اپنا حق

Updated: July 11, 2020, 3:10 AM IST | Shakeel Javed Amrohi | Mumbai

یہ کہانی ایک لڑکی کی ہے جو اپنا حق مانگنے کے لئے انصاف پسند بادشاہ کےپاس جاتی ہے۔ بادشاہ سلامت اس لڑکی کی فریاد سن کر کیا وعدہ کرتے ہیں اور آخر میں کیا فیصلہ ہوتا ہے، یہ جاننے کیلئے پڑھئے مکمل کہانی۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

بہت زمانے کی بات ہے کہ ایران میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا عدل و انصاف دور دور تک مشہور تھا۔ اس نے اپنے محل کے دروازے پر ایک صندوق رکھوا دیا تھا۔ جس میں اس کی رعایا اپنی شکایتیں اور تکلیفوں کی عرضیاں لکھ کر ڈال دیا کرتی تھی.... بادشاہ ہفتہ میں ایک بار اس صندوق کو کھلواتا اور ان عرضیوں پر غور کرتا۔ اور پھر اپنی رعایا پر ہونے والی تکلیفوں اور پریشانیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا۔ شاید یہی وجہ تھی جو اس کی رعایا اس سے بہت خوش تھی۔ جہاں اس کا پسینہ گرتا تھا اس کی رعایا وہاں اپنا خون بہانے کے لئے تیار رہتی تھی۔
 ایک مرتبہ جب صندوق کو کھولا گیا تو صندوق میں جمع ہوئی عرضیوں کے ساتھ ایک عرضی کسی لڑکی کی لکھی ہوئی تھی۔ اس عرضی میں لڑکی نے بادشاہ کی بڑے اچھے الفاظ میں تعریف کی تھی۔ اس عرضی کو پڑھ کر بادشاہ متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ اس نے لڑکی کو اپنے دربار میں بلوانے کا حکم صادر فرمایا۔ کچھ دیر بعد ہی پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس اوپر سے ایک میلا برقع اوڑھے ہوئے وہ لڑکی دربار میں حاضر ہوئی۔ اس نے بادشاہ کو شاہی ڈھنگ سے آداب کیا اور دست بستہ کھڑی ہوگئی.... بادشاہ نے اس کی طرف دیکھا۔’’لڑکی! ہم تمہارے خط سے بہت خوش ہوئے، جس ڈھنگ اور شاہی آداب و خیال کو مد ِ نظر رکھ کر تم نے یہ عرضی لکھی ہے، ہم اس سے بہت متاثر ہوئے ہیں .... ہم تمہیں کچھ انعام دینا چاہتے ہیں .... بولو تمہیں کچھ چاہئے....؟‘‘ ’’جہاں پناہ! گستاخی معاف ہو، ....خدا کا دیا سب کچھ ہے.... اس پر بھی اگر حضور مجھ پر اتنے ہی خوش ہیں تو کنیز کی ایک درخواست ہے کہ مَیں .....!‘‘ لڑکی کچھ اور کہتے کہتے رُک گئی۔ ’’ڈرو نہیں لڑکی، ....بغیر کسی خوف و جھجک کے جو کچھ کہنا ہے کہو، ہم تمہاری فریاد کو سن کر اسے پورا کرنے کی کوشش کریں گے....‘‘ بادشاہ نے لڑکی کو ہمت دلائی۔ ’’جہاں پناہ! ....مَیں ..... مَیں ایک آدمی سے شادی کرنا چاہتی ہوں ، ....مگر وہ مجھ سے شادی کرنے سے صاف انکار کرتا ہے۔‘‘ بادشاہ سلامت اس لڑکی کی فریاد سن کر سوچ میں ڈوب گئے۔ ’’ہوسکتا ہے یہ لڑکی بدصورت ہو، یا اس کے جسم پر کہیں ، کسی حصہ پر کوئی عیب ہو، یا پھر اس کی ایک آنکھ نہ ہو.... اس کی آواز کوئل کی طرح میٹھی ہے، شاید اس کا رنگ بھی کوئل جیسا ہو....!‘‘ بادشاہ انہی سوالوں میں اُلجھا رہا۔ آخر اس نے لڑکی کو نقاب الٹنے کا حکم دیا۔ ’’بادشاہ تو ماں باپ کی جگہ ہوتے ہیں ۔‘‘ یہ سوچ کر بغیر کسی جھجک کے لڑکی نے اپنا نقاب اُلٹ دیا اور جب بادشاہ نے دیکھا تو اسے ایسا لگا جیسے چودہویں کا چاند زمین پر اتر آیا ہو، ...انہوں نے اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ’’کون ہے وہ بدنصیب، .....جو تم سے شادی کرنے سے انکار کرتا ہے....؟‘‘ لڑکی نے اس شخص کا نام اور پتہ بادشاہ کو بتلاتے ہوئے کہا ’’جہاں پناہ وہ کبھی ہاں نہیں کرے گا.... طرح طرح کے بہانے بنائے گا.... جھوٹ بولے گا.....‘‘ ’’تم بے فکر رہو لڑکی! ہم اس کی ایک نہ چلنے دیں گے..... اور ہم تمہاری خواہش کے مطابق اس کے ساتھ تمہاری شادی کریں گے، ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں !‘‘ بادشاہ کی زبان سے ایسے کلمات سن کر لڑکی بہت خوش ہوئی۔
 ایک جوان آدمی کو بادشاہ کے سپاہی دربار میں لے کر حاضر ہوئے...! بادشاہ نے اس کا نام پتہ جان کر اس سے کہا ’’اے نوجوان! کیا تم اس لڑکی سے شادی کرنے سے انکار کرتے ہو....؟‘‘ بادشاہ کا یہ سوال سن کر وہ نوجوان کچھ گھبرایا مگر دوسرے ہی لمحے وہ سنبھل کر بولا ’’جہاں پناہ! یہ تو میری بہن ہے.... حقیقی بہن.... بھلا مَیں اس سے کیوں کر شادی کرسکتا ہوں ؟‘‘ بادشاہ کو یاد تھا کہ اس لڑکی نے کہا تھا ’’وہ کوئی نہ کوئی بہانہ ضرور بنائے گا۔‘‘ ’’تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ تمہاری حقیقی بہن ہے؟ تمہیں اس بات کا ثبوت ابھی اور اسی وقت دینا ہوگا۔‘‘ بادشاہ نے کرخت لہجے میں کہا۔ ’’عالم پناہ! مَیں اس بات کا ابھی ثبوت پیش کرسکتا ہوں مگر مجھے ۲؍ گھنٹے کی مہلت دے دی جائے۔‘‘اور بادشاہ نے ۲؍ گھنٹے کی مہلت اس نوجوان کو دے دی۔
 دو گھنٹے کے بعد وہ نوجوان اپنے محلّے کے دو تین بزرگوں کو ساتھ لے کر آیا۔ ان بزرگوں نے بادشاہ کے پوچھنے پر اس نوجوان کے بیان کی تصدیق کر دی.... اب بادشاہ نے لڑکی کی طرف دیکھا کہ وہ کچھ اور کہنا چاہتی ہے۔ لڑکی کچھ دیر خاموش رہی پھر اس نے بڑی بھرائی آواز میں کہا ’’جہاں پناہ! ملاحظہ فرمایئے.... اب سے چھ ماہ پیشتر ان ہی بزرگوں نے اسی دربار میں حضور کے روبرو حلف اٹھا کر کہا تھا کہ ’’مَیں اس نوجوان کی بہن نہیں ہوں ۔‘‘ کیونکہ اس وقت جائیداد کا جھگڑا تھا۔ میرا باپ لاکھوں روپوں کی جائیداد چھوڑ کر مرا تھا۔ اس میں میرا بھی حصہ ہے مگر میرے بھائی نے ایک پائی تک نہ دی اور جب مَیں نے حضور کا دروازہ کھٹکھٹایا تو انہی بزرگوں نے قسم کھا کر مجھے اس کی بہن ہونے سے انکار کر دیا تھا اور آج یہی بزرگ مجھے اس کی بہن بتا رہے ہیں ....!‘‘ لڑکی کی بات سن کر دربار میں سناٹا چھا گیا۔ حاضرین دربار لڑکی کی عقلمندی پر حیران رہ گئے.... گواہوں اور اس نوجوان کے ہوش اُڑ گئے۔
 بادشاہ کے حکم کے مطابق چھ ماہ پچھلی مسل منگوائی گئی.... لڑکی کے بیان کی تصدیق ہوچکی تھی۔
 بادشاہ بہت خوش ہوا، اس نے لڑکی کو اس کے حق کا حصہ دلوا دیا اور شاہی خزانے کی طرف سے انعام و اکرام دیا گیا۔ اس کے بھائی اور جھوٹی گواہی دینے والے بزرگوں کو مناسب سزائیں دی گئیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK