جادو کا سکّہ

Updated: June 20, 2020, 4:06 AM IST | Akbar Rahmani | Mumbai

یہ کہانی شیرو نامی شخص کی ہے۔ اسے دوسروں کو ستانے اور تکلیف پہنچانے میں بڑا مزہ آتا تھا۔ اپنے ظالمانہ برتاؤ کی وجہ سے وہ دور دور تک بدنام ہوگیا تھا۔ وہ اکثر ایذا رسانی کی نئی نئی ترکیبیں سوچا کرتا تھا مگر آخر میں اسے اپنی حرکت پر شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ پڑھئے اس کی مکمل کہانی۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

تم نے اکثر فارسی کا یہ مقولہ سنا ہوگا.... ’’چاہ کن را چاہ است‘‘ یعنی جو دوسروں کے لئے کنواں کھودتا ہے وہ ایک دن خود اس کنویں میں گرتا ہے۔ کسی گاؤں میں شیرو نامی ایک شخص تھا۔ اسے دوسروں کو ستانے اور تکلیف پہنچانے میں بڑا مزہ آتا تھا۔ اپنے ظالمانہ برتاؤ کی وجہ سے وہ دور دور تک مشہور ہوگیا تھا۔ وہ اکثر ایذا رسانی کی نئی نئی ترکیبیں سوچا کرتا تھا۔ اس کے ایسا کرنے کی کوئی وجہ بھی نظر نہیں آتی تھی۔ حالانکہ وہ ایک دولت مند انسان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا کی ہر نعمت سے نوازا تھا۔ لیکن اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر کرنے کے بجائے اسے اس کے بندوں کو ستانے میں خوشی محسوس ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ گاؤں میں کوئی اسے عزت کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا۔ لوگ اس سے نفرت کرتے تھے۔ لوگوں کی اس نفرت کو دیکھ کر اسے یہ فکر ہوئی کہ کہیں یہ لوگ اس کی تمام دولت نہ چھین لیں یا کوئی اسے چرا نہ لے جائے۔ بس دن رات اسے یہی فکر رہا کرتی تھی۔
 چند دن بعد اسے ایک ایسی ترکیب معلوم ہوئی جس کے آزمانے سے کوئی چور اس کے گھر میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ گاؤں سے باہر ایک فقیر نے اپنا ڈیرا جمایا تھا۔ انہوں نے اسے ایک جادو کی لکڑی دی تھی۔ اس لکڑی کی خاصیت یہ تھی کہ اسے اگر گھر کے دروازے کے باہر رکھ دیا جائے تو پھر کوئی شخص بھی مکان میں داخل نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ جوں ہی کوئی اس کے پاس سے گزرتا وہ لکڑی اچھل اچھل کر اس کی پٹائی کرنے لگتی اور اس وقت تک پٹائی ہوتی رہتی جب تک شیرو، فقیر کا بتایا ہوا منتر نہ پڑھتا، اس طرح شیرو کو اب چوروں کا کھٹکا نہیں رہا تھا۔
 جب یہ جادوئی لکڑی شیرو کے ہاتھ لگی تو اس نے گاؤں کے لوگوں سے نفرتوں کا بدلہ لینا شروع کردیا۔ روز شام کے وقت وہ اس لکڑی کو اپنے گھر سے کافی دور رکھ دیتا تھا۔ لکڑی ایسی جگہ رکھتا تھا جو گاؤں میں داخل ہونے کا راستہ تھا۔ کھیتوں میں کام کرنے والے کسان، مزدور، مرد عورت اور بچے تھک ہار کر اسی راستے سے گاؤں میں داخل ہوتے تھے۔ جوں ہی وہ اس مقام سے گزرتے، لکڑی اچھل اچھل کر ان کی خوب مرمت کرتی۔ وہ بیچارے چلّاتے، روتے اور گڑگڑاتے تھے۔ ان کی مرمت ہوتے دیکھ کر شیرو گھر میں بیٹھے بیٹھے خوب مزا لیا کرتا تھا۔ گاؤں کے تمام لوگ پریشان تھے۔ سب نے شیرو کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ وہ لکڑی کو اس طرح راستے پر نہ رکھے لیکن شیرو پر ان کی التجاؤں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اسے تو دوسروں کو ایذا پہنچانے میں مزہ آتا تھا۔
 جب تمام کوششیں رائیگاں گئیں تو ایک دن گاؤں والے اس فقیر کے پاس پہنچے۔ اس سے تمام قصہ بیان کیا۔ فقیر نے شیرو کو بلا کر سمجھایا۔ لیکن اس نے فقیر کی بھی بات نہیں مانی۔ فقیر کو بڑا دکھ ہوا۔ جب شیرو وہاں سے چلا گیا تو فقیر نے گاؤں والوں سے کہا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اس کا علاج بھی میرے پاس ہے۔ اس نے اپنی تھیلی سے سونے کا سکّہ نکال کر دیا اور انہیں ایک ترکیب بتائی۔ گاؤں والے ترکیب سننے کے بعد خوشی خوشی وہاں سے لوٹ آئے۔ دوسرے روز گاؤں کے مکھیا رنجیت سنگھ نے گاؤں کے معزز لوگوں کو اپنے گھر کھانے کی دعوت دی۔ شیرو کو بھی دعوت نامہ بھیجا گیا۔ یہ بات ہر کوئی جانتا تھا کہ شیرو کو اچھے اچھے کھانے کا بڑا شوق ہے۔ اس لئے وہ دعوت میں ضرور آئے گا۔
 چنانچہ جس روز دعوت تھی، شیرو خوب بن ٹھن کر تیار ہوا۔ اس نے سوچا کہ گاؤں والے مجھ سے ڈرنے لگے ہیں ۔ انہوں نے اسی لئے دعوت میں بلایا ہے کہ پھر ایک بار منّت سماجت کریں ۔ جب وہ گھر سے نکل رہا تھا تو اچانک اس کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ شاید گھر لوٹنے میں دیر لگ جائے اور کوئی چور اس کی دولت اڑا لے جائے۔ اس لئے اس نے چوروں سے گھر کی حفاظت کے لئے جادوئی لکڑی دروازے کے باہر رکھ دی اور پھر خوشی خوشی رنجیت سنگھ کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
 دعوت واقعی بڑی شاندار تھی۔ اچھے اچھے کھانے پکائے گئے تھے۔ شیرو نے خوب جی بھر کھایا۔ گاؤں کے بہت سارے لوگ بھی آئے تھے لیکن کسی نے شیرو سے نہ منّت سماجت کی اور نہ کوئی التجا کی بلکہ آپس میں خوب ہنسی مذاق ہوا۔ جب دعوت ختم ہونے کے بعد رنجیت سنگھ مہمانوں کو رخصت کرنے لگا تو اچانک کسی کی جیب سے سونے کا ایک سکّہ زمین پر گر پڑا۔
 رنجیت سنگھ نے تمام مہمانوں کو روک کر پوچھا ’’بھائیو! یہ سونے کا سکّہ کس کا ہے؟‘‘ لیکن کسی نے بھی جواب نہ دیا۔ سب نے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔ رنجیت سنگھ نے شیرو سے پوچھا ’’کہیں یہ آپ کی جیب سے تو نہیں گرا ہے؟‘‘ جب شیرو نے چمکتے ہوئے سونے کے سکّے کی طرف دیکھا تو اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کا کوئی مالک نہیں تو جھوٹ موٹ اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا جیسے واقعی اس کی کوئی چیز گم ہوگئی ہو۔ اس نے جیب سے ہاتھ نکال کر کہا ’’ارے یہ تو میرا ہی سکّہ ہے۔‘‘ جوں ہی شیرو سکّہ اٹھانے کے لئے نیچے جھکا، سکّہ اچھل کر دور جاگرا۔ لوگوں نے جب یہ دیکھا تو چپ چاپ منہ دبائے ہنسنے لگے۔ شیرو پھر لپکا، سکّہ پھر اچھل کر اور آگے جاگرا۔ شیرو ذرا جھینپ گیا۔ لیکن وہ سکّہ چھوڑنے کو تیار نہ ہوا۔ جب جب وہ سکّہ اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھاتا، سکّہ اچھل کر دور چلا جاتا۔ سکّے کے پیچھے بھاگتے بھاگتے شیرو کو پتہ بھی نہ چلا کہ وہ اپنے گھر کے دروازے پر پہنچ گیا ہے۔
 جوں ہی وہ سکّہ اٹھانے کے لئے گھر کے دروازے کے پاس پہنچا۔ اچانک اسے محسوس ہوا کہ جیسے کوئی اُسے لکڑیوں سے پیٹ رہا ہو۔ لکڑیاں اس کی پیٹھ، ہاتھ اور پیروں پر لگ رہی تھیں ۔ شیرو یہ سمجھ رہا تھا کہ گاؤں والے اس سے بدلہ لے رہے ہیں ۔ اس لئے وہ غصے سے چلّانے لگا۔ ’’ارے یہ کیا کر رہے ہو کم بختو! بند کرو..... اچھا مَیں ایک ایک کو دیکھ لوں گا۔‘‘ شیرو بری طرح پٹتا رہا اور گاؤں والے ہنستے رہے۔ آخر گاؤں والوں کو شیرو کا اس طرح پٹنا دیکھا نہ گیا۔ انہیں ترس آیا.... رنجیت سنگھ نے کہا ’’ارے بھائی شیرو! گاؤں والوں میں سے کوئی نہیں پیٹ رہا ہے۔ یہ تو تمہاری جادوئی لکڑی ہے جو کل تک گاؤں والوں کو پٹتی تھی آج تمہیں مزہ چکھا رہی ہے۔‘‘ شیرو نے جب یہ سنا تو فوراً کراہتے ہوئے منتر پڑھا۔ لکڑی نے پیٹنا بند کر دیا۔ شیرو کی اتنی پٹائی ہوچکی تھی کہ اب اس میں اٹھنے کی بھی طاقت نہ رہی تھی۔ گاؤں والے اسے اٹھا کر اس کے گھر میں لے گئے۔ جگہ جگہ زخموں سے نکلتے ہوئے خون کو صاف کیا، دھویا اور مرہم پٹی کی۔ اسے گرم گرم دودھ پلایا اور بستر پر لٹایا۔ رنجیت سنگھ نے نہایت نرم لہجے میں شیرو سے کہا ’’بھائی شیرو دیکھا تم نے، جو کسی اور کے لئے کانٹے بوتا ہے اسے ہی ایک دن یہ کانٹے چبھتے ہیں ۔ جو دوسروں کا برا چاہتا ہے اسے برا ہی پھل ملتا ہے۔ اسی لئے تو کسی نے سچ کہا ہے کہ ’’چاہ کن را چاہ است‘‘۔ شیرو بڑا شرمندہ ہوا۔ اس نے تمام گاؤں سے معافی مانگی۔ پھر اس نے رنجیت سنگھ سے کہا کہ وہ اس لکڑی کو آگ میں ڈال دے۔ پاس ہی انگیٹھی سلگ رہی تھی۔ رنجیت سنگھ نے لکڑی اٹھا کر انگیٹھی میں ڈال دی۔ دھیرے دھیرے لکڑی جل گئی۔ اسی وقت سب نے دیکھا کہ سونے کا سکّہ بھی اچھل کر انگیٹھی میں جا گرا اور لکڑی کے ساتھ وہ بھی جل گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK