پھول کی تلاش

Updated: October 24, 2020, 3:02 AM IST | Ansari Uroosa Naseem Akhtar | Mumbai

یہ ایک شہزادے کی کہانی ہے جس کے لئے ایک پھول کی تلاش بہت ضروری ہوجاتی ہے۔ جانیں آخر میں کیا ہوا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

صدیوں پرانی بات ہے کسی ملک میں ایک بادشاہ رہتا تھا۔ بادشاہ بہت ہی رحمدل اور انصاف پسند تھا۔ بادشاہ کا صرف ایک ہی بیٹا تھا جو بڑا ہی بہادر اور نڈر تھا۔ بادشاہ نے اپنے اسی بیٹے کو ولی عہد بنا دیا۔ بادشاہ کے اس فیصلے سے عوام بہت خوش ہوئے۔مگر شہزادے کو ولی عہد بنانے کے بعد بادشاہ کی طبیعت بہت خراب رہنے لگی جس کی وجہ سے ہر طرف غم اور دکھ چھایا ہوا تھا۔ شہزادے کو بھی بڑا دکھ ہوا مگر قسمت میں جو لکھا ہوتا ہے اسے کوئی بدل نہیں سکتا۔ شہزادہ پریشان ہو کر سونے چلا گیا اسے بڑی حیرت بھی ہوئی کہ اب تک ابّا حضور بہت خوش تھے پھر اچانک انہیں کیا ہوگیا۔ سوچتے سوچتے شہزادہ سو گیا اور اس نے ایک خواب دیکھا اس نے کچھ اس طرح عجیب سا خواب دیکھا کہ:وہ بادشاہ کو اس طرح بیمار دیکھ بیزار ہوگیا اور جنگل کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس جنگل میں اسے ایک غار نظر آئی۔ شہزادہ وہ غار دیکھ کر بالکل چونک گیا کیونکہ اس نے اس غار کے بارے میں نہ تو سنا تھا اور نہ ہی کہیں دیکھا تھا۔ وہ بہت ڈر گیا اس نے جیسے ہی غار کے اندر قدم رکھا اسے وہاں ایک عجیب سا شخص نظر آیا، شاید وہ کوئی سادھو تھا۔ اس نے شہزادے کو اندر بلایا جیسے وہ اسی کا انتظار کر رہا ہو۔ شہزادہ غار کے اندر گیا۔ سادھو نے اس سے کہا ’’آخر کوئی بھی حکیم بادشاہ کو ٹھیک نہیں کر پایا۔‘‘شہزادے نے اس سے کہا کہ ’’یہ بات آپ کو کیسے معلوم ہے؟‘‘ ’’ایک نہ ایک دن تو یہ ہونا ہی تھا۔‘‘ سادھو نے دکھی ہو کر کہا۔ شہزادے نے کہا ’’آپ ہی میرے ابّا حضور کو ٹھیک کر دیجئے۔‘‘سادھو نے ہنس کر کہا ’’تمہارے ابّا حضور کو صرف وہ پھول ٹھیک کرسکتا ہے جسے انہوں نے چوری کیا تھا۔‘‘شہزادہ بالکل حیران رہ گیا۔ اس نے کہا کہ ’’میرے ابّا پھول کیوں چوری کریں گے؟‘‘’’کیا تھا.... تمہارے ابّا نے پھول چوری کیا تھا جس کی سزا تم سب کو ملنے والی ہے۔ ایک بہت بڑی تباہی آنے والی ہے، اس لئے جلداز جلد وہ پھول واپس کر دو، ورنہ تباہی آجائے گی۔‘‘ شہزادے کی آنکھ کھل گئی، اس نے اس خواب کا ذکر بادشاہ سے کرنا چاہا مگر تب تک بادشاہ کی موت ہوچکی تھی۔ اسی وقت بادشاہ کا ایک ملازم شہزادے کے پاس آیا اور اسے ایک چابی دی۔ شہزادے کو لگا کہ وہ خزانے کی چابی ہوگی اس لئے اس نے اس چابی کو رکھ دیا اور بادشاہ کے دوستوں اور وزیروں سے اس خواب کے بارے میں بتایا مگر کچھ حاصل نہیں ہوا، سب نے شہزادے کو ایک ہی جواب دیا کہ شاید وہ کوئی برا خواب ہوگا۔ شہزادے کو بھی یہ جواب سن کر تسلی ہوئی اور اس نے اس بارے میں فکر کرنا چھوڑ دیا۔ 
وقت گزرتا گیا.... شہزادے کی شادی ہوگئی مگر کچھ سال گزر جانے کے بعد بھی شہزادے کے یہاں کوئی اولاد نہ ہوئی۔ عوام پریشان تھے کہ یہ حکومت آگے کیسے بڑھے گی۔ اس طرح کئی دن گزر گئے۔ ایک دن شہزادہ اپنے دربار میں بیٹھا تھا کہ اچانک وہاں ایک سادھو آیا۔ شہزادے نے اسے پہچان لیا۔ وہ وہی سادھو تھا جو اس کے خواب میں آیا تھا۔ اس نے شہزادہ سے کہا ’’اس پھول کو تلاش کرو، ورنہ تمہارے یہاں اولاد کبھی نہیں ہوگی اور یہ ملک تباہ ہو جائے گا۔‘‘ شہزادے نے سخت انداز میں کہا ’’ایسا نہیں ہوسکتا، میرے ابّا حضور آخر پھول کیوں چوری کریں گے جبکہ ان کے باغ میں پہلے ہی اتنے سارے پھول ہے۔‘‘ سادھو نے کہا ’’وہ کوئی معمولی نہیں تھا۔ کئی سال پرانی بات ہے تمہارے ابّا کے یہاں بھی کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ میرے پاس آئے، مَیں نے ان پر ترس کرکے انہیں بہت دور نیلے آسمان کی اونچائی پر واقع ایک پرستان میں بھیجا۔ بادشاہ وہاں گیا، پرستان کے باغ میں بہت خوبصورت و دلکش پھول تھے۔ ان میں سے سب سے خوبصورت و قیمتی پھول کو دیکھ کر تمہارے ابّا نے اسے لے جانے کی سوچی۔ پری نے بادشاہ کو واپس بھیجا اور کہا کہ ’’جاؤ تمہارے یہاں اولاد ہو جائے گی۔‘‘ یہ کہہ کر پری غائب ہوگئی اور تمہارے ابّا نے اس پھول کو توڑ لیا اور محل واپس آگئے۔ پھول لے جانے کے بعد پرستان کے پھول بالکل مرجھا گئے۔ پرستان میں کالے بادل چھا گئے۔ ساری پریاں ہمیشہ کے لئے سوگئیں ۔ پرستان یوں لگا جیسے بغیر روح کے ایک جسم اور اسی وجہ سے تمہارے یہاں بھی اولاد نہیں ہوئی۔‘‘شہزادہ فوراً بادشاہ کے کمرے میں گیا۔ اسے بادشاہ کے بستر کے نیچے ایک کاغذ نظر آیا۔ اس کاغذ میں لکھا تھا کہ ’’میرے پیارے بیٹے مجھ سے ایک بھول ہوگئی۔ مَیں بہت شرمندہ ہوں ۔ مَیں نے ایک پھول توڑ لیا تھا جو شاید ایک چوری بھی کہلا سکتی ہے اس لئے مَیں نے تمہیں جو چابی دی ہے اس سے اس ڈبّے کو کھولو اور اس پھول کو واپس دے آؤ۔ یہ میری آخری خواہش ہے اور مجھے اُمید ہے کہ تم میری خواہش پوری کرو گے۔‘‘ شہزادے نے فوراً اس ڈبّے کو کھولا ڈبّے میں ایک مرجھایا ہوا پھول تھا۔ شہزادہ فوراً پرستان گیا اور وہ پھول ملکہ پَری کے پاؤں کے قریب رکھ دیا۔ اس کے بعد پرستان میں روشنی چھا گئی۔شہزادہ واپس اپنے ملک لوٹ آیا۔ کچھ عرصے بعدشہزادہ کے یہاں اولاد ہوئی اور پورا ملک خوشحال ہوگیا۔

کہانی لکھنے والی ساتویں جماعت کی طالبہ ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK