اللہ جو کرتا ہے اچھا کرتا ہے

Updated: September 19, 2020, 3:00 AM IST | Nasreen Ansari | Mumbai

کسی زمانے میں ایک آسودہ ملک میں ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ اس کے انتظام حکومت سے تمام رعایا بھی خوشحالی سے زندگی گزار ہی تھی۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

   کسی زمانے میں ایک آسودہ ملک میں ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ اس کے انتظام حکومت سے تمام رعایا بھی خوشحالی سے زندگی گزار ہی تھی۔ ان سب میں خدا ترس اور ہمیشہ اللہ کی ذات پر توکل کرنے وا لے وزیر اعظم کا بھی بڑا کردار تھا جو اسے مناسب مشورےدیا کرتا تھا۔بادشا ہ بھی وزیر اعظم کی نہایت قدر کرتا تھا اور ہر اہم فیصلوں میں اس کی رائے کو مقدم رکھتا تھا۔ وزیر اعظم ہر حالات میں ایک جملہ دہرایا کرتا’’ اللہ جو کرتا ہے اچھا کرتا ہے۔‘‘ چاہے پریشانی معمولی ہو یا کتنی بھی بڑی ۔ہر معاملے میں خدا سے مدد مانگنے کے ساتھ بہتر حکمت عملی اپنا نا اس کی خاص صفت تھی ۔ جہاں ہر زمانےمیں اچھے لوگ ہوتے وہیں برے لوگ بھی ہوتے ہیں ۔ وہ وزیر اعظم پر بادشاہ کےاس قدر اعتماد پر حسد محسوس کرتے تھے اور ہمیشہ اس موقع کی تلاش میں رہتے کہ کسی طرح وزیر اعظم کو بادشاہ کی نظر میں ذلیل و خوار کیا جائے لیکن کئی سازشوں کے باوجود وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔ ایک دن انہیں ایسا موقع مل گیاجیسےکسی شکاری کے ہاتھ بٹیر لگ گیا ہو۔ 
 ہوا کچھ یو ں کہ ایک دن بادشاہ اپنے لائو لاشکر کے ساتھ شکار پر گیا۔ سارا دن جنگل میں بھٹکنے کے بعد بھی کوئی اچھا شکار ہاتھ نہیں آیا ۔ شام ہونے کو آئی اور شکار کی تلاش میں یہ تمام گھنے جنگل میں بہت دور تک نکل آئے تھے۔ اندھیرا ہونے کو تھا۔ اس دوران بادشاہ کو ایک ہرن نظر آیا تو فوراً تیرن کمان سنبھالی اور نشانہ لگایا مگر وہ ہدف سے چوک گیا۔ اب جب صبح سے کوئی شکار نہیں ملنے پر بادشاہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ سامنے شکار کو دیکھ کر وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے وہ گھوڑے سے نیچے اتر آیا اور دبے پائوں آگے بڑھتے ہوئے نشانہ باندھنے لگا۔
  اچانک بادشاہ کی زوردار چیخ سنائی دی۔ تمام وزراء اور سپاہی دوڑے اوروہاں دیکھا کہ بادشاہ اپنا ایک پیر ہاتھ میں تھامے درد سے کراہ رہا ہے۔ ساتھ موجود طبیب نے معائنہ کیا تو معلوم ہوا ہے کہ بادشاہ کے پیر کےانگوٹھے میں کوئی زہریلا کانٹا پیوست تھا۔ تاریکی بڑھنے لگی تھی، کانٹا نکالنے میں کامیا بی نہیں ملی ۔ بادشاہ کی حالت غیر ہوتی جارہی تھی ۔ ایک ڈولی میں بادشاہ کو لٹاکر سب چل پڑے۔صبح سے کچھ پہلے پورا لشکر محل پہنچ گیا۔ آنافاناً دیگر طبیب بھی پہنچ گئے۔ کسی طرح بادشاہ کے انگوٹھے سے کانٹا نکال لیا گیا لیکن تکلیف میں کوئی راحت نہیں ہوئی۔ انگوٹھا نیلا پڑچکا تھا اور اس کے اثر اوپر پنجے پر نظر آنے لگا ۔تمام طبیبوں نے یک زبان ہوکر انگوٹھا کاٹنے کا مشورہ دیا۔
  وزیر اعظم نے بادشاہ کو قائل کیا کہ اگر انگوٹھا نہیں کاٹا گیا تو زہر زیادہ پھیل سکتا ہے ۔ آخرکار انگوٹھا کاٹ دیا گیا۔ بادشاہ بہت رنجیدہ ہوا، تمام وزراء بھی افسوس ظاہر کرتے ہوئےبادشاہ کو تسلی دینے لگے۔ وزیر اعظم نےبادشاہ کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا’’ حضور، اللہ جو کرتا ہے اچھا کرتا ہے، ضرور اس میں اسکی کوئی مشیت ہوگی۔‘‘ اتنا سننا تھا کہ وزیراعظم سے حسد کرنے والوں کو موقع مل گیا اور وہ کہنے لگے ’’بادشاہ سلامت اتنی مشکل گھڑی میں ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اچھا ہوا۔‘‘ اس طرح کی باتیں کہہ کر وہ بادشاہ کو اکسانے لگے، وہ بھی تکلیف کی کیفیت میں ان کی باتو ں میں آگیا اور قہر آلود نگاہ سے دیکھا اور دہاڑتے ہوئے وزیر اعظم کوجیل میں بند کرنے کا فرمان جاری کردیا۔ یوں دشمنوں کی مراد بر آئی اور وزیر اعظم قید خانے میں ڈال دیا گیا۔
  وقت کے ساتھ بادشاہ کازخم بھی بھر گیا ۔ امورسلطنت چلانے میں وہ ہمیشہ وزیراعظم کمی محسوس کرتا لیکن اپنا کٹا ہوا انگوٹھا دیکھ کر اپنے فیصلے کو درست سمجھتا رہا۔ کچھ دنوں بعد بادشاہ نے دوبارہ شکار پر جانےکا منصوبہ بنایا۔ لشکر سمیت جنگل میں ڈیرہ ڈال گیا۔ پہلے دن مناسب شکار بھی مل گیا۔ رات کو جنگل میں ہی خیمے سجادیئے گئے۔ اچانک ان پر جنگلی قبائلیوں نے حملہ بول دیا اور بادشاہ کو قید کرکے اپنے ٹھکانے کی طرف دوڑ پڑے۔ سپاہیوں نےبادشاہ کو چھڑانے کی بہت کوشش لیکن گھنے جنگل میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔
  جنگلیوں کے گروہ نے بھی اپنے قبیلے پہنچ کر بادشاہ کو رسیوں سے باندھ دیا۔ دیر رات تک ان کا گانا بجانا چلتا رہا۔ بادشاہ کو گھبراہٹ میں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھال کراطراف میں غور کیا تو اسے کچھ انسانی کھوپڑیاں آئیں ۔ اب اسے سمجھ میں آگیا کہ یہ قبائلی اس کی بلی دینے کی تیاری کررہے ہیں ۔ بادشاہ کے حواس فاختہ ہوگئے ۔ وہ دل ہی دل میں خدا سے مدد مانگنے لگا۔ 
 صبح ہوئی تو قبائلیوں کا مذہبی پیشوا بلی دینے سے پہلےقیدی کاجائزہ لینے پہنچا۔ ہرطرف سےمعائنہ کرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ قیدی کے ایک پیر کا ا نگوٹھا کٹا ہوا ہے تو اس نے اعلان کیاکہ اس میں نقص ہے لہذا اس کی بلی نہیں دی جاسکتی۔ بادشاہ اس پرشکر کے جذبے سے سرشارہو گیا اور اسے اپنے اسی وزیر اعظم کا جملہ یاد آیا’’ اللہ جو کرتا ہے اچھا کرتا ہے۔‘‘بادشاہ نے پشیمانی میں خدا سے معافی طلب کی اور عزم کیا کہ اگریہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوا تو سب سے پہلے اپنے نیک وزیراعظم کو رہا کر کے اس معافی مانگے گا۔ ایک رات موقع دیکھ کر بادشاہ ان کی قید سے فرار ہو گیا ۔ رعایا بھی اپنے فرماں کی رواں کی تلاش میں  سرگرداں تھی۔ راستے میں سپا ہی بھی مل گئے اور اسے فوراً محل لے آئے۔ وہاں پہنچتے ہی بادشاہ نے سب سے پہلے وزیراعظم کو آزاد کیا اور عاجزی سے معذرت چاہی تو وزیراعظم نے بھی اسی انداز میں کہا حضور اللہ جو کرتا ہے اچھا کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK