بدلتی قسمت

Updated: December 12, 2020, 3:10 AM IST | Ansari Uroosa Naseem Akhtar | Mumbai

آخر کار نور کو بھیک مانگنے کی نوبت آگئی۔ اسے اپنے والدین کا خواب یاد آنے لگا جسے شاید وہ کبھی پورا نہ کرسکے گی۔ اسے اپنے اسکول کے دوست یاد آنے لگے وہی دوست جو پہلے اس کے ساتھ رہا کرتے تھے آج وہی اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ایک دن کی بات ہے۔ ایک چھوٹے سے گھر میں ایک غریب لڑکی اپنے ماں باپ کے ساتھ گزر بسر کرتی تھی۔ اس لڑکی کے والد دھوبی تھے، وہ لوگوں کا کپڑا دھویا کرتے تھے۔ معمولی سی کمائی ہونے کے باوجود وہ لوگ خوشی خوشی رہا کرتے تھے۔ اس لڑکی کا نام تو ویسے ’’نوری‘‘ تھا مگر اس کے والد اسے پیار سے نور بلاتے تھے۔ اس کے والد کا ایک بہت بڑا خواب تھا کہ نور بڑی ہوکر ایک ڈاکٹر بنے کیونکہ نوری پڑھنے میں بہت ذہین تھی۔ اسی طرح نور بھی اپنے والدین کا خواب سچ کرنا چاہتی تھی کیونکہ اس کے والدین اس کے لئے سب کچھ تھے۔ مگر نور ابھی بہت چھوٹی تھی وہ ابھی سوم جماعت کی طالبعلم تھی۔ اس بھرے پرے شہر میں صرف نور کے چند رشتہ دار رہا کرتے تھے۔ انہیں کچھ دن نور کے والد نے اپنے گھر میں ٹھکانہ دیا تھا مگر جب وہ کامیاب ہوگئے تو خود کے مکان میں رہنے لگے۔ نور کے والد کو اپنے رشتہ داروں پر بڑا بھروسہ تھا کہ وہ مصیبت آنے پر ان کی مدد ضرور کریں گے۔ انہوں نے کبھی بھی کسی غیر پر یقین نہیں کیا۔ یوں ہی چند برس گزر گئے۔ نور اب پنجم جماعت میں پہنچ گئی اور تعلیم حاصل کرنے لگی مگر بڑھتے وقت کے ساتھ نور کے والد کی طبیعت خراب رہنے لگی اور کمزوری بھی بڑھنے لگی اور نور کی فیس بھی۔ اور کچھ دن بعد نور کے والد بیمار رہتے رہتے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ نور نے تعلیم حاصل کرنا بھی بند کر دیا۔ اس چھوٹے سے گھر میں صرف نور اور اس کی ماں تھی۔
 ماں بیچاری کیا کرتی جو کچھ گھر میں تھا انہیں بیچ کر کچھ دن جیسے تیسے گزاریں ۔ اس کے بعد حالات بگڑتے گئے اور فاقہ کشی کی نوبت آگئی اور یہ صدمہ ماں برداشت نہ کرسکی اور اس دنیا کو چھوڑ کر چلی گئی۔ بیچاری نور اکیلی پڑ گئی اس کی تو جیسے دنیا ہی اجڑ گئی اور بھوک کے مارے اس کی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا۔ اس نے سوچا کیوں نہ مَیں چچا کے پاس جاؤں جن پر میرے والد کو بڑا فخر ہوا کرتا تھا۔ وہ بھوک کے مارے گرتی پڑتی چچا کے پاس پہنچی۔ چچا تو اس وقت گھر پر نہیں تھے مگر چاچی نے جیسے ہی اسے وہاں دیکھا انہوں نے فوراً گھر کا دروازہ بند کر دیا۔ نور بہت دکھی ہوئی۔ اس نے رو کر چاچی سے گزارش کی کہ ’’مجھے اندر آنے دیں ، مَیں بہت بھوکی ہوں ۔‘‘ چاچی کو اس پر ذرا بھی رحم نہ آیا۔ اس نے ایک باسی روٹی پر تھوڑی سی سبزی دے کر اسے بھگا دیا۔ پھر نور دھیرے دھیرے اپنے ہر رشتہ داروں کے پاس گئی مگر سب نے اسے بھگا دیا اور اسے رکھنے سے انکار کر دیا۔ نور نے سوچا کہ وہی لوگ جو پہلے مجھے تازہ کھانا کھلائے بغیر بھیجتے نہیں تھے آج وہی لوگ مجھے بھگا رہے ہیں ۔ آخر کار نور کو بھیک مانگنے کی نوبت آگئی۔ اسے اپنے والدین کا خواب یاد آنے لگا جسے شاید وہ کبھی پورا نہ کرسکے گی۔ اسے اپنے اسکول کے دوست یاد آنے لگے وہی دوست جو پہلے اس کے ساتھ رہا کرتے تھے آج وہی اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ بہت رات ہو چکی تھی۔ نور نے بھیک کے کچھ پیسوں سے کھانا کھایا اور پھر اپنے اس چھوٹے سے گھر میں جاکر سو گئی۔ 
دوسرے دن بھی نور بھیک مانگنے سڑک پر بیٹھی اور اپنی قسمت پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ مگر اس کی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک بہت ہی اچھا کپڑا پہنے ہوئے ایک امیر آدمی اس کی طرف آ رہا ہے۔ نور کو یاد آیا کہ یہ وہی آدمی ہے جس کے کپڑے اس کے والد دھویا کرتے تھے۔ وہ آدمی نور کو پیسے دینے کے بجائے اس سے اس کا نام پوچھا۔ نور نے بڑی معصومیت سے اپنا نام بتایا پھر اس کے بعد اس آدمی نے اس سے پوچھا کہ ’’تم اس طرح بھیک کیوں مانگ رہی ہو۔ تمہارے ماں باپ کے علاوہ اس شہر میں تمہارا کوئی رشتہ دار نہیں ہے کیا؟‘‘ نور نے رو رو کر اپنی پوری داستان سنا دی۔ اس آدمی کو اس پر رحم آگیا۔ ویسے بھی اس کے یہاں کوئی اولاد نہیں تھی اس لئے اس نے نور کو گود لے لیا اور نور کا اچھی اسکول میں داخلہ کرا دیا۔ وقت کا پہیہ یوں ہی گزرتا رہا اور وہ بہت بڑی یونیورسٹی میں امتحان پاس کرکے ڈاکٹر بن گئی۔ آخر اس نے اپنے والدین کا خواب سچ کر دکھایا مگر ابھی بھی اسے اپنے والدین کی یاد آتی تھی اور وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ اپنوں سے بہتر تو غیر ہوتے ہیں جو اپنائیت تو دکھاتے ہیں ۔
کہانی لکھنے والی ساتویں جماعت کی طالبہ ہیں 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK