EPAPER
Updated: May 16, 2026, 2:47 PM IST | Mohammed Rafi Ansari | Mumbai
سب سے پہلے تو یہ جانئے کہ مردم شماری کا مطلب کیا ہے؟مردم کے معنی ہیں ’آدمی‘انسان‘ عام لوگ، اور شماری کا مطلب ہے ’شمار کرنا یعنی گننا۔
پیارے بچّو!مردم شماری کا ان دنوں بڑا چرچا ہے۔ کبھی تم نے سوچا ہے کہ یہ کیا ہے ؟ یہ ملک میں کب کب ہوتی ہے ؟ یہ کیسے انجام دی جاتی ہے؟ اس کے کیا فائدے ہیں ؟
سب سے پہلے تو یہ جانئے کہ مردم شماری کا مطلب کیا ہے؟مردم کے معنی ہیں ’آدمی‘انسان‘ عام لوگ، اور شماری کا مطلب ہے ’شمار کرنا یعنی گننا۔ آسان زبان میں اسے ’ لوگوں کی گنتی کرنا ‘کہیں گے۔ مگر ایک بات اور یاد ررکھوکہ مردم شماری میں صرف لوگوں کو گنا ہی نہیں جاتا بلکہ بہت ساری باتوں کاپتہ لگایا جاتا ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ مردم شماری ہردس سال کے وقفے سے انجام دی جاتی ہے۔ آج ہمارے ملک کی آبادی ایک ارب سینتالیس کروڑ انچاس لاکھ بتلائی جاتی ہے۔ سولہویں مردم شماری کے بعد دیکھئے اس میں کتنا اضافہ ہوتا ہے۔
یہ تو تم کو معلوم ہی ہے کہ ملک کی آزادی سے پہلے ہمارے ملک پر انگریزوں کی حکومت تھی۔ انگریز حاکم کو ’وائسرائے‘ کہتے تھے۔ ۱۸۷۲ء میں جو وائسرائے تھا وہ ’لارڈ میو ‘ کہلاتاتھا۔ سب سے پہلے اسی کے دل میں ہندوستان کی آبادی کو گننے کا خیال آیا۔ اس نے کئی علاقوں کی آبادی معلوم کرنے کے لئے مردم شماری کا آغاز کیا۔ یہ مردم شماری کی ابتدائی شکل تھی اس لئے کئی اعتبار سے نا مکمل تھی۔ لارڈ میو کے بعد ’لارڈ رِ پن‘ ۱۸۸۰ء سے ۱۸۸۴ء تک وائسرائے کے عہدے پر فائز رہا۔ اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے کے لئے اس نے کئی اصلاحات کیں۔ اسی نے ۱۸۸ء میں پہلی مرتبہ ’مردم شماری ‘ کروائی۔ اس مردم شماری کو باقاعدہ اور منظم مردم شماری مانا جاتا ہے۔ یہ آج سے ۱۴۵؍ سال پہلے کی بات ہے۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خا لی نہیں کہ انگریزوں کے عہدے میں ۱۸۷۲ء سے ۱۹۴۱ء تک کُل آٹھ مردم شماری کی گئی۔
۱۹۴۷ء میں ہمارا ملک آزاد ہوا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو اس کے پہلے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے۔ آزاد ہندوستان کی پہلی مردم شماری ۱۹۵۱ء میں ہوئی اور پھر اس کے بعد ہر دس سال کے وقفے سے یہ بالترتیب ۱۹۶۱ء، ۱۹۷۱ء، ۱۹۸۱ء، ۱۹۹۱ء، ۲۰۰۱ء اور ۲۰۱۱ء میں ہوئی اور اس کے بعد اب ۲۰۲۶ء میں ہورہی ہے۔
یہاں تمہارے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ ۲۰۱۱ء کے بعد قاعدے کے مطابق ۲۰۲۱ء میں مردم شماری ہونی چاہئے تھی، پھر اس میں تاخیر کیوں ہوئی؟ تو اس کا جواب ہے کہ اُن دنوں چونکہ پوری دُنیا میں ’’کووڈ کی وبا ‘‘ پھیلی ہوئی تھی اور ہمارا ملک بھی بُری طرح اس کی زد میں آگیا تھا، اس لئے مردم شماری نہ ہوسکی تھی۔
اب سوال یہ ہے کہ مردم شماری کیوں کی جاتی ہے اور اس کے کیا فائدے ہیں ؟ تو سنو اس کے ایک دو نہیں بلکہ کئی فوائد ہیں، جیسے:
مردم شماری سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں کتنے لوگ ہیں۔
کتنے تعلیم یافتہ ہیں اور کتنے بے پڑھے لکھے ہیں۔ کتنے غریب ہیں ۔ کتنوں کا روزگار ہے اور کتنے بے روزگار ہیں۔ نیز یہ کہ ملک میں کتنے مرد اور کتنی عورتیں ہیں، وہ کس مذہب کے ماننے والے ہیں اور وہ کون سی زبان بولتے ہیں، پھر یہ بھی معلوم کیا جاتا ہے کہ ان کی سماجی اور معاشی حالت کیسی ہے۔ اس میں آبادی کی تعداد، زبان، نسل، تعلیم اور دیگر تفصیلات کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔
مردم شماری کی روشنی میں انتخابی حلقہ بندیوں کا تعین بھی ہوتاہے۔ یعنی آبا دی کو دیکھ کریہ طے کیا جاتا ہے کہ الیکشن کے لئے کتنے حلقے اور کہاں کہاں ہونے چاہئیں۔
مردم شماری کے ذریعے ملک کی اصلی تصویر سامنے آتی ہے۔ اسے دیکھ کر پالیسی بنانے والوں کو مستقبل کے لئے بہتر منصوبہ بندی کرنے میں مدد ملتی ہے۔
مردم شماری کے اعداد و شمار کی روشنی میں حکومت کے کئی اہم کام انجام پاتے ہیں۔ مثلاً مردم شماری ہی کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ کہاں کہاں اسکول، اسپتال اور راستوں کی ضرورت ہے۔ اسی کے سبب ہر علاقے اور طبقے کو ان کی آبادی اور ان کی معاشی حالت کے مطابق ترقی کرنے کا راستہ ہموار کیا جاتاہے۔
مردم شماری کے ذریعے آبادی کا درست اندازہ لگا کر ملکی بجٹ بھی ترتیب دیاجاتا ہے۔
موجودہ مردم شماری اور اس کی خصوصیات:
سولہویں مردم شماری کا آغاز یکم اپریل ۲۰۲۶ء سے ہوچکا ہے۔ یہ ستمبر ۲۰۲۶ءتک مکمل کی جائے گی۔ یہ دُنیا کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری ہے۔ جس کے ذریعے ہمیں گھر بیٹھے ڈیجیٹل روپ سے ڈیٹا بھرنے کی سہولت حاصل ہے۔ اسے Self Enumerationیعنی ’خود اندراج‘ کہتے ہیں۔ اس میں کل ۳۶؍ سوالوں کے جواب دینے ہیں۔ خود اندراج کرنے والے سولہ زبانوں میں سے کسی ایک زبان میں اپنے موبائل، لیپ ٹاپ یا پورٹل پر اپنی معلومات دے سکتے ہیں۔ وہ سولہ زبانیں یہ ہیں ’ہندی، انگریزی، بنگالی، مراٹھی، تیلگو، تمل، کنڑ، ملیالم، گجراتی، اڑیا، پنجابی، آسامی، اُردو، سنسکرت، میتھلی، کشمیری اور ڈوگری۔ پہلا مرحلہ ۱۶ ؍ مئی ۲۰۲۶ء سے ۱۴؍ جون تک چلے گا۔ مردم شماری فروری ۲۰۲۷ کو تکمیل کو پہنچے گی۔
جانتے ہو، سولہویں مردم شماری کے لئے سرکار نے کتنے لوگوں کو کام پر لگایا ہے؟اس مردم شماری کے لئے جو خدمت گار عملہ بنایا گیا ہے اس کی کل تعدادلگ بھگ ۳۴؍ لاکھ ہے۔
مردم شماری کا انتظام ’مردم شماری کمشنر‘ کے ذریعے انجام دیا جا تاہے۔ سولہویں مردم شماری کے کمشنر ہیں شری مرتیونجے کمار نارائن
بچّو! ہم نے مردم شماری کے بارے میں تمام سوالوں کا جواب دے دیا۔ اب ایک سوال تم سے ہے۔ اب ذرا اپنے گھر میں دریافت کروکہ کیا تمہارے والد، چچا یادادا، وغیرہ نے ’خود اندراج ‘ کیا بھی ہے یا نہیں۔ اگر نہیں کیا ہے تو انھیں یہ کام پہلی فرصت میں کرنے کو کہو۔