاط کی، لیکن پھر اپنی پرانی عادت پر آگئے۔ سائیکل چلاتے چلاتے کوئی بات یاد آجاتی تو اسے باہر ہی چھوڑ کر گھر آجاتے۔ اب چاہے کوئی اٹھا کر ہی لے جائے۔ سائیکل کو کمرے یا برآمدے میں رکھنے کے بجائے کھلے صحن میں چھوڑ دیتے اور وہ دھوپ میں پڑی تپتی رہتی۔ کئی بار تو ایسا ہوا کہ رات کو بھی باہر صحن ہی میں رہ گئی اور ساری رات بارش میں بھیگتی رہی۔
 ایک دن اسکول سے آکر ببلو نے سائیکل نکالی اور باہر گلی میں چلانے لگا۔ گلی کے موڑ پر پہنچ کر اس نے واپس موڑنا چاہا تو وہ نہیں مڑی، سیدھی چلتی رہی۔ اس نے ہینڈل کو سیدھی طرف موڑا تو وہ بائیں طرف مڑ گیا۔ بائیں طرف بازار تھا۔ سڑک پر بے شمار سائیکلیں ، کاریں اور دوسری سواریاں آجا رہی تھیں ۔ ببلو نے گھبرا کر بریک لگائے لیکن سائیکل نہیں رکی سرپٹ دوڑتی رہی۔ ہارن آپ ہی آپ بجتا رہا۔ ببلو حیرت سے آنکھیں پھاڑے، سہما سہما گدّی پر بیٹھا تھا۔ اُسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے پیر پیڈلوں کو نہیں چلا رہے پیڈل اس کے پیروں کو گھما رہے ہیں ۔
 پھر اچانک سائیکل ایک دکان کے سامنے جاکر رُک گئی۔ یہ وہی دکان تھی جہاں سے ببلو نے یہ سائیکل خریدی تھی۔ دکاندار نے ببلو کو پہچان لیا اور بولا ’’ارے بیٹا! خیر تو ہے؟ سائیکل میں کچھ خرابی ہوگئی ہے؟‘‘ ببلو نے گھبرا کر کہا ’’پتہ نہیں .... م م.... مجھے معلوم نہیں ۔‘‘ دکاندار حیرت سے بولا ’’پتہ نہیں .... تو پھر تم اسے یہاں کیوں لائے ہو؟‘‘ ’’مَیں اسے نہیں لایا۔‘‘ ببلو نے کہا ’’یہ مجھے لائی ہے۔‘‘ دکاندار نے تعجب سے کہا ’’یعنی سائیکل تمہیں یہاں لائی ہے؟ تم اسے نہیں لائے؟ کمال ہے بھئی! ایسی بات پہلے نہ کبھی سنی نہ دیکھی؟‘‘ ’’ہاں .... ہاں ! یہ مجھے لائی ہے۔‘‘ ببلو نے زور دے کر کہا ’’مَیں نے اسے سیدھی طرف موڑا تو یہ الٹی طرف مڑ گئی۔ الٹی طرف موڑا تو سیدھی طرف مڑ گئی۔ مَیں نے بہتیرے بریک لگائے مگر رُکی ہی نہیں اور سیدھی بازار میں آگئی اور.... اور پھر آپ کی دکان کے پاس آکر رک گئی۔‘‘ دکاندار کچھ سوچ کر بولا ’’ہوں ! تو یہ بات ہے۔ ذرا دکھایئے تو....‘‘ اس نے سائیکل کو الٹا کھڑا کر دیا۔ پہلے پیڈل گھما کر دیکھے، پھر چین دیکھی۔ اس کے بعد پہیوں کی ہواو چیک کی۔ پھر بریک دبا کر دیکھے۔ ’’بھئی! یہ تو بالکل ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے کہا ’’کوئی چیز بھی تو خراب نہیں ۔‘‘ پھر اچانک اس کا ہاتھ ہارن پر پڑ گیا۔ ہارن میں سے آواز آئی ’’تیل تیل‘‘ دکاندار نے گھبرا کر ہارن چھوڑ دیا اور ببلو سے بولا ’’کیا آپ نے کچھ کہا؟‘‘ ’’مَیں نے تو کچھ نہیں کہا۔‘‘ ببلو بولا، ’’ہارن میں سے آواز آئی تھی۔‘‘ ’’ہارن میں سے؟‘‘ دکاندار کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اس نے دوبارہ ہارن بجایا تو آواز آئی ’’تیل ڈالو، تیل۔‘‘ دکاندار اچھل کر پرے ہٹ گیا اور بولا ’’یہ تو کوئی جادو کی سائیکل معلوم ہوتی ہے۔ ٹھہریئے! مَیں تیل لے کر آتا ہوں ۔‘‘ وہ جلدی سے اٹھا اور اندر سے تیل کی کُپّی لے آیا۔ اس نے سائیکل کے پرزوں میں تیل دیا اور بولا ’’اب یہ نہیں بولے گی۔ مَیں نے خوب تیل ڈال دیا ہے۔‘‘ مگر ببلو کو اطمینان نہیں ہوا ’’ٹھہریئے! ہارن بجا کر دیکھتا ہوں ۔ شاید اسے کسی اور چیز کی ضرورت ہو۔‘‘ اس نے ہارن بجایا تو آواز آئی پوں پوں .... مجھے دھوپ اور بارش سے بچاؤ.... روزانہ صاف کرو.... ہفتے کے ہفتے تیل ڈالو۔ نہیں تو میرے پرزوں میں زنگ لگ جائے گا۔
 ببلو بولا ‘‘مجھے افسوس ہے سائیکل صاحبہ کہ مَیں نے آپ کی اچھی طرح دیکھ بھال نہ کی۔ اچھا، اب وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ آپ کو شکایت کا موقع نہ دوں گا؟‘‘ یہ کہہ کر اس نے پھر ہارن بجایا تو آواز آئی ’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔‘‘
 اس دن سے ببلو سائیکل کا بہت خیال رکھتا ہے۔ اسے دھوپ اور بارش سے بچاتا ہے، روز صاف کرتا ہے اور ہفتے میں ایک بار پرزوں میں تیل ضرور ڈالتا ہے۔ اب سائیکل بھی اس سے خوش ہے۔ وہ اس کا کہا مانتی ہے۔ وہ اسے جدھر موڑتا ہے، مڑ جاتی ہے اور جب بریک لگاتا ہے تو رک جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK