وفادار کبوتر

Updated: October 17, 2020, 3:12 AM IST | Taskeen Zaidi | Mumbai

یہ کہانی اسد اور ثنا کی ہے۔ ان دونوں کا کبوتر کا جوڑا کہیں کھو جاتا ہے۔ کبوترکا جوڑا غائب ہونے کی وجہ سے وہ پریشان ہوجاتے ہیں ۔ پڑھئے مکمل کہانی۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

اسد اور ثنا دونوں ہی صبح سے فکرمند اور اداس تھے۔ رات سے اُن کے کبوتر کا جوڑا غائب تھا انہوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ممی نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا ’’تم لوگ کھانا کھا لو... کبوتروں کے جانے کا غم کب تک مناؤ گے؟‘‘ ’’نہیں نہیں .... ہم کھانا نہیں کھائیں گے۔‘‘ ثنا روتے ہوئے بولی۔ ’’چائے بھی نہیں پئیں گے، اسکول بھی نہیں جائیں گے، پہلے ہمارے کبوتر واپس لایئے۔‘‘ اسد غصہ سے بولا۔’’وہ کبوتر تو شاید پڑوس کی بلّی کھا گئی۔ ہم تمہیں دوسرا جوڑا منگا دیں گے۔‘‘ ممی نے سمجھاتے ہوئے کہا۔’’نہیں نہیں ہم تو وہی جوڑا لیں گے۔‘‘ دونوں نے ایک ساتھ کہا۔’’مَیں وہ کبوتر کہاں سے واپس لاؤں ؟‘‘ ممی نے پریشان ہوکر کہا۔ پھر بولیں ، ’’کم بخت یہ پڑوس کی بلّی بہت شریر ہے۔ نہ جانے کتنے گھروں کے کبوتر چٹ کر گئی اور بھی نہ جانے کیا کیا اس نے نقصان کیا ہے۔ کل ہمارے چولہے پر دودھ گرم ہو رہا تھا یہ اسے گرا کر بھاگ گئی، پورا ۲؍ کلو دودھ تھا ۱۲؍ روپے کا نقصان کر گئی۔ مہمان آنے والے تھے ان کے لئے کھیر بنانی تھی۔‘‘صبح سے کئی بار کبوتروں کو تلاش کیا جاچکا تھا وہ کہیں نہیں ملے تھے، ان کا کابک خالی اور ویران پڑا تھا ان کے کچھ پَر ضرور ٹوٹے اور بکھرے ہوئے پڑے تھے۔ صبح سے پڑوس کی بلّی بھی نظر نہیں آئی تھی۔
 ہوا یوں کہ کل گھر میں کچھ مہمان آگئے تھے سب انہیں کی خاطر مدارات میں لگے تھے اور کسی کو کبوتروں کے بند کرنے کا خیال ہی نہ رہا۔ کبوتر کچھ دیر اور بالکنی پر بیٹھے رہے پھر پتہ نہیں کہاں چلے گئے۔ پڑوس کی بلّی ان کو برابر پریشان کئے رہتی تھی مگر وہ کبھی اس کے قابو میں نہیں آئے شاید اس نے رات کے کسی حصہ میں موقع پاکر ان کا شکار کر لیا ہوگا۔کبوتر کا یہ جوڑا بچوں سے کافی مانوس ہوگیا تھا ہر وقت ان کے اردگرد گھومتا رہتا تھا۔ جب یہ بھوکے ہوتے تو کمرے میں آجاتے کبھی بستر پر بیٹھ جاتے کبھی سر پر بیٹھتے۔ غٹرغوں کرتے رہتے ایسا لگتا جیسے کہہ رہے ہوں ۔ ’’ہمیں بھوک لگی ہے بچوں ہمیں دانہ ڈال دو۔‘‘اور یہ دونوں بھائی، بہن فوراً انہیں دانہ ڈال دیتے اور جب تک وہ دانہ چگتے رہتے وہ محبت بھری نظروں سے ان کو دیکھتے رہتے، ان کو کھولنے اور بند کرنے کی ذمہ داری بھی انہیں پر تھی۔ بلّی سے ان کی حفاظت بھی کرتے تھے، دونوں ہی کبوتر سفید سفید براق اور اچھی نسل کے تھے ان کی آنکھیں نیلی نیلی اور پُرکشش تھیں ، انہوں نے ان کے پیروں میں چھلّے ڈال دیئے تھے جب وہ چلتے تھے تو بڑا بھلا لگتا تھا۔
 دوسرے دن صبح کو ثنا بولی ’’بھائی جان! رات مَیں نے کبوتروں کو خواب میں دیکھا تھا کہ وہ چھت پر بیٹھے تھے اور جب مَیں نے دانہ ڈالا تو وہ فوراً میرے پاس آگئے۔‘‘’’خدا کرے تمہارے خواب سچ ہوجائے۔‘‘ اسد نے اُمید ظاہر کرتے ہوئے کہا۔’’لیکن بلّی نے کھا لئے ہوں تو؟‘‘ ثنا نے اپنے شک کا اظہار کیا۔’’پھر تو.... بلّی کی شامت ہے....‘‘ابھی یہ دونوں باتیں کر رہی رہے تھے کہ انہیں بلّی آتی ہوئی نظر آئی اور یہ دونوں اس کی طرف دوڑ پڑے۔’’آگئی کم بخت تو.... پھر آگئی اب کے کھانے آئی ہے۔‘‘ بلّی کبوتروں کے کابک کے پاس آکر کھڑی ہوگئی اور میاؤں میاؤں کرکے اندر جھانکنے لگی۔ جیسے کہہ رہی ہو ’’کہاں ہو تم؟‘‘’’اب اندر کیا دیکھ رہی ہو؟ وہ تو تیرے پیٹ میں پہنچ گئے۔‘‘ اسد چلّایا پھر کرکٹ کا بلّہ لے کر اسے مارنے کے لئے دوڑا۔
 اور ثنا بھی ایک چھوٹا سا ڈنڈا اٹھا لائی تھی۔بلّی نے پہلے انہیں گھورا پھر خوخو کرتے ہوئے چھلانگ لگا کر اوپر چھت پر پہنچ گئی۔’’کم بخت! ہاتھ سے نکل گئی، خیر کبھی تو ہتھے چڑھے گی۔ ثنا دیکھا تم نے کبوتر کھا کر ایک ہی دن میں کتنی موٹی لگ رہی ہے۔‘‘ اسد بولا۔’’ہائی بھائی جان! تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘ ثنا نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔
 صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔ ممی چائے و ناشتہ ان کے سامنے رکھتے ہوئے بولیں ، ’’لو جلدی سے ناشتہ کر لو اور اسکول کے لئے تیار ہوجاؤ آج ناغہ نہیں ہونا چاہئے۔ مَیں آج تمہارے ڈیڈی سے کہہ کر کبوتر کا جوڑا بازار سے منگوا دوں گی۔‘‘تبھی کسی نے باہر سے آواز دی۔اسد نے باہر جاکر دیکھا تو پڑوس کا ایک آدمی کبوتر کا جوڑا ہاتھ میں لئے کھڑا تھا اسد نے انہیں دیکھ کر انتہائی خوشی سے چلّاتے ہوئے کہا ’’ثنا! دیکھو یہ مل گئے۔‘‘ممی بولیں ، ’’کیا مل گئے؟‘‘’’ارے وہی کبوتر کا جوڑا.... پڑوس کے انکل انہیں باہر لئے کھڑے ہیں ۔‘‘ ان کی ممی نے باہر آکر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔’’بی بی جی! لیجئے.... اپنے کبوتر، انہیں میرا لڑکا چھت سے پکڑ لے گیا تھا۔ کیا بتاؤں .... اسے کبوتر پالنے کا شوق ہے۔ دو درجن پاس میں ہیں پھر بھی کبوتروں کے لئے بے چین رہتا ہے۔ ان کبوتروں نے رات بھر ہماری نیند حرام کر دی۔ کچھ نہ کھایا نہ پیا.... بس یوں پَر پھڑپھڑاتے رہے جیسے قیدی زنجیریں توڑنے کی کوشش کرتے ہیں ، یہ دوسرے کبوتروں کے ساتھ رہی نہیں سکتے۔‘‘ اس آدمی نے کہا۔’’آپ کا بہت بہت شکریہ.... یہ بچے ان کبوتروں کے لئے اپنی جان ہلکان کئے دے رہے تھے۔ رات سے انہوں نے کچھ کھایا بھی نہیں ....‘‘ ممی بولیں ۔
 کبوتر اسد اور ثنا کو دیکھ کر غٹرغوں ، غٹرغوں کرنے لگے جیسے کہہ رہے ہوں ’’لو ہم آگئے....‘‘وہ دونوں کبوتروں کی پشت پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خوشی سے تالیاں بجانے لگے اور اپنا اپنا بستہ سنبھالتے ہوئے اسکول کی طرف چل دیئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK