• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کائنات اور اللہ کی عظمت

Updated: October 24, 2026, 2:57 PM IST | Atif Adnan Sheikh Sadiq | Mumbai

کائنات کی وسعت، اس کی قدرت، حکمت اور تخلیق پر غور کرنے پر مجبور کرنے والی کہانی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

رات کا وقت تھا۔ آسمان پر بیشمار ستارے چمک رہے تھے۔ ایک لڑکا چھت پر کھڑا آسمان کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا سوال پیدا ہوا۔

اس نے اپنے والد سے پوچھا، ’’ابو جان! یہ آسمان کتنا بڑا ہے؟ کیا اس کی بھی کوئی آخری حد ہے؟ اور اگر ہم زمین سے نکل کر خلا میں سفر کرتے جائیں، تو آخر ہمیں کیا ملے گا؟‘‘ والد مسکرائے اور بولے، ’’بیٹا! اگر تم واقعی کائنات کی وسعت جاننا چاہتے ہو، تو آج تمہیں ایک ایسے سفر پر لے چلتا ہوں جو تمہاری سوچ بدل کر رکھ دے گا۔ لیکن یاد رکھنا، یہ سفر ہماری عقل کو حیران اور ہمارے دل کو اپنے خالق کی طرف متوجہ کر دے گا۔‘‘ والد نے کہا، ’’بیٹا! سب سے پہلے اپنی زمین کو دیکھو۔ ہمیں یہ بہت بڑی محسوس ہوتی ہے، لیکن کائنات کے مقابلے میں زمین کتنی چھوٹی ہے، اس کا اندازہ تمہیں سفر شروع کرنے کے بعد ہوگا۔ زمین سے چاند کا فاصلہ تقریباً ۳؍ لاکھ ۸۴؍ ہزار کلومیٹر ہے۔ روشنی اس فاصلے کو صرف ۱ء۳؍ سیکنڈ میں طے کر لیتی ہے۔‘‘

لڑکا حیران ہو کر بولا، ’’ابو! یعنی روشنی پلک جھپکنے سے بھی کم وقت میں چاند تک پہنچ سکتی ہے؟‘‘ والد نے جواب دیا، ’’بالکل! اور ابھی تو ہم نے سفر شروع ہی کیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: جاں نثاری

اب والد نے سورج کی طرف اشارہ کیا، ’’بیٹا! زمین سے سورج کا فاصلہ تقریباً ۱۵؍ کروڑ کلو میٹر ہے۔ اس کے باوجود سورج کی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں تقریباً ۸؍ منٹ ۲۰؍ سیکنڈ لگتے ہیں۔‘‘

لڑکا سوچ میں پڑ گیا۔

’’ابو! اگر سورج اچانک بدل جائے، تو ہمیں اس کا پتا بھی فوراً نہیں چلے گا؟‘‘

والد نے جواب دیا، ’’بالکل صحیح! ہم سورج کو ویسا دیکھتے ہیں جیسا وہ تقریباً ۸؍ منٹ ۲۰؍ سیکنڈ پہلے تھا۔ دور کی چیزوں کو دیکھتے ہوئے ہم دراصل ان کا ماضی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔‘‘

والد نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: ’’اب تصور کرو کہ تمہیں سورج سے بھی آگے جانا ہے۔ وہاں فاصلے اتنے بڑے ہیں کہ کلومیٹر میں انہیں بیان کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لئے سائنسداں ایک خاص پیمانہ استعمال کرتے ہیں، جسے نوری سال کہتے ہیں۔ نوری سال کا مطلب ہے وہ فاصلہ جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے۔ روشنی ایک سیکنڈ میں تقریباً ۳؍ لاکھ کلو میٹر سفر کرتی ہے، اور ایک سال میں تقریباً ۹ء۴۶؍ کھرب کلومیٹر!‘‘

لڑکا حیرت سے بولا، ’’ابو! یہ تو بہت بڑا فاصلہ ہے!‘‘ والد نے کہا، ’’اور کائنات میں اس سے بھی کہیں زیادہ بڑے فاصلے موجود ہیں۔‘‘

لڑکے نے پوچھا، ’’ابو! ہمارے نظامِ شمسی کے آخری سیارے نیپچون کے بعد کیا ہوتا ہے؟ کیا وہاں کائنات ختم ہو جاتی ہے؟‘‘

والد نے جواب دیا، ’’نہیں بیٹا! نیپچون کے بعد بھی بہت کچھ ہے۔ اس سے آگے کویپر بیلٹ ہے، جہاں برفیلے اجسام اور بونے سیارے پائے جاتے ہیں۔ اس سے بھی آگے اوورٹ کلاؤڈ نام کا ایک بہت وسیع ممکنہ خطہ ہے، جہاں سے کچھ دمدار ستارے آتے ہیں۔‘‘

’’اس کے بعد ہم بین النجمی خلا کی بات کرتے ہیں، یعنی ستاروں کے درمیان موجود خلا۔ لیکن یاد رکھنا، اوورٹ کلاؤڈ کی اصل حدود ابھی پوری طرح معلوم نہیں۔‘‘

لڑکا بولا، ’’یعنی نیپچون کے بعد بھی سفر ختم نہیں ہوتا؟‘‘ والد مسکرائے، ’’بالکل نہیں! اب ہم دوسرے ستاروں کی طرف چلتے ہیں۔‘‘ والد نے آسمان میں چمکتے ستاروں کی طرف اشارہ کیا۔

’’بیٹا! ہمارے سورج کے بعد قریب ترین ستارہ پروکسیما سینٹوری ہے۔ یہ ہم سے تقریباً ۴ء۲۴؍ نوری سال دور ہے۔‘‘

لڑکے نے فوراً پوچھا، ’’اگر ہم روشنی کی رفتار سے سفر کریں، تو وہاں پہنچنے میں بھی چار سال سے زیادہ لگیں گے؟‘‘

’’ہاں! لیکن انسانوں کے موجودہ خلائی جہاز روشنی کی رفتار سے بہت کم رفتار پر سفر کرتے ہیں۔ اس لئے وہاں تک پہنچنا موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ انتہائی طویل سفر ہوگا۔‘‘

لڑکے نے گہری سانس لی، ’’ابو! ہمارا پڑوسی ستارہ ہی ہم سے اتنا دور ہے، تو باقی ستارے کتنے دور ہوں گے؟‘‘ والد نے کہا، ’’اب تم کائنات کی وسعت کو سمجھنا شروع کر رہے ہو۔‘‘

والد نے ایک تصویر نکالی جس میں ستاروں کا ایک بہت بڑا مجموعہ دکھائی دے رہا تھا، ’’یہ ہماری کہکشاں ہے، جسے ملکی وے کہتے ہیں۔ ہمارا سورج بھی اسی کا ایک معمولی سا ستارہ ہے۔ اس کہکشاں کا قطر تقریباً ایک لاکھ نوری سال ہے۔‘‘

لڑکا حیران رہ گیا۔

’’ابو! یعنی روشنی کو بھی ہماری کہکشاں کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے میں تقریباً ایک لاکھ سال لگ سکتے ہیں؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: مغرور تتلی اور نیک کوّا

’’جی ہاں، تقریباً! اور اس کہکشاں میں اربوں ستارے موجود ہیں۔ ان میں سے بہت سے ستاروں کے گرد سیارے بھی گردش کرتے ہیں۔‘‘

لڑکے نے اپنی زمین کا تصور کیا، جو اسی وسیع کہکشاں میں ایک ستارے کے گرد گردش کرنے والے سیاروں میں سے ایک ہے۔ اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ جس زمین کو وہ اپنی پوری دنیا سمجھتا تھا، وہ حقیقت میں ایک بہت بڑے کائناتی نظام کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

والد نے سفر کو مزید آگے بڑھایا۔

’’بیٹا! ہماری کہکشاں اکیلی نہیں ہے۔ ہماری پڑوسی بڑی کہکشاں اینڈرومیڈا ہم سے تقریباً ۲۵؍ لاکھ نوری سال دور ہے۔ اس کی روشنی جو ہم آج دیکھتے ہیں، وہ تقریباً ۲۵؍ لاکھ سال پہلے روانہ ہوئی تھی۔‘‘

لڑکے کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں، ’’تو ہم آسمان میں صرف ستارے ہی نہیں، بلکہ ماضی کی جھلکیاں بھی دیکھتے ہیں!‘‘

’’بالکل!‘‘ والد نے جواب دیا۔

’’اور سائنسدانوں نے کائنات کے انتہائی دور دراز علاقوں میں ایسی کہکشائیں بھی دیکھی ہیں جن کی روشنی اربوں سال کا سفر طے کرکے ہم تک پہنچی ہے۔ کائنات کی عمر تقریباً ۱۳ء۸؍ ارب سال ہے، اور اس کے قابلِ مشاہدہ حصے میں بے شمار کہکشائیں موجود ہیں۔‘‘

لڑکا خاموش ہوگیا۔

اسے محسوس ہوا جیسے ہر نیا جواب پہلے سے زیادہ بڑے سوال کو جنم دے رہا ہو۔

کافی دیر بعد لڑکے نے ایک اور سوال کیا۔

’’ابو جان! اگر ہم مسلسل آگے بڑھتے جائیں تو کیا کبھی کائنات کی آخری دیوار ملے گی؟ کیا کوئی ایسی جگہ ہے جہاں پہنچ کر ہم کہہ سکیں کہ بس، اب اس کے آگے کچھ نہیں؟‘‘

والد نے سنجیدگی سے جواب دیا، ’’بیٹا! سائنسداں آج تک کائنات کی کسی آخری دیوار یا ایسی حد کا مشاہدہ نہیں کرسکے۔ ہم کائنات کے صرف اس حصے کو دیکھ سکتے ہیں جہاں سے روشنی کو ہم تک پہنچنے کا موقع ملا ہے۔ اسے قابلِ مشاہدہ کائنات کہتے ہیں۔ اس کا قطر تقریباً ۹۳؍ ارب نوری سال ہے۔ پوری کائنات اس سے کہیں بڑی بھی ہوسکتی ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی مجموعی وسعت کے بارے میں ہمارے پاس ابھی مکمل معلومات نہ ہوں۔‘‘

لڑکے نے آہستہ سے کہا، ’’یعنی ہماری معلومات کی بھی ایک حد ہے؟‘‘ والد بولے، ’’ہاں بیٹا! انسان جتنا جانتا ہے، اتنا ہی اسے احساس ہوتا ہے کہ ابھی کتنا کچھ جاننا باقی ہے۔‘‘

اب رات کافی گزر چکی تھی۔ آسمان پر ستارے پہلے کی طرح چمک رہے تھے، لیکن لڑکے کی نگاہ بدل چکی تھی۔

اس نے اپنے والد سے کہا، ’’ابو جان! ہماری زمین اتنی چھوٹی، ہمارا سورج اتنا معمولی، ہماری کہکشاں اتنی وسیع اور کائنات اتنی حیرت انگیز ہے۔ تو پھر اس کائنات کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ کتنا عظیم ہوگا؟‘‘

والد کی آنکھوں میں محبت اور اطمینان جھلکنے لگا۔ انہوں نے کہا، ’’بیٹا! ہم اللہ تعالیٰ کی عظمت کو کائنات کی وسعت سے ناپ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کسی مخلوق کے پیمانے کا محتاج نہیں۔ وہ خالق ہے اور یہ سب اس کی مخلوق ہے۔ کائنات کی وسعت ہمیں اس کی قدرت، حکمت اور تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔‘‘

پھر والد نے قرآنِ مجید کی یہ آیت سنائی اور اس کا ترجمہ بتایا: بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

والد نے کہا، ’’بیٹا! علم حاصل کرو، سوال پوچھو، تحقیق کرو اور کائنات پر غور کرو۔ سائنس ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ یہ کائنات کیسے کام کرتی ہے، اور ایمان ہمیں اس کی تخلیق پر غور کرنے اور اپنے خالق کو پہچاننے کی دعوت دیتا ہے۔‘‘

رات کے خاموش آسمان تلے دونوں کچھ دیر کھڑے رہے۔ ستارے چمک رہے تھے، کہکشائیں اپنے سفر پر تھیں، اور انسان اپنی محدود عقل کے ساتھ اس عظیم کائنات کے راز جاننے کی کوشش کر رہا تھا۔

لڑکا آسمان کو دیکھتا رہا۔ اب اس کے لئے ستارے محض روشنی کے چھوٹے چھوٹے نقطے نہیں تھے، بلکہ غور و فکر کی نشانیاں بن چکے تھے۔

اس نے دل ہی دل میں کہا:

ہم ابھی اپنی کائنات کے بارے میں بہت کچھ نہیں جانتے۔ ہم نے نہ ہر کہکشاں کو دیکھا ہے، نہ پوری کائنات کی وسعت کو سمجھا ہے۔ لیکن جتنا جانتے ہیں، وہ بھی حیران کر دینے کے لئے کافی ہے۔ کائنات کی وسعت کو جاننا علم ہے، اس پر غور کرنا حکمت ہے، اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق پر غور کرکے اس کی قدرت کو یاد کرنا ایمان کی خوبصورتی ہے۔ ہم جتنا کائنات کو سمجھتے ہیں، اتنا ہی ہمیں احساس ہوتا ہے کہ علم کا سفر ابھی جاری ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ کائنات کتنی ہی وسیع کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کی عظمت کو کسی فاصلے، عدد یا پیمانے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK