ہاتھیوں کا بٹوارہ

Updated: December 05, 2020, 3:06 AM IST | Mayal Khairabadi | Mumbai

بہت دنوں کی بات ہے۔ ایک آدمی تھا۔ وہ ہاتھیوں کی تجارت کرتا تھا۔ اس کے تین بیٹے تھے۔ جس وقت وہ مرا تو اس کے گھر ۱۷؍ ہاتھی تھے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

بہت دنوں کی بات ہے۔ ایک آدمی تھا۔ وہ ہاتھیوں کی تجارت کرتا تھا۔ اس کے تین بیٹے تھے۔ جس وقت وہ مرا تو اس کے گھر ۱۷؍ ہاتھی تھے۔ مرنے سے پہلے اُس نے ہاتھیوں کے بٹوارے کے لئے اس طرح کا پرچہ لکھ کر بیٹوں کو دے دیا۔بڑے بیٹے کو کل ہاتھیوں میں سے ۱/۲منجھلے بیٹے کو کل ہاتھیوں میں سے ۱/۳چھوٹے بیٹے کو کل ہاتھیوں میں سے ۱/۹اور جب تک یہ بٹوارہ نہ ہو جائے بڑا بیٹا ان کی دیکھ بھال کرے۔جب یہ بٹوارہ ہونے لگا تو ایک مشکل یہ سامنے آئی کہ ۱۷؍ ہاتھیوں کا ا/۲؍ یعنی آدھا کیسے کیا جائے؟ ۱۷؍ ہاتھیوں کا ۱/۲؍ یعنی آدھا کرنے میں ایک ہاتھی کاٹ کر کیسے بانٹا جائے؟ اسی طرح ۱۷؍ کا ۱/۳؍ یعنی ایک تہائی کرنے میں بھی پریشانی تھی اور ۱۷؍ کا ۱/۹؍ یعنی نواں حصہ بھی پورا نہیں ہوسکتا تھا۔ ہر طرح ہاتھیوں کو کاٹنا پڑتا تھا اور اس طرح ظاہر ہے کہ ہاتھی بانٹے نہیں جاسکتے۔بہت سوچا گیا، آخر تینوں بیٹے قاضی کے پاس پہنچے۔ لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ بھی یہ بٹوارہ دیکھنے کیلئے قاضی کی عدالت میں پہنچے کہ دیکھیں قاضی صاحب کس طرح ہاتھیوں کو بانٹتے ہیں ۔ 
قاضی صاحب نے لڑکوں کے باپ کا پرچہ پڑھا۔ دیر تک سوچتے رہے پھر ایک ہاتھی اور منگایا۔ اب ہوگئے ۱۸؍ ہاتھی۔ قاضی صاحب نے ۱۸؍ کا ۱/۲؍ یعنی آدھا حصہ بڑے لڑکے کو دے دیا۔ بڑے لڑکے کو ۹؍ ہاتھی مل گئے۔ ۱۷؍ کا آدھا ساڑھے آٹھ ہوتے تھے۔ اس طرح اُسے ۹؍ ملے۔ پھر قاضی صاحب نے ۱۸؍ کا ۱/۳؍ حصہ نکالا تو اس طرح منجھلے بیٹے کو ۶؍ ہاتھی مل گئے اور ۱۸؍ کا ۱/۹؍ حصہ کرنے پر چھوٹے بیٹے کو ۲؍ ہاتھی ملے، اب حساب کیجئے۔دیکھئے بڑے بیٹے کو ۹؍ ہاتھی منجھلے بیٹے کو ۶؍ ہاتھی چھوٹے بیٹے کو ۲؍ ہاتھی کل ۱۷؍ ہاتھی۱۸؍ میں سے ایک ہاتھی بچ گیا تو قاضی صاحب نے جہاں سے ہاتھی منگایا تھا، وہیں بھیج دیا۔ جو لوگ یہ بٹوارہ دیکھنے آئے تھے، وہ قاضی صاحب کی سمجھداری دیکھ کر خوش بھی ہوئے اور انہوں نے قاضی صاحب کی سمجھداری کی تعریف بھی بہت کی۔ لیکن اب بڑے بیٹے کا لالچ دیکھئے۔ اس نے سوچا کہ اگر ہاتھی بانٹے نہ جاتے تو یہ سارے ہاتھی اپنے پاس رہتے۔ اس نے قاضی صاحب کے بٹوارے کو منظور نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ ۱۷؍ ہاتھیوں میں سے پورے پورے ہاتھی بانٹئے یہ ان میں ایک ہاتھی ملایا کیوں گیا؟بڑے بیٹے کا یہ لالچ قاضی صاحب سمجھ گئے کہ وہ دوسرے بھائیوں کا حق مارنا چاہتا ہے۔ اب قاضی صاحب نے پھر لڑکوں کے باپ کا پرچہ دیکھا۔ پرچے میں صاف صاف ۱/۲، ۱/۳، ۱/۹؍ لکھا تھا قاضی صاحب کچھ دیر سوچتے رہے۔ پھر بولے ’’اچھا کل بٹوارہ کروں گا۔‘‘ دوسرے دن بٹوارہ دیکھنے والے بہت زیادہ آدمی اکٹھا ہوگئے۔ سب یہ سوچ رہے تھے کہ دیکھیں قاضی صاحب اب کس طرح ہاتھی بانٹیں گے دوسرے دن قاضی صاحب نے ایک پُل کے پاس جاکر حکم دیا کہ سارے ہاتھی یہاں لائے جائیں ۔ ہاتھی پُل کے پاس لائے گئے تو قاضی صاحب نے لڑکوں سے وعدہ لے لیا کہ آج جو بٹوارہ ہوگا وہ ہر طرح منظور کرنا ہوگا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ہاتھی پُل کے اوپر کھڑا کیا اور دو ہاتھی پُل کے نیچے کھڑے کئے۔ پھر کہنے لگے کہ دیکھو تمہارے باپ نے بڑے بیٹے کو ۱/۲؍ ہاتھی دیئے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہاتھی اوپر اور دو ہاتھی نیچے۔ یہ دیکھو ایک اوپر اور دو نیچے ہاتھی ہیں ۔ بڑا بیٹا یہ ہاتھی لے جائے اس طرح بڑے بیٹے کو ۳؍ ہاتھی ملے۔ 
اس کے بعد قاضی صاحب نے ایک ہاتھی پُل کے اوپر اور تین نیچے کھڑے کئے اور کہا کہ دیکھو ۱/۳؍ ہوگئے۔ یہ چار منجھلے بیٹا لے جائے..... آخر میں قاضی صاحب نے ایک ہاتھی پُل کے اوپر ۹؍ نیچے کھڑے کئے اور کہا کہ یہ دیکھو ۱/۹؍ ہوگئے۔ یہ دس ہاتھی چھوٹا بیٹا لے جائے اب سب کو اس طرح ملے:بڑے بیٹے کو ۳؍ ہاتھیمنجھلے بیٹے کو ۴؍ ہاتھیچھوٹے بیٹے کو ۱۰؍ ہاتھیکل ۱۷؍ ہاتھی یہ انوکھا نرالا بٹوارہ دیکھ کر سب لوگ دنگ رہ گئے اور بڑا بیٹا اپنا سا منہ لے کر رہ گیا مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔ یہ آخری فیصلہ تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK