نتیجہ

Updated: August 01, 2020, 3:22 AM IST | Mansurah Nuzhat Ali | Mumbai

یہ پپو میاں کی بڑی ہی دلچسپ کہانی ہے۔ پپو میاں کا دسویں کا نتیجہ آنے والا ہے۔ نتیجہ آنے سے پہلے اور بعد میں پپو میاں بڑا ہنگامہ کرتے ہیں ۔ کبھی معصومیت سے کہتے ہیں کہ مجھ سے پاس ہونے کی اُمیدیں نہ رکھیں تو کبھی کہتے ہیں کہ مَیں کتنا بیمار تھا۔ آخر پپو میاں کا کیا نتیجہ نکلا یہ جاننے کے لئے پڑھئے مکمل کہانی۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

جیسے جیسے رزلٹ کے دن نزدیک آرہے تھے پپومیاں کی شوخیاں ویسے ویسے ختم ہوتی جارہی تھیں ۔ جس دن رزلٹ نکلنے کی تاریخ اخبار میں نظر آئی اس دن تو پپو میاں کو اپنے دل کی دھڑکن تک بند ہوجانے کا خدشہ گزرا۔ ہوا کچھ بھی نہیں شام تک وہ بالکل ٹھیک ہوچکے تھے۔ امتحان کے دن سے لے کر آج تک وہ بہت کچھ سن چکے تھے اور بھئی سچ تو یہ تھا کہ جان ہے تو جہان ہے، کوئی کہاں تک پروا کرے ننھی سی جان گھل کر خاک میں نہ مل جائے مگر تسلی سے پپو میاں کے دل کو کب قرار آسکتا تھا۔ ان کا خود بھی یہ خیال تھا کہ اگر وہ پاس ہوگئے تو بورڈ سچ مچ ہی ناکارہ ہے۔ سال بھر گلی ڈنڈا کھیلنا، شرارتیں کرنا، لڑائی جھگڑے اور ماسٹروں کے خلاف کام کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ اوّل کلاس سے لے کر نویں تک وہ کیسے پاس ہوتے آئے تھے یہ وہ خود جانیں مگر اب دسواں پاس کرنا لوہے کے چنے چبانے سے کم نہ تھا۔ نہ نقل کی گنجائش نہ مدد کی، سفارش کا تو ذکر کیا۔ پپو میاں جانتے تھے کہ ان سے جو دھکا پہنچا ہے وہ بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے اس لئے موقعہ موقعہ سے وہ اپنے ابو اور امی کو بتاتے جاتے تھے کہ ان سے کوئی امید رکھنی بے کار ہے۔ چھوٹی بہن طاہرہ کے پاس ہونے کی خبر ملی تو پپو میاں سر مٹکا کر بولے ’’ابو جی.... طاہرہ نے تو خوب ٹھاٹھ سے پڑھائی کی مجھے تو اتنی فرصت نہ تھی اتنی ذمہ داریاں تھیں کہ بس بھئی کوئی یقین نہ کرے گا۔ رات رات بھر کمال چچا کی تیمارداری کرتا تھا۔ دعائیں تو خوب ملتی تھیں مگر سچ مچ پڑھائی کا تو وہ نقصان رہا ہے کہ بس کتاب چھونے کی مہلت نہ تھی۔ کبھی کمال چچا آئیں تو پوچھئے....‘‘ پھر دبی زبان سے کہیں گے ’’اسی لئے اس بار مجھے پاس ہونا ناممکن نظر آرہا ہے۔‘‘ پہلے تو کسی نے کچھ خیال نہ کیا مگر جب پپو میاں کا اصرار بڑھتا ہی گیا کہ وہ فیل ہو جائیں گے تو ابو جی کی آنکھوں کی نیلاہٹ، پیلاہٹ بھی بڑھنے لگی پھر ڈبو کا نتیجہ آیا۔ پپو میاں گڑگڑا کر بولے ’’آپ نے مجھے کہاں بھیج دیا تھا.... ابو جی! اتنی خراب آب و ہوا کہ بس.... دوسرے دن بخار... دس دن اسکول تو بیس دن گھر.... ملیریا نے ایسا پیچھا لیا کہ بس کچھ بھی نہ کرسکا (بات کی رو میں وہ یہ بھول گئے کہ ہر ہفتے وہ اپنی خیریت کا خط گھر بھیجتے رہے ہیں ) اور پھر نہایت درد بھری آواز اور آنسو بھر کر بولے ’’اس لئے اس مرتبہ پاس ہونا تو مجھے ناممکن نظر آرہا ہے۔‘‘ ابو یہ باتیں کیا جانتے تھے پلکیں جھپکا جھپکا کر اور چشمہ سنبھال سنبھال کر وہ غور سے پپو میاں کی باتیں سنتے رہتے تھے۔
 نتیجہ کا دن آیا۔ پپو میاں صبح سے گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھے تھے۔ نتیجے کی تاریخ بڑھنے کی دعائیں مانگی تھیں وہ نہیں پوری ہوئی تو پپو میاں پاس ہونے کی آس بھی چھوڑ بیٹھے۔ سارے دن پھولے رہے ۴؍ بجے سے دوست آآکر دروازہ کھٹکھٹاتے رہے۔ گلی ڈنڈے کی چٹ پٹ دعوت دیتی رہی۔ آئس کریم والے کی آواز نے لاکھ لاکھ بلایا۔ کمبخت دل کو قابو میں کئے پپو میاں ٹس سے مس جو ہوئے ہوں ۔ بس ذرا ہلے اور دھڑکا لگا کہیں رزلٹ آتا نہ ہو۔ کیسا کھانا کیسا پینا.... پپو میاں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نکل بھاگے۔ امّی بے چاری دروازے تک بیٹا بیٹا کہتی گئیں ۔ پپو میاں نے پلٹ کر نہ دیکھا۔ اپنے ساتھیوں کے چھیڑچھاڑ کے ڈر سے بھاگ رہے تھے۔
 خدا خدا کرکے شام ہوئی، وہ پریس تک بمشکل پہنچ ہی گئے۔ ہنگامہ بپا تھا شور و غل ہو رہا تھا۔ وہ پائپ کے سہارے کھڑے تھے۔ رزلٹ انہیں معلوم تھا کہ وہ فیل ہوں گے۔ پھر بھی نہ جانے کون سی آس لگی تھی کہ روح جسم سے الگ ہونے کا نام نہ لیتی تھی۔
 رات کے دس بجے پپو میاں کی امّی مایوس ہوکر تسبیح پڑھتی ہوئی نگوڑے بچّے کی خیر منا رہی تھیں ۔ زور زور سے دروازہ پیٹنے کی آواز بچے اٹھ بیٹھے کوئی ادھر بھگا کوئی اُدھر، پپو میاں سامنے مسکراتا ہوا چہرہ لئے ہاتھ میں اخبار ہلاتے اس شان سے داخل ہوئے جیسے نپولین اپنے فتح کئے ہوئے علاقہ میں داخل ہوا ہو۔ ماں نے دوڑ کر چٹ چٹ بلائیں لیں ۔ بہنیں اردگرد جمع.... ابو جی ننگے پیر دوڑے آئے۔ ان کو صحیح سلامت دیکھ کر سب خوشی میں ان کا رزلٹ بھی پوچھنا بھول گئے۔ پپو میاں نے جلے دل سے اخبار ایک طرف پھینکا۔ ان کی خواہش تھی انہیں نہ پڑھنے پر خوب خوب ڈانٹ پڑے اور تب وہ شرمندہ سا چہرہ بنا کر وہ کہیں کہ نہ پڑھ کر بھی وہ سیکنڈ ڈویژن لائے ہیں مگر جب پپو میاں خود ہی اچھل پڑے کہ کسی نے توجہ نہ کی۔ اپنے ابو کی جانب بڑھے ’’سیکنڈ.... سیکنڈ.....‘‘ ’’کیا....‘‘ ان کے ابو کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ، ماں نے دوڑ کر گلے سے لگایا۔ بہنیں آنچل مروڑتی رہیں ۔
 اب پپو میاں کی باتیں بدلنے لگیں ۔
 مسکرا کر بولے ’’ابو جی، مجھے اتنی ذمہ داریاں تھیں کہ بس.... رات رات بھر کمال چچا کی تیمارداری کرنا اور پھر اس سے چھٹی پاکر پڑھنا۔ سچ ابو جی.... کاش.... ایسا نہ ہوتا تو..... فرسٹ کلاس تو کہیں گیا نہ تھا۔ ماسٹر تو سب کہتے تھے اس دفعہ بڑی شاندار کامیابی ملے گی۔‘‘ پپو میاں ہانپ ہانپ کر کہہ رہے تھے مگر لگا ہوں کے سامنے پپو میاں کی غصیلی آنکھیں ، پینترا بدلتے ہوئے پوز اور مولابخش کے کارنامے سب کچھ گھوم رہے تھے۔ جسم پر بنے ہوئے بیل بوٹے رنگ بھر کر سامنے آگئے۔
 دوست احباب مبارکباد کو آئے پپو میاں کا دل خود ہی اس شاندار کامیابی پر حیران تھا۔ نہ جانے کیسے وہ سیکنڈ آگئے تھے جس کے تھرڈ ڈویژن کی پاس ہونے کی اُمید نہ تھی مگر اب تو اخبار میں ان کا نام نکل چکا تھا۔ سال بھر کیا کیا اس سے کیا مطلب۔ وہ جی بھر کر ڈینگیں مار سکتے تھے اپنی محنت کی۔
 دعوت ہوئی عزیز دوست... رشتے دار سب جمع ہوئے سب کو تعجب تھا مگر پپو میاں تھے کہ تعجب کی وجہ جانتے ہوئے بھی انجان بن رہے تھے اور ان کے ابو جی ناک پر چشمہ درست کرتے ہوئے نہ جانے کتنی دفعہ کہہ چکے تھے ’’وہ تو تو..... وہ تو بیچارے کو ملیریا نے ایسا جکڑا کہ ٹھیک سے محنت نہ کرسکا ورنہ جناب وہ کند ذہن نہیں فرسٹ کلاس تو کہیں گیا نہ تھا۔‘‘کسی دوست نے کہا ’’پھر بھی کیا ہے.... رحمان صاحب... آپ فیس دے کر پرچہ دوبارہ چیک کرا دیجئے۔ ممکن ہے کچھ اِدھر سے اُدھر ہوجائے۔‘‘کوئی دوسرا بولا ’’ہاں کیوں نہیں ڈسٹنکشن تو کہیں گیا نہیں ۔‘‘ پپو میاں نے شرما کر سر جھکا لیا اور بااتفاق ِ رائے دعوت کے اختتام تک یہ طے پایا کہ پرچہ دوبارہ چیک کرائے جائیں ۔
 مہینے گزر گئے رزلٹ آیا۔ اس دفعہ پپو میاں گھر سے بھاگے نہیں بڑی دیدہ دلیری سے اخبار منگوایا ان کی امّی دعا کے لئے بیٹھ گئی اور خود پپو میاں نے دوستوں سے دعوت کا پکا وعدہ کر لیا تھا۔ صرف تاریخ اور دن مقرر ہونے کی دیر تھی۔
 سنا گیا ہے رزلٹ آنے کے بعد سے پپو میاں نے اپنے ابو جی کے ان دوست سے بات کرنی تک چھوڑ دی ہے جنہوں نے پرچہ دوبارہ دکھلوانے کی رائے دی تھی اور ان کا سیکنڈ ڈویژن چھین لیا تھا کیونکہ غلطی سے زیادہ جوڑ لئے نمبروں نے انہیں اب تھرڈ ڈویژن کی لسٹ میں لاکر کھڑا کر دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK