گیارہ آنے کا ٹکٹ

Updated: April 11, 2020, 7:01 AM IST | Mayal Khairabadi | Mumbai

بابو نے ایک ٹکٹ نکالا اور گیارہ آنے پیسے لے کر ٹکٹ دے دیا۔ اس شریف آدمی نے ٹکٹ لیا اور اسی جگہ پھاڑ کر پھینک دیا اور ایک طرف چل دیا۔ اب تو مجھے اور زیادہ تعجب ہوا۔ میرے دل نے کہا یہ آدمی دیکھنے میں اچھا خاصا ہے لیکن اس کے دماغ میں ضرور ضرور خرابی ہے۔

For Representation Purpose Only.
علامتی تصویر۔

ایک بار مَیں اپنے شہر کے ٹکٹ گھر گیا۔ وہاں ایک آدمی بابو سے گیارہ آنے کا ٹکٹ مانگ رہا تھا۔ بابو اس سے کہتا کہ ’’بھائی یہاں اسٹیشنوں میں سے جس جگہ کا چاہو ٹکٹ لے لو۔ گیارہ آنے بارہ آنے والا ٹکٹ نہیں ہوتا۔‘‘ مَیں نے یہ سنا تو مجھے بھی تعجب ہوا کہ یہ گیارہ آنے والا ٹکٹ کیسا۔ مجھے خیال آیا کہ شاید اس آدمی کا دماغ خراب ہے لیکن جب مَیں نے اس آدمی کو اچھی طرح دیکھا تو وہ مجھے بڑا شریف آدمی پڑھا آدمی نظر آیا۔ وہ صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ جوتا، پاجامہ، شیروانی، اچھی خاصی ٹوپی پہنے تھا اور چہرے پر بڑی خوبصورت داڑھی بھی تھی۔ اس کی بات چیت سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ بڑا مہذب آدمی ہے۔ مَیں نے بھی اس سے کہا ’’بھائی! آپ کسی اسٹیشن کا ٹکٹ کیوں نہیں مانگتے۔ گیارہ آنے کا ٹکٹ کیوں مانگتے ہو؟‘‘اس شریف آدمی نے کہا ’’مجھے صرف گیارہ آنے کا ٹکٹ چاہئے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ آدمی پھر بابو سے کہنے لگا ’’اچھا جناب....! یہاں سے کوئی اسٹیشن ایسا بھی ہے جہاں کا ٹکٹ گیارہ آنے کے لگ بھگ ہو؟‘‘ بابو نے کہا ’’ہاں ایسا تو ہے؟‘‘ اس آدمی نے جلدی سے کہا تو پھر وہیں کا ٹکٹ دے دیجئے۔
 بابو نے ایک ٹکٹ نکالا اور گیارہ آنے پیسے لے کر ٹکٹ دے دیا۔ اس شریف آدمی نے ٹکٹ لیا اور اسی جگہ پھاڑ کر پھینک دیا اور ایک طرف چل دیا۔ اب تو مجھے اور زیادہ تعجب ہوا۔ میرے دل نے کہا ’’یہ آدمی دیکھنے میں اچھا خاصا ہے لیکن اس کے دماغ میں ضرور ضرور خرابی ہے۔‘‘ مَیں اسے دیکھنے لگا۔ پھر میرے دل نے کہا ’’اس آدمی سے مل کر اصل بات جاننا چاہئے۔‘‘ مَیں اس کے پیچھے چلا۔ وہ ایک گلی میں مڑ چکا تھا۔ مَیں گلی میں اس سے جا ملا۔ مَیں نے پاس پہنچتے ہی پوچھا ’’بھائی صاحب! آپ نے ٹکٹ لے کر پھاڑ ڈالا.... اس میں کیا بھید ہے؟‘‘اس نے میری طرف دیکھا، مسکرایا۔ مجھ سے بولا ’’آیئے تشریف لایئے، میرا گھر قریب ہی ہے۔ وہاں چل کر آرام سے بیٹھئے۔ وہیں مَیں آپ کو یہ بھید بھی بتاؤں گا۔‘‘ مَیں اس کے ساتھ ہی ہو لیا۔ دو منٹ میں اس کا گھر آیا۔ اس نے اندر جاکر کمرہ کھولا، مجھے بٹھایا۔
 اس نے بتایا ’’بھائی! بات یہ ہے کہ میرا بھتیجا کانپور سے واپس ہوا تو اس کے ساتھ کچھ اور لڑکے تھے اور لڑکوں کے ساتھ ایک بزرگ بھی۔ ٹکٹ لینے میں کچھ غلطی ہوگئی کہ وہ میرے بھتیجے کا ٹکٹ لینا بھول گئے۔ لکھنؤ میں جب سب اترے تو ان بزرگ نے گیٹ بابو کو سارے ٹکٹ دے دیئے اور بچوں کو باہر نکال دیا۔ بابو نے کچھ گناگنا یا نہیں ..... باہر آکر ان لوگوں نے لڑکوں کو گنا تو ایک کو زیادہ پایا۔ یہ ایک زیادہ میرا بھتیجا ہی تھا۔ لکھنؤ سے انہوں نے ٹکٹ پورے لئے اور یہاں آکر سارا حال بتاتے ہوئے کانپور سے لکھنؤ تک کا کرایہ گیارہ آنے مجھے واپس کرگئے۔ تو بھائی! جب میرا بھتیجا کانپور سے لکھنؤ تک سواری میں آیا تو مجھے سواری کا کرایہ دینا چاہئے۔ مَیں نے سوچا یہ گیارہ آنے ریلوے کو کس طرح بھیجوں .... منی آرڈر کرنا اور بھیجنا بڑے جھنجھٹ کی بات ہے۔ پھر مجھے یہ بھی پتہ نہیں کہ اس طرح کی رقم کیسے بھیجنی چاہئے۔ اس لئے مَیں نے یہی مناسب سمجھا کہ گیارہ آنے کا ٹکٹ لے کر پھاڑوں ۔ اس طرح رقم ریل کے محکمے کو پہنچ جائے گی اور میرے ذمہ ریل کا کوئی پیسہ نہیں رہے گا۔‘‘ یہ سن کر مَیں نے کہا ’’اگر آج آپ یہ گیارہ آنے اس طرح ریل کو نہ دیتے تو ریل والے کیا کرسکتے تھے آپ کا۔‘‘انہوں نے جواب دیا ’’بھائی! کرسکنے کا کیا سوال ہے؟ یہ تو امانت میں خیانت ہوئی اور خیانت کرنے والے سے خدا خوش نہیں ہوتا اور جس سے خدا خوش نہیں ہوتا۔ آپ جانتے ہیں اس کا آخری ٹھکانہ کہاں ہوگا؟‘‘ اس بھلے آدمی کی یہ بات سن کر مَیں بہت خوش ہوا۔ میرے ایمان میں مضبوطی آئی اور مَیں نے سوچا ’’کیسا نیک اور ایماندار آدمی ہے یہ۔‘‘ اس کے بعد مَیں اسے سلام کرکے چلا آیا۔ اس بات کو بہت دن ہوگئے مگر مجھے وہ بھلا آدمی نہیں بھولا۔ میری دعا ہے کہ اگر وہ زندہ ہو تو خوش رہے اور اگر وہ مر گیا ہو تو خدا اس پر اپنا رحم کرے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK