• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

’’باجی دال....‘‘

Updated: November 25, 2023, 1:17 PM IST | Ambrin Saqib Hussain | Mumbai

ہم اپنی چھوٹی پھوپھی کی شادی میں اپنی دادی کے گاؤں گئے۔ وہاں ہمیں رہتے ہوئے پانچ دن ہوگئے تھے۔ شادی کی تیاریاں بڑے زور و شور سے جاری تھیں۔ روزانہ مسالے دار پکوان تیار ہو رہے تھے۔ ہم اور ہماری کزنز تنگ آگئے تھے۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

ہم اپنی چھوٹی پھوپھی کی شادی میں اپنی دادی کے گاؤں گئے۔ وہاں ہمیں رہتے ہوئے پانچ دن ہوگئے تھے۔ شادی کی تیاریاں بڑے زور و شور سے جاری تھیں ۔ روزانہ مسالے دار پکوان تیار ہو رہے تھے۔ ہم اور ہماری کزنز تنگ آگئے تھے۔
 آخر ہماری کزنز نے یہ فیصلہ کیا کہ آج شام دال پکائی جائے۔
 اب سب نے سوچنا شروع کیا کہ کون سی دال پکائی جائے؟ ہماری بڑی پھوپھی کی لڑکی نے کہا، ’’بھئی! چنے کی دال پکانی چاہئے۔ بڑی لذیذ ہوتی ہے۔‘‘
 اب مسئلہ تھا کہ دال کس کے گھر پکائی جائے اور دال کون پکائے گا؟ کیونکہ کسی کو بھی دال پکانی نہیں آتی تھی۔ ہم نے شیخی میں آکر کہہ دیا کہ ہمیں دال پکانی آتی ہے اور ایسی لذیذ دال بناتے ہیں کہ جو کھاتا ہے وہ تعریف کئے بغیر نہیں رہتا۔‘‘
 چنانچہ دال منگوائی گئی ا ور دال پکانے کے لئے پھوپھی جان کا گھر منتخب کیا گیا۔
 چھان پھٹک کر دال صاف کی گئی۔ پھر ہم نے چولہا جلایا جو کچھ دیر جلنے کے بعد بجھ گیا (یاد رہے کہ پھوپھی کے گھر لکڑیوں کا چولہا ہے)۔ ہم نے بڑی مشکلوں سے دوبارہ چولہا جلایا لیکن پھر بجھ گیا۔
 ’’بھئی ہم سے تو نہیں جل رہا!‘‘ ہم نے ہار مان لی تو عالیہ نے بڑی مشکلوں سے پھونکیں مار مار کر چولہا جلایا۔
 ’’چلو دال پکاؤ....‘‘ عالیہ نے کہا تو ہم نے چولہے پر ہانڈی چڑھا دی۔ پکانا تو ہمیں آتا ہی نہیں تھا بس ایسے ہی شیخی مار دی تھی کہ ہم بہت اچھی دال پکا لیتے ہیں ۔ بہرحال پھوپھی سے پوچھ کر دال میں مسالہ وغیرہ ڈالا.... پھر گھی اور پانی ڈال کر دال گلنے کا انتظار کرنے لگے۔ پھوپھی اور ان کے بچّے بھی مسالے دار کھانے کھا کھا کر تنگ آگئے تھے۔ اب جو ہم نے دال پکانا شروع کی تو سب کہنے لگی کہ تمہارے ہاتھ کی دال کھائیں گے۔
 یہ سن کر ہم فخر سے تن گئے اور لگے مزید شیخیاں بھگارنے کہ ہم سے اچھی کوئی دال پکا ہی نہیں سکتا.... جو ایک بار ہمارے ہاتھ کی پکی ہوئی دال کھا لے پھر وہ تمام زندگی انگلیاں ہی چاٹتا رہتا ہے۔
 ہم اپنی کزنز اور پھوپھو سے باتیں بھی کرتے جا رہے تھے اور بار بار ہانڈی میں ڈوئی مار مار کر دال کو دیکھتے بھی جا رہے تھے کہ دال گلی کہ نہیں ۔ دو گھنٹے ہوگئے تھے۔ ہم بالٹی بھر پانی ہانڈی میں اُنڈیل چکے تھے لیکن دال تھی کہ گلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
 ادھر بھوک کے مارے سب کا برا حال تھا۔ خود ہمارے پیٹ میں بھوکے چوہے سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہے تھے۔
 خدا خدا کرکے دال پکی تو سب نے کھانا شروع کیا۔ سب کھا رہے تھے اور اپنے اپنے ریمارکس دے رہے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا، ’’دال گلی نہیں !‘‘
 کوئی کہہ رہا تھا، ’’پتہ نہیں کیا چیز بنی ہے؟‘‘
 پھوپھی جان نے تو ہمیں شرمندہ ہی کر دیا۔ کہنے لگیں ، ’’عنبرین کیا شہر میں اسی طرح کی دال پکتی ہے؟‘‘
 ہم کیا جواب دیتے۔ خاموشی سے سر جھکائے دال چبانے کی کوشش میں مصروف رہے۔
 رات کو سب کے پیٹ میں شدید درد اٹھا۔ ہم بھی ان درد کے ماروں میں شامل تھے۔
 سب کو ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے دوا دی اور بتایا کہ سخت قسم کی دال کھانے سے سب کی یہ حالت ہوئی ہے۔
 واپسی پر سب ہمیں چڑا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آئندہ تمہارے ہاتھ کی بنی ہوئی کوئی چیز نہیں کھائیں گے۔
 اب کبھی جب ہم گاؤں جاتے ہیں تو کوئی بھی ہمیں ہمارے نام سے نہیں پکارتا بلکہ سب ’’باجی دال....‘‘ کہہ کر چڑاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK