Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصلحت

Updated: August 23, 2025, 1:41 PM IST | Farida Khan | Mumbai

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم لوگوں نے نظام ساگر جانے کا پروگرام بنایا۔ صبح ساڑھے پانچ بجے ہم لوگ اسٹیشن پہنچے تو پتہ چلا کہ ٹرین جا چکی تھی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم لوگوں نے نظام ساگر جانے کا پروگرام بنایا۔ صبح ساڑھے پانچ بجے ہم لوگ اسٹیشن پہنچے تو پتہ چلا کہ ٹرین جا چکی تھی۔ رنج اور افسوس کے مارے بُرا حال ہوگیا۔ سب بچوں کے منہ لٹک گئے اور مجھے تو رونا ہی آگیا۔ میری آنکھوں میں آنسو دیکھ کر آپا نے سمجھایا۔
 ’’آج نہ سہی کل چلے جائیں گے۔ اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی جو ہم نہ جاسکے۔‘‘
 میری تسلی نہ ہوئی۔ اُلٹے اور آنسو امڈ آئے۔ کہا، ’’مَیں تو ہمیشہ کی طرح آپ کے بتائے ہوئے وقت پر تیار ہوگئی تھی.... لیکن اور سب نے دیر کر دی جس کی وجہ سے ٹرین چھوٹ گئی۔ نام اللہ کی مصلحت کا ہوگیا۔‘‘
 آپا نے بُرا نہ مانا، نرمی سے بولیں، ’’مَیں تم کو ایک واقعہ سناتی ہوں:
 ایک بزرگ تھے جو دُکھ پہنچنے پر بھی غمگین نہ ہوتے تھے۔ کیونکہ انہیں ہر بات میں اللہ کی مصلحت نظر آتی تھی۔
 جو لوگ ان کے پاس اپنا دکھڑا رونے آتے وہ ان سے بھی یہی کہتے، ’’رنج نہ کرو۔ اس میں اللہ کی کوئی مصلحت ضرور ہوگی۔‘‘
 چند لوگ ایسے تھے جنہیں یہ بات ناگوار گزرتی تھی۔ نفرت سے کہتے، ’’ہونہہ یہ بوڑھا تو ہر بات میں خدا کی مصلحت نکال لیتا ہے۔‘‘
 ایک رات کچھ لوگوں نے انہیں پریشان کرنے کا پروگرام بنایا اور ان کے دروازے پر پہنچے اور دستک دی۔
 بزرگ بے چارے لالٹین لے کر ٹٹولتے ٹٹولتے دروازے کی طرف جانے لگے کہ یکایک کسی چیز سے ٹکرا کر گر پڑے۔ اور ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ وہ اُٹھ کر دروازہ نہ کھول سکے۔ اس وقت تو وہ لوگ واپس چلے گئے۔ لیکن صبح خیریت معلوم کرنے آئے اور مسکرا کر پوچھا، ’’کیوں مولانا، یہ ٹانگ کی ہڈی کیوں ٹوٹ گئی۔‘‘
 وہ ٹھنڈا سانس بھر کر بولے، ’’خدا کی کوئی مصلحت ہوگی میاں!‘‘
 لوگوں کا سَر ندامت سے جھک گیا۔ معافی مانگ کر بولے:
 ’’بے شک آپ کی ٹانگ کے ٹوٹنے میں اللہ کی مصلحت تھی۔ کیونکہ کل رات ہم نے آپ کا اس سے بُرا حشر بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔‘‘
 ’’تو بچّو....!‘‘ آپا نے کہا، ’’بعض دفعہ خدا بڑے دُکھوں کو چھوٹے دکھ دے کر ٹال دیتا ہے۔‘‘
 دوسری صبح انہوں نے بُلا کر تازہ اخبار کی وہ عبارت سنائی جس میں پُل ٹوٹ جانے کی وجہ سے ایک ٹرین کے حادثے کا ذکر تھا.... اور وہ ٹرین وہی تھی جس پر ہم سوار نہ ہوسکے تھے!n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK