Inquilab Logo Happiest Places to Work

صداقت

Updated: February 28, 2026, 10:06 AM IST | Mushtaq Karimi | Mumbai

’’آؤ صداقت.... آؤ۔ مجھے تمہارا ہی انتظار تھا۔ تمہارے خوب چرچے ہو رہے ہیں۔ نام صداقت اور کام خیانت.... چلو میرے ساتھ آفس۔‘‘ عقیل سر نے میز پر کتاب کو اوندھا رکھا، مانیٹر کو کلاس کنٹرول کی ہدایت دی اور تیز تیز قدموں سے صداقت کو ساتھ لئے صدر مدرس کے دفتر کی جانب چل پڑے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

عقیل سر بہت محنتی اور ایماندار مدرس تھے۔ انہیں اپنے مضامین پر مہارت حاصل تھی۔ وقت سے پہلے اسکول آنا اور اسکول چھوٹنے کے بعد بھی کافی دیر تک تعلیمی کام کرتے رہنا، غیر حاضر بچوں کے والدین سے فون پر رابطہ کرنا، صدر مدرس صاحب کے ذریعے دی گئی ذمہ داریوں کی بحسن و خوبی ادائیگی کیلئے منصوبہ بندی کرنا اور اسکے ساتھ ساتھ اسکول کی ترقی کیلئے زیادہ سے زیادہ وقت دینا ان کی فطرت کا خاصہ تھا۔ لیکن ادھر ایک عرصہ سے وہ کچھ پریشان اور بے چین رہنے لگے تھے۔ ان کی شخصیت میں جھنجھلاہٹ کا عنصر بڑھنے لگا تھا۔ وہ اب چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی غصہ کرنے لگے تھے۔ اس کی بڑی وجہ اسکول کے وہ غیر تعلیمی کام تھے جو چور دروازے سے روز چلے آتے۔ ان کاموں کی فوری تکمیل میں ان کے پیریڈ خالی پڑے رہتے۔ بچے ان کا انتظار کرتے اور ان کا دل بھی غیر تعلیمی کاموں کو چھوڑ کلاس میں جانے کیلئے بے قرار رہتا مگر وہ دل مسوس کر رہ جاتے۔
کل جب عقیل سر کلاس میں داخل ہوئے تو ان کا موڈ کچھ خراب تھا۔ ابھی انہوں نے اُردو کے سبق کی تمہید باندھی ہی تھی کہ بابو بھائی چپراسی کلاس میں در آئے ’’سر آپ نے پورٹل پر اپنی کلاس کا کام پورا نہیں کیا ہے۔‘‘ بابو بھائی نے کہا۔
’’کیا بات کرتے ہو بابو بھائی! مَیں تو کام کب کا ختم کرچکا ہوں۔‘‘ عقیل سر نے جھنجھلاہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
’’اگر کام آپ نے پورا کر لیا ہے تو کمپیوٹر اسکرین پر پینڈنگ کیوں بتا رہا ہے؟‘‘
’’اب بابو بھائی مجھے غصہ نہ دلائیے اور ہاں اب یہاں سے چلتے بنئے۔ مجھے سبق پڑھانا ہے۔‘‘ ’’سر آپ مجھ پر خوامخواہ ناراض ہورہے ہیں۔ ارے بھئی جو بڑے سر نے کہا وہی پورا پورا مَیں نے آپ تک پہنچا دیا۔‘‘
’’کیا کہا بڑے سر نے؟ .....کیا کہا؟ وہ صرف کہتے رہتے ہیں۔ کام تو ہمیں کرنا پڑتا ہے۔ پڑھانا بھی ہے، آن لائن کام بھی کرنے ہیں، کھچڑی پکانا بھی ہے، کھلانا بھی ہے اور اس کا حساب کتاب بھی رکھنا ہے۔ میرا بس چلے تو سب سے پہلے کھچڑی کو ہی بند کر دوں۔ اس کھچڑی نے مجھے کلرک یعنی منیم بنا کر رکھ دیا ہے۔‘‘ عقیل سر کی آواز بلند ہوگئی تھی۔ کلاس کے سبھی بچے لفظ ’منیم‘ سن کر ہنس پڑے تھے۔ جس پر عقیل سر زور سے چلا اُٹھے ’’خبردار....! جو کسی نے اپنے دانت دکھائے۔ کیا ہو رہا ہے۔ تماشا ہو رہا ہے یہاں؟ بےوقوف کہیں کے۔‘‘
’’سر آپ آفس میں بڑے سر سے مل لیجئے مجھے اور بھی کام ہیں۔‘‘ بابو بھائی اتنا کہہ کر پلٹے ہی تھے کہ عقیل سر پھر اونچی آواز میں بول پڑے ’’ہاں.... ہاں! آپ کو بہت کام ہیں اور ہم کام چور ہیں۔ یہی کہنا چاہتے ہیں نا آپ؟‘‘
بابو بھائی نے ایک ایک لفظ سن لیا تھا مگر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ جانتے تھے کہ ایسا کرنے سے عقیل سر مزید مشتعل ہو جائینگے۔
’’مے آئی کم اِن سر!‘‘ ایسے میں میلے میلے یونیفارم پہنے صداقت نے دبے ہوئے لہجے کے ساتھ کلاس روم میں داخلہ کی اجازت مانگی۔
’’آؤ صداقت.... آؤ۔ مجھے تمہارا ہی انتظار تھا۔ تمہارے خوب چرچے ہو رہے ہیں۔ نام صداقت اور کام خیانت.... چلو میرے ساتھ آفس۔‘‘ عقیل سر نے میز پر کتاب کو اوندھا رکھا، مانیٹر کو کلاس کنٹرول کی ہدایت دی اور تیز تیز قدموں سے صداقت کو ساتھ لئے صدر مدرس کے دفتر کی جانب چل پڑے۔ بابو بھائی نے صدر مدرس صاحب کو عقیل سر کے موڈ سے آگاہ کر دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ بھی منہ میں شکر ڈالے بیٹھے تھے۔
’’کیا مَیں اندر آسکتا ہوں، سر؟‘‘ عقیل سر نے دروازے سے اندر جھانکتے ہوئے کہا۔
’’ارے اس میں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے سر! بلا جھجک آجائیے۔‘‘ صدر مدرس کا رویہ دیکھ کر عقیل سر کچھ سرد پڑ گئے۔ انہوں نے صداقت کو صدر مدرس کی کرسی کی جانب دھکیلتے ہوئے کہا ’’یہ دیکھئے سر! کیا چل رہا ہے اسکول میں؟‘‘
’’ارے بھئی ہوا کیا ہے؟ پہلے آپ بچے کا گریبان چھوڑیئے اور پھر اطمینان سے بتائیے۔‘‘ صدر مدرس صاحب نے کہا۔
’’سر ہمیں کئی دنوں سے اس کمبخت کی شکایت مل رہی تھی۔‘‘
’’کیسی شکایت؟ ذرا تفصیل سے بتائیے اور ہاں اپنا لہجہ بھی درست کیجئے۔‘‘
’’سر.... یہ چور ہے چور۔ اس سے نرمی نہیں برتی جاسکتی۔‘‘ ’’عقیل سر کسی بچے کی توہین اس طرح نہیں کی جاسکتی۔ صاف صاف بتائیے کیا قصور ہے اس کا؟‘‘
عقیل سر نے تفصیل سے پوری بات ان کے گوش گزار کر دی۔ زبیر سر جو دفتر میں پہلے ہی سے موجود تھے کے ہمراہ صدر مدرس بھی یہ سن کر سکتہ میں آگئے۔ ادھر معصوم بچے کی نگاہیں دفتر کے فرش پر ٹکی تھیں۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے موتی ٹپک رہے تھے اور چہرہ سرخ ہو اٹھا تھا۔
’’بیٹے کیا نام ہے تمہارا؟‘‘
’’صداقت سر!‘‘
’’صداقت کے معنی ہوتے ہیں سچائی۔ اب تم سب سچ بتا دو کیا واقعی چوری کرتے ہو؟‘‘
’’ہاں سر، مَیں روز ایسا کرتا ہوں۔‘‘
’’مگر یہ تو بہت بری بات ہے۔‘‘
’’سر میں جانتا ہوں مگر میرے پاس دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘‘
’’دیکھئے سر چور تو چور، اوپر سے سینہ زور۔‘‘ عقیل سر نے بلند آواز میں کہا۔
’’شٹ اَپ! بالکل خاموش رہئے آپ!‘‘ صدر مدرس صاحب کا لہجہ سخت ہوگیا تھا۔
اب صداقت کی ہچکی بندھ گئی تھی۔ اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہنا شروع کیا ’’سر میری امی کو ٹی بی ہے۔ میرے ابّو اس دنیا میں نہیں ہیں۔ گھر میں دو بہنیں بھی ہیں۔ سب میرا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں۔ جیسے ہی اسکول سے گھر پہنچتا ہوں، وہ بستے سے پلاسٹک کی تھیلی نکال لیتے ہیں اور....‘‘
صداقت پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
’’کیا ہوتا ہے اس تھیلی میں صداقت؟‘‘
’’کھ.... کھ.... کھچڑی سر!‘‘ اتنا کہہ کر صداقت زار و قطار رونے لگا۔ دفتر میں موجود سبھی کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ بچے کا جواب سن عقیل سر کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ ان کی آنکھیں بھی چھلک پڑیں۔ انہوں نے صداقت کو اپنے سینہ سے چمٹا لیا۔ کافی دیر تک دفتر میں اشکوں کی بارش ہوتی رہی۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے۔
’’سر! مَیں دوسرے بچوں کی بچی کچی کھچڑی جمع کرکے گھر لے جاتا ہوں۔ پھر بھی چوری تو چوری ہے، برائی ہے، آپ ہی نے بتایا ہے سر! بس مجھے کچھ دن اور ایسا کرنے کی اجازت دیجئے اور ہاں بڑے سر کسی بھی دن اسکول کو چھٹی نہ دیجئے گا۔ ہم سب کو بھوکا رہنا پڑتا ہے۔‘‘ صداقت نے بڑی معصومیت سے کہا۔
ایک مرتبہ پھر سب بہت جذباتی ہوگئے۔ عقیل سر نے صداقت کا ماتھا چوم لیا ’’پیارے صداقت! کم از کم مجھے اشارہ تو دے دیا ہوتا تو تمہارا دل توڑنے سے میں بچ جاتا۔ تم نے مجھ پر اتنا بھی بھروسہ نہیں کیا بیٹے۔‘‘ اس کے آگے عقیل سر کچھ نہ کہہ پائے۔
’’سر آپ نے سمجھایا تھا نا کہ کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہئے۔ مَیں بھی سر چاہتا تھا کہ اپنا بوجھ خود اٹھاؤں۔ لیکن طریقہ شاید غلط تھا۔‘‘
’’یہ بوجھ نہیں سعادت کی بات ہے بیٹے! اب آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔‘‘ صدر مدرس صاحب نے رومال سے آنکھیں خشک کرتے ہوئے کہا۔ پھر پورے اسٹاف نے صداقت اور اس کے تمام اہل خانہ کی سرپرستی قبول کرلی۔
صدر مدرس صاحب نے غریب بچوں اور ان کے اہل خانہ کے لئے مخصوص فنڈ کے قیام کا مصمم ارادہ کرلیا۔ اس طرح اسکول میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK