EPAPER
Updated: August 23, 2025, 1:44 PM IST | Arifa Khalid Sheikh
شرائط پڑھ کر چھوٹے بھائی کے اوسان خطا ہوگئے۔ مگر مجبوری غالب آگئی اُس نے ہامی بھر لی اور تہہ کر لیا کہ کچھ بھی ہو جائے وہ کام نہیں چھوڑے گا۔ اُسے رہنے کے لئے ایک کھاٹ (رسّی سے بنی چارپائی ) اور ایک بھوسے سے بنا تکیہ دیا گیا، اوڑھنے کے لئے پتوں کی رضائی تھی۔ چھوٹا بھائی پوری ایمانداری اور جاں فشانی سے دن بھر کام کرتا۔
بہت پہلے کی بات ہے کسی شہر میں دو بھائی رہتے تھے۔ دونوں بھائی جڑواں تھے۔ شکل و صورت میں ہو بہو۔ وہ دونوں بہت محنتی تھے۔ دونوں خاندان کی کفالت کے لئے کام کی تلاش میں نکلے۔ ایک امیر آدمی کے گھر نوکر کی ضرورت تھی جو گھر اور باہر کے کاموں کے ساتھ ایک چھوٹے بچّے اور ضعیف ماں کا خیال رکھے۔ یوں تو وہ امیر شخص اتنا تو کر ہی سکتا تھا کہ الگ الگ کاموں کے لئے دو تین ملازم رکھ لے لیکن چونکہ وہ بہت کنجوس تھا اس لئے اُس نے ایک ہی ملازم سے سارا کام کروانے کا سوچا۔ بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی سے کہا کہ وہ اِس امیر آدمی کے یہاں نوکری کر لے، وہ اپنے لئے دوسری نوکری ڈھونڈھ لے گا۔
چھوٹے بھائی نے سعادت مندی سے قبول کر لیا۔ اِس طرح وہ امیر آدمی کے یہاں پہنچا اور نوکری کی خواہش ظاہر کی۔
امیر آدمی نے اُسے سَر سے پیر تک دیکھا اور ایک پرچی اُس کے ہاتھ میں تھما دی۔ جس میں چند شرائط درج تھیں۔
(۱)ہر کام میرے حکم کے مطابق ہوگا۔
(۲)اگر کسی چیز کا نقصان ہوا تو بھرپائی تمہاری تنخواہ سے کی جائے گی۔
(۳)تنخواہ میری مرضی کے مطابق ہوگی۔
(۴)اپنی مرضی سے کام چھوڑ کر جانے پر تمہیں تمہاری تنخواہ کا ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا بلکہ جرمانہ دینا ہوگا۔
اس کے علاوہ بھی کئی دیگر شرائط تھیں۔
شرائط پڑھ کر چھوٹے بھائی کے اوسان خطا ہوگئے۔ مگر مجبوری غالب آگئی اُس نے ہامی بھر لی اور تہہ کر لیا کہ کچھ بھی ہو جائے وہ کام نہیں چھوڑے گا۔ اُسے رہنے کے لئے ایک کھاٹ (رسّی سے بنی چارپائی ) اور ایک بھوسے سے بنا تکیہ دیا گیا، اوڑھنے کے لئے پتوں کی رضائی تھی۔ چھوٹا بھائی پوری ایمانداری اور جاں فشانی سے دن بھر کام کرتا۔ تھک کر جب رات سونے کی کوشش کرتا تو رسّی کی چبھن اور غیر ہموار کھاٹ کانٹوں بھرا بستر محسوس ہوتا اور وہ چاہ کر بھی سو نہیں پاتا۔ جانوروں کی طرح کام کرنے کے بعد بھی بدلے میں اُسے چند سکّے ہی ملتے اور کھانے میں پتہ بھر (پتے جتنی) روٹی ملتی۔ بے چارہ بڑا پریشان ہوا۔ آخر ایک دن اُس نے ہمت کی اور امیر آدمی سے عاجزی سے کہا، ’’حضور! آپ تو جانتے ہی ہیں کہ مَیں نے اپنے کام سے کبھی جی نہیں چرایا۔ میری بس اتنی سی التجا ہے کہ مجھے اتنا کھانا دیا جائے کہ میرا پیٹ بھر جائے۔‘‘
اس پر امیر آدمی نے کہا، ’’تمہیں یاد ہوگا کہ ہم نے تم سے پوچھا تھا کہ تم کھانے میں پتہ بھر چاول لو گے یا پتہ بھر روٹی، تو تم نے پتہ بھر روٹی کہا تھا۔ اِسی لئے اب تمہیں اسی پر اکتفا کرنا ہوگا۔‘‘
یہ سن کر چھوٹا بھائی آزردہ ہوا اور اپنی بے وقوفی پر افسوس کرنے لگا۔ اُس کی شومئی قسمت کہ امیر آدمی کی ماں بھی اُسے دن رات کام میں الجھائے رکھتی۔ چھوٹا بچہ الگ ناک میں دم کئے رہتا اوپر سے باہر کے کام جیسے سودا سلف لانا، بچّے کو اسکول لانا لےج انا اور بھی بہت سے کام غریب سے لئے جاتے تھے۔ چھوٹے بھائی کی جان آفت میں تھی۔ نوکری چھوڑ کر جانے کے متعلق سوچ کر ہی وہ پریشان ہو جاتا تھا۔ کمزوری اور نقاہت نے اُس کے ذہن کو ماؤف کر دیا۔ مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق مجبوری اور بے بسی نے اُس کے پاؤں باندھ دئیے۔
ادھر بڑے بھائی کو ایک نیک آدمی کے یہاں کام مل گیا وہ دن رات اُس کے کھیتوں کی رکھوالی کرتا، تین وقت کی روٹی کھاتا اور ٹھاٹ سے رہتا۔ ایک دن اُس نے اپنے مالک سے اجازت لی اور اپنے چھوٹے بھائی سے ملنے چلا آیا۔
بھائی کی درگت دیکھ کر اُسے جہاں دکھ ہوا وہیں امیر آدمی پر سخت غصہ آیا۔ چونکہ دونوں ہم شکل تھے اس لئے بڑے بھائی نے اس بات کا فائدہ اٹھایا۔ اُس نے ایک ترکیب آزمائی اور چھوٹے بھائی کو روپوش ہونے کو کہا اور خود امیر آدمی کا ملازم بن گیا۔ اُس نے اُس امیر آدمی سے بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا ۔ وہ گھر میں سب سے پہلے بیدار ہوتا اور خوب پیٹ بھر کر ناشتہ کرتا۔ پھر بازار جاتا تو جلد لوٹ کر نہ آتا۔ سارا گھر اُس کی آمد کا منتظر رہتا۔ پوچھنے پر سو بہانے بناتا۔ پھر وقت پر کھانا نہیں بناتا دیر ہونے پر سبھی بھوک سے بے چین ہوتے۔ کھانے میں کبھی نمک زیادہ ڈال دیتا تو کبھی مرچ۔ اس دوران اپنے کھانے کا پورا پورا انتظام کر لیتا۔ سونے کا نظم تو اُس نے شروع دن ہی کر لیا تھا۔ رات وہ منّے کے کمرے میں اس طرح گزارتا کہ کسی کو شک بھی نہیں ہوتا۔
پھر آہستہ آہستہ یوں ہونے لگا کہ امیر آدمی بڑے بھائی سے کہتا پاؤ دباؤ تو وہ ہاتھ دبانے لگتا، ہاتھ دبانے بولتا تو وہ سَر دبانے لگتا۔ اتنا زچ کرتا کہ آخر کو وہ اُسے واپس جانے کا کہہ دیتا۔ اگر بازار سے کوئی سودا لانے بھیجتا تو وہ الٹا سیدھا سامان خرید کر لے آتا۔ امیر آدمی اپنے نقصان پر بلبلا اُٹھتا ۔ امیر آدمی کی ماں بڑے بھائی کو منّے کو چُپ کرانے بولتی تو اُسے اور رُلاتا، کھانا منگواتی تو وہ پانی لاتا، دودھ مانگتی تو چائے دیتا۔ وہ بھی اپنے ملازم سے پریشان رہنے لگی اور سوچنے لگی کہ پتہ نہیں اسے کیا ہوگیا ہے۔ پہلے تو یہ ہر کام ٹھیک اور فرمابرداری کے ساتھ کرتا تھا۔
منّا جب سونا چاہتا تو بڑا بھائی اُسے سونے نہیں دیتا جس سے وہ چڑ چڑا ہو جاتا اور گھر میں توڑ پھوڑ مچا دیتا۔ وہ گھر جو چھوٹے بھائی کی بدولت سکھ چین میں تھا۔ بڑے بھائی کی وجہ سے میدانِ جنگ بنا ہوا تھا۔ ہر طرف شور چیخ و پکار سنائی دیتا تھا۔ سبھی بڑے بھائی سے پریشان تھے۔ اس بیچ کسی کو ذرہ برابر بھی شبہ نہیں ہوا کہ یہ پہلے والا ملازم نہیں ہے۔
آخر ایک دن امیر آدمی کی ماں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ وہ کوئی دوسرا ملازم لے آئے اور اس سے پیچھا چھڑائے۔
پریشان حال مالک نے بڑے بھائی کو بلایا اور کہا، ’’ہم سب کچھ دنوں کے لئے باہر جا رہے ہیں اِس لئے تمہیں ملازمت سے الگ کرتے ہیں۔ تم اپنے گھر جاسکتے ہو۔‘‘
تب بڑے بھائی نے شرائط کا کاغذ دکھا کر کہا، ’’حضور! شرط کے مطابق اگر آپ مجھے نوکری سے نکالیں گے تو آپ کو مجھے جرمانہ دینا ہوگا۔ کیونکہ مَیں یہ نوکری نہیں چھوڑ رہا ہوں بلکہ آپ نوکری سے الگ کر رہے ہیں۔‘‘
یہ سن کر امیر آدمی کے پسینے چھوٹ گئے۔ اُس نے رحم طلب نظروں سے اُسے دیکھا پھر ایک معقول رقم بڑے بھائی کو سونپی اور اپنی جان چھڑائی۔
بڑا بھائی گھر آیا تو چھوٹے بھائی کو منتظر پایا۔ دونوں نے اُن پیسوں سے ایک کپڑے کی دکان کھول لی اور مل کر کام کرنے لگے۔ یوں بڑے بھائی کی سمجھ بوجھ سے چھوٹے بھائی کی حفاظت ہوئی اور اُسے ظالم کے چنگل سے آزادی ملی۔