امتحان میں اوّل مَیں ہی آؤں

Updated: April 18, 2020, 5:06 AM IST | Salman Wasim Khan | Mumbai

رضوان نے جواب دیا ’’امّی جان ! میں اپنی طرف سے پوری کوشش کررہا ہوں، اب آگے خدا کی مرضی۔‘‘ نہیں، نہیں تم ضرور اول آئو گے، محنتی بچوں کی محنت رنگ لاکر ہی رہتی ہے، میں تمہارے لئے دعا کروں گی۔امتحان قریب ہے، رضوان کی کلاس کے سارے ساتھی امتحان کی تیاری میں دل و جان سے جٹے ہوئے ہیں، گھر میں ایک دوسرے سے بات چیت کرنا تو در کنار، کسی کو کھانے پینے تک کا ہوش نہیں ہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ امتحان کوئی بہت اونچا پہاڑ ہے جس کی اونچائی پر چڑھنا بڑا ہی مشکل کام ہے۔

For Representation Purpose Only.
علامتی تصویر۔

امتحان قریب ہے، رضوان کی کلاس کے سارے ساتھی امتحان کی تیاری میں دل و جان سے جٹے ہوئے ہیں، گھر میں ایک دوسرے سے بات چیت کرنا تو در کنار، کسی کو کھانے پینے تک کا ہوش نہیں ہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ امتحان کوئی بہت اونچا پہاڑ ہے جس کی اونچائی پر چڑھنا بڑا ہی مشکل کام ہے۔ سارے طلبہ جی جان سے امتحان کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں، کوئی تاریخ کی کتا ب الٹ پلٹ رہا ہے، تو کوئی ریاضی اور مراٹھی کی ورق گردانی کر رہا ہے کوئی ہندی اور اردو میں مشغول ہے، کوئی انگریزی رٹ رہا ہے، بس ہر ایک کی دلی خواہش ہے کہ امتحان میں اول میں ہی آؤں۔ رضوان بھی اپنے معمول کے مطابق پڑھائی لکھائی میں مصروف ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اس کے ساتھیوں کی طرح اس کے سر پرامتحان کا بھوت سوار نہیں اور نہ ہی اس کے چہرے پر خوف و ہراس کا کوئی نام و نشان ہے۔ شام کے آٹھ بجنے والے ہیں، رضوان کی والدہ نے آواز دی ’’آؤ بیٹا کھانا کھا لو، آپ کے ابّا دسترخوان پر تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ رضوان جھٹ پٹ کتابیں بند کرکے ڈائنگ روم کا رخ کرتا ہے اور بسم اللہ پڑھ کر اپنے والد کے ساتھ کھانا شروع کردیتا ہے۔ رضوان کی مّمی سالن کا پیالہ رضوان کی طرف بڑھاتے ہوئے بولیںـ’’ـکیوں بیٹے رضوان پڑھائی لکھائی کیسی چل رہی ہے؟ اس بار بھی میری خوہش ہے کہ اسکول میں تم ہی اول آئو، بیٹے تم میری اس تمنا کو ضرور پوری کرنا۔‘‘ رضوان نے جواب دیا ’’امّی جان! میں اپنی طرف سے پوری کوشش کررہا ہوں، اب آگے خدا کی مرضی۔‘‘ نہیں، نہیں تم ضرور اول آئو گے، محنتی بچوں کی محنت رنگ لاکر ہی رہتی ہے، میں تمہارے لئے دعا کروں گی۔
 امتحان کے پیپرس شروع ہو گئے، ایک ایک کرکے سبھی پیپر ختم بھی ہوچکے، کچھ دنوں کے بعدرزلٹ بھی آگیا، اس سال بھی رضوان پورے اسکول میں فرسٹ آیا، اردو زبان میں تو اس کوپورے سو کے سو نمبر ملے، ایک پیاری اور شیریںزبان ہونے کے ناطے رضوان کو اردو سے کافی دلچسپی بھی تھی۔ رضوان کے فرسٹ آنے کی خبر پورے اسکول اور محلے میں پھیل گئی، رضوان کے ابّا نے حسب وعدہ اسے ایک نئی سائیکل گفٹ میں دی۔ رضوان کی کامیابی کے چرچے اسکول میں چاروں طرف چل ہی رہے تھے کہ اسکول کے سالانہ جلسہ کا وقت قریب آگیا، جس میں اسکول انتظامیہ نے سارے طلبہ کے ساتھ ان کے والدین کو بھی بلانے کا فیصلہ کیا، اسکول کی پرنسپل نے طے کیا اس بار سارے مہمان اسکول کے ٹاپر اسٹوڈنٹ رضوان کی کا میابی کی کہانی خود اس کی زبانی سنیں گے۔ پروگرام کادن آگیا، فنکشن شروع ہوا، تمام لوگوں کے کانوں میں یہ بھنک پڑچکی تھی کہ رضوان اپنی کامیابی کا راز خود بتانے والا ہے۔
 رضوان کے مائک پکڑتے ہی پورے ہال میں سناٹاچھا گیا، سامعین اس کی باتیں سننے کے لئے بیتاب تھے، رضوان نے گفتگو کاآغاز کرتے ہوئے کہا ’’آج تک مَیں نے جو کچھ سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی کام میں محنت اور لگن بہت ضروری ہے، اس کے بغیر کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ رضوان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پڑھائی اور لکھائی کے جوبنیادی اصول ہیں مَیں ان پر پوری طرح سے عمل کرتا ہوں، اسی لئے میں ہر سال اول آتا ہوں، اور جو بھی ان پر عمل کرے گا وہ یقیناً اچھے نمبرات سے کامیاب ہوگا۔ پہلی بات یہ کہ: مَیں پابندی سے اسکول جاتا ہوں اورتمام پیریڈ میں پوری طرح حاضر رہتا ہوں۔ دوسری بات یہ کہ:اسکول سے گھر آنے کے بعد میں اپنے تمام اسباق کو روزانہ دہرالیتا ہوں، اور ہوم ورک بلا ناغہ پورا کرتاہوں، تمام مضامین، اردو، ہندی، مراٹھی، انگریزی، ریاضی، تاریخ اور بقیہ سبھی مضامین کے لئے میں نے ایک ٹائم ٹیبل بنارکھا ہے، اسی کے مطابق ان کی تیاری کرتا ہوں۔ تیسری بات یہ ہے کہ:سبق کی جو چیزیں سمجھ میں نہیں آتیں ان کو اپنے ساتھیوں کی مدد سے یادوسرے دن کلاس میںٹیچرسے دوبارہ پوچھ کرحل کرنا ضروری سمجھتا ہوں، کسی بھی سبق کو بغیر سمجھے ہوئے نہیں چھوڑتا، اسی کے ساتھ ساتھ اگلے اسباق پرایک نگاہ ڈالنا ضروری سمجھتاہوں، تاکہ اگلے سبق کے بارے میں ذہن بالکل ناآشنا نہ رہے۔ اورآخری بات یہ کہ:ہفتہ میں چھٹی کے دن پورے ہفتہ کے تمام اسباق کو ایک ایک بار ضرور دہرالیتا ہوں، اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ میرے تمام اسباق مجھے ہر وقت یاد رہتے ہیں، اسی لئے مجھے امتحان میں کوئی خاص ڈر نہیں لگتا، میرے لئے امتحان اور غیر امتحان کا زمانہ سب برابر ہے، بس انھیںچند ضابطوں پر مکمل عمل کرنے کی وجہ سے میں ہر امتحان میں اول آتا ہوں۔ اور یہ کامیابی کوئی میری جاگیر نہیں، جو بھی اس پر عمل کرے گاوہ یقیناً اچھے نمبرات سے کامیاب ہوگا۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
معلم انجمن اسلام الانا انگلش ہائی اسکول سی ایس ٹی، ممبئی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK