کالا آم

Updated: March 28, 2020, 9:20 AM IST | Sayed Safdar Raza Khandwi

آم کا گھنا درخت ’’کالا آم‘ ‘کے نام سے مشہور تھا۔ گاؤں والے کہتے تھے کہ اس درخت کے تنے میں ایک بہت پرانے کالے ناگ کا قیام ہے لیکن تعجب گاؤں والوں کو اس بات پر تھا کہ اس نے کسی انسان کو نہیں ستایا، چونکہ وہ آم کے درخت میں برسوں سے رہ رہا تھا اور گاؤں والے اسے اس درخت میں بارہا دیکھ چکے تھے اس لئے ’’کالا آم‘‘ سے اس درخت کو منسوب کر دیا۔

For Representation Purpose Only.
علامتی تصویر۔

ہمارے گاؤں کے پاس سے بہنے والا نالہ کہنے کو تو برساتی تھا، لیکن اس میں ہمیشہ پانی بھرا رہتا تھا۔ گرمیوں کے موسم میں بس پانی ضرور کم ہو جاتا تھا۔ گاؤں کے تمام مویشی اس سے سیراب ہوتے اور بھینسیں اس میں نہاتیں، گاؤں کے بچے کود کود کر نہاتے اور عورتیں اس پر بنے رَپٹے کو دھوبی گھاٹ کی طرح استعمال کرتیں۔ گاؤں والے اسے زندہ نالہ بھی کہتے تھے۔ کبھی اس کے کنارے گھنے اور ہرے بھرے درختوں کا جال سا بچھا تھا لیکن اب پچھلے کچھ برسوں سے یہ ہرے بھرے اور گھنے درخت یا تو بے رحم آندھی میں گر کر برباد ہو گئے تھے یا لوگوں نے ایندھن کیلئے انہیں غیر قانونی طریقہ سے کاٹ کر اس قدرتی حسن کو ختم کر دیا تھا۔ نالے میں اب پانی بہت کم رہنے لگا تھا۔ وہ پہلی سی رونق نہیں تھی۔ بچّوں کی بھیڑ اور پنگھٹ پر پنیہارنوں کی ہلچل اور کنارے کے درخت کٹ جانے کی وجہ سے اس کی خوبصورتی ویرانی میں تبدیل ہوگئی تھی۔ چوری چھپے گاؤں کے چند بدمعاش قسم کے لوگ جنہوں نے درخت کاٹ کر فروخت کرنا اور پیسہ کمانا اپنا پیشہ بنا لیا تھا۔ ان کی نگاہیں اب نالے کے رَپٹے سے کچھ فاصلے پر تھوڑی اونچائی والے ٹیلے کے آم کے اس درخت پر لگی ہوئی تھیں، جس کی گھنی چھاؤں میں گاؤں کے تمام مویشی دھوپ سے بچنے کے لئے بیٹھ جایا کرتے اور چرواہے اپنی تھکان کچھ ہلکان کر لیا کرتے تھے۔
 آم کا یہ گھنا درخت ’’کالا آم‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔ گاؤں والے کہتے تھے کہ اس درخت کے تنے میں ایک بہت پرانے کالے ناگ کا قیام ہے وہ کافی لمبا اور قدیم ہے کہ اس کی مونچھیں تک نکل آئی ہیں۔ اکثر رات میں وہ اس آم کے درخت کے تنے سے باہر نکلتا ہے اور نالے کے کنارے کنارے کیڑے مکوڑے، مینڈک وغیرہ اپنی غذا کے لئے تلاش کرتا ہے پھر رات ڈھلتے ہی اپنی قیام گاہ یعنی آم کے تنے کے سوراخ میں واپس چلا جاتا ہے۔ کالے ناگ کا کئی برسوں سے اس پیڑ میں قیام تھا لیکن تعجب گاؤں والوں کو اس بات پر تھا کہ اس نے کسی انسان کو نہیں ستایا، چونکہ وہ آم کے درخت میں برسوں سے رہ رہا تھا اور گاؤں والے اسے اس درخت میں بارہا دیکھ چکے تھے اس لئے ’’کالا آم‘‘ کے نام سے اس درخت کو منسوب کر دیا۔
 آم کے اس پرانے گھنے درخت پر پھل لگنا بند ہوگئے تھے۔ نالے کے کنارے ہونے کی وجہ سے پانی اور نمی حاصل کرتے رہنے سے اس کی پتیاں، شاخیں اور تنا کافی گھنا ہوگیا تھا۔ تنے کا وہ سوراخ جو کالے ناگ کی قیام گاہ تھا اس پر کہیں کہیں دیمک نے بھی اپنا جال بچھا دیا تھا۔ گاؤں کے اس نالے کے آس پاس آم، کہو، مہو، ببول کے درخت کٹ جانے کے بعد چوری چھپے درخت کاٹ کر لکڑیاں بیچنے والے گروہ کی نگاہیں اب کالا آم پر لگی ہوئی تھیں لیکن انہیں اس پر ہاتھ ڈالنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ اس کا ایک سبب تو یہ تھا کہ کالا آم عام راستے پر نالے کے رَپٹے سے قریب تھا جہاں رات بھی آمدورفت تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ انہیں کالے رنگ کا خوف تھا۔ مگر وہ موقع کی تلاش میں تھے۔ ایک دن انہیں موقع ہاتھ لگ ہی گیا۔ رات اندھیری اور گہری ہو چلی تھی درخت کاٹنے والے لوگ تیز دھار کلہاڑیاں لئے کالا آم کے قریب پہنچ گئے۔ انہیں معلوم تھا کہ اس وقت کالا ناگ درخت کے تنے میں نہیں ہے۔ وہ اپنی غذا کی تلاش میں باہر گیا ہوا ہے۔ موقع غنیمت جان کر آم کے پیڑ کے تنے پر ان لوگوں نے کلہاڑیوں سے کئی وار کئے اور تنا کے چھلکے بکھیر دیئے۔ چھلے ہوئے تنے پر درخت کو سکھا دینے والی دوائی ڈال دی اور اندھیرے سے فائدہ اٹھا کر وہاں سے تیزی کے ساتھ بھاگ نکلے۔
 جب کالا آم کے تنے پر تیز کلہاڑی کے گھاؤ لگائے گئے تھے اس وقت درد سے کراہ اٹھا تھا اس کی شاخوں میں کپکپی دوڑ گئی۔ تیز آندھی میں بھی وہ اس طرح نہیں کانپا تھا جتنا اس وقت وہ کانپ رہا تھا۔ اسی درمیان رات ڈھلنے لگی تھی اور کالا ناگ ہمیشہ کی طرح درخت کے قریب پہنچا تو اس نے دیکھا تنے کے چھلکے نکلے ہوئے ہیں۔ وہ بھانپ گیا، یہ کام غیر قانونی طور سے درخت کاٹ کر لکڑی بیچنے والے گروہ کا ہے۔ جب وہ سوراخ کے ذریعے درخت کے اندر داخل ہوا تو اس نے آم کے درخت کی کپکپی محسوس کی۔ برسوں درخت کے تنے میں رہتے ہوئے وہ اس کے مزاج سے بخوبی واقف تھا۔ اس نے درخت سے کہا ’’کیوں کانپ رہے ہو، اس لئے کہ تمہیں کاٹ کر تمہاری زندگی تمام کر دیں گے یہ درختوں کے قاتل..... گھبراؤ نہیں مَیں ایسا نہیں ہونے دوں گا..... جانتے ہو.... تمہاری زندگی سے میری زندگی کا گہرا تعلق ہے۔ میری قیام گاہ ہو تم صدیوں سے، یہی نہیں.... مویشیوں کی ٹھان ہوں صدیوں سے، چرواہوں کے سستانے کی جگہ ہو صدیوںسے اور ان سب سے بڑھ کر یہ تم تازہ ہوا دیتے ہو انسانوں کو، اور وہی آج تمہاری زندگی سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔‘‘ کالے ناگ نے آگے کہا ’’میرے ہوتے ہوئے اب تمہیں کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا.... تمہارے تنے پر کلہاڑی کے لگے گھاؤں پر میں اپنی پھنکار سے مرہم رکھ دوں گا تاکہ تمہیں نقصان پہنچانے والی دواؤں کا اثر زائل ہو جائے اور تم خطرہ سے بچ جاؤ.... اور ہاں! تم بے فکر رہو۔ کل رات مَیں اپنی غذا کی تلاش میں تنے سے باہر نہیں جاؤں گا.... تم خود یکھنا.... آنے دو، درختوں کے ان قاتلوں کو۔‘‘ کالا آم کو کالے ناگ کی ان باتوں سے کچھ تسلی ملی اور اس کی گھبراہٹ میں کچھ فرق آیا۔ درخت نے اطمینان کی سانس لی اور آنے والے کل کا انتظار کرنے لگا۔
 دوسرے دن گاؤں والوں نے دیکھا کہ کالا آم کے پاس کچھ لاشیں پڑی ہوئی ہیں اور ان لاشوں کے قریب ہی تیز دھار دار کلہاڑیاں بھی پڑی ہوئی ہیں۔ گاؤں والے کہہ رہے تھے ’’آخر یہ لوگ نہیں مانے، کالا آم کو بھی اپنا نشانہ بنانے چلے تھے.... دیکھ لیا... انجام.... پیڑ کاٹنے کا....‘‘ ’’کالا آم!‘‘ آج بھی اپنا گھنا سایہ دے رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK