خوب کھلائی کھیر

Updated: May 16, 2020, 4:46 AM IST | Dr. Saadiya Parvin Aleeg | Mumbai

تاجر سیٹھ کے گھر آنے پر وہ بڑبڑانے لگا پتہ نہیں اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں ، کھیر نہیں جیسے کوئی بہت بڑی قیمتی چیز ہو، میرے مالک کی حیثیت کو للکار رہے تھے، نہیں جانتے کہ ایسی کھیریں تو مالک نے نہ جانے کتنوں کو کھلادیں ، کھیر کیا کھاآئے جیسے کوئی بہت بڑا تیرمارلیا، جو مالک کا مذاق بنارہے تھے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ایک بستی میں ایک دولتمند تاجر رہتا تھا۔ اس نے اپنی تجارت سے خوب دولت کمائی لیکن وہ جتنا دولت مند تھا، اس سے کہیں زیادہ کنجوس اور دوسروں پر تو دور خود اپنے اوپر ہی مشکل سے خرچ کرتا تھا۔ اپنے دوستوں کوکبھی پانی تک کو نہیں پوچھتا تھا۔ شاکر تاجر سیٹھ کا بے حد پیارا اور منہ لگانوکر تھا۔ سیٹھ کی کنجوسی کی عادت کو وہ اچھی طرح جانتا تھا اس کو اپنے مالک کی اس عادت کا بڑا فسوس بھی تھا لیکن وہ جانتا تھا اس کا مالک کنجوس ہونے کے باوجود دل کا صاف اور نیک ہے۔ ایک دن تاجر کے کچھ دوست اس سے ملنے آئے۔ اتفاق سے تاجر گھرپر نہیں تھا۔ شاکر نے اپنے مالک کے دوستوں کو عزت سے بٹھایا اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ اس پر تاجر کا ایک دوست بول پڑا ’’ارے بھائی شاکر! تم تو پانی وغیرہ کو پوچھ لیتے ہو، پر تمہارا مالک.... بھائی کمال کاآدمی ہے وہ۔‘‘ تاجر سیٹھ کا دوسرا دوست بولا ’’تم ہم سب کو اپنے مالک کی طرف سے اچھی سی دعوت کرادو۔‘‘ ’’مالک اور دعوت؟ یہ تو بڑی ٹیڑھی کھیر ہے۔‘‘ وہ کچھ سوچتا ہوا بولا، ’’اچھا بتائیے آپ لوگ کیا کھانا چاہتے ہیں ؟‘‘ ’’بھئی تم نے ٹیڑھی کھیر کی والی بات کہی ہے نا تو پھر ایسا کرو کھیر کی دعوت کرادو تب تمہاری چالاکی کو جانیں ۔‘‘ ان میں سے ایک نے ہنستے ہوئے کہا۔
 ٹھیک ہے آپ لوگ تیسرے د ن جمعرات کو آئیے۔ آپ لوگوں کو بڑھیا کھیر کھانے کو ملے گی۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔ شاکرکے اس طرح کہنے پر سب حیرت میں پڑگئے تھے۔ سیٹھ سے اور کھیر کی دعوت؟ بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ تیسرے دن آنے کی بات کہہ کر سب وہاں سے چلے گئے۔ شاکر سوچ میں ڈوب گیا، اچانک اس کے چہرے پر مسکان آگئی۔
 تاجر سیٹھ کے گھر آنے پر وہ بڑبڑانے لگا ’’پتہ نہیں اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں ، کھیر نہیں جیسے کوئی بہت بڑی قیمتی چیز ہو، میرے مالک کی حیثیت کو للکار رہے تھے، نہیں جانتے کہ ایسی کھیریں تو مالک نے نہ جانے کتنوں کو کھلادیں ، کھیر کیا کھاآئے جیسے کوئی بہت بڑا تیرمارلیا، جو مالک کا مذاق بنارہے تھے۔‘‘ ’’بھئی کیا ہوگیا ہے۔ یہ کھیر کا کیا معاملہ ہے شاکر! جو غصے میں بڑبڑا رہے ہو؟‘‘ تاجر سیٹھ نے اس سے پوچھا۔
 تیرنشانے پر لگتا دیکھ کر شاکربولا ’’ابھی کچھ دیر پہلے آپ کے کچھ دوست یہاں آئے تھے۔ کہیں سے کھیر کھاکر آئے تھے۔ بڑی اونچی اونچی ہانک رہے تھے اور تو اور آپ کی عزت اور حیثیت کا مذاق اڑانے لگے کہ کیا کھائے گا تمہارا مالک ایسی کھیر، آخر کار مَیں نے کہہ ہی دیا کہ ہمارے مالک نے جو کھیر کھائی ہے وہ تو آپ لوگوں نے دیکھی بھی نہ ہوگی اور آپ جیسوں کو نہ جانے کتنی کھلادیں ۔ اس بات پر آپ کا ایک دوست مذاق اڑاتا ہوا بولا کہ تمہارے سیٹھ کسی کو کھیر کھلائیں گے ایسا تو خواب میں ہی ہوپائے گا۔ پس مالک مجھ سے نہیں سہی گئی آپ کی یہ عزتی۔ میں نے کہہ دیا ایسی بات ہے تو آپ لوگ جمعرات کو آئیے پھر دیکھئے کہ کیسی کھیر کھلاتے ہیں میرے مالک آپ لوگوں کو، زندگی بھر آپ لوگ یاد رکھیں گے، انگلیاں چاٹتے رہ جائیں گے آپ سب۔‘‘ ’’کیا تم نے جمعرات کو کھیر کی دعوت دے دی ہے؟ پاگل تو نہیں ہوگئے ہو تم! اتنا خرچ میں کیسے کرسکتا ہوں نہیں بھائی یہ نہیں ہوسکتا۔‘‘ ’’ارے کمال کرتے ہیں مالک! آپ کی عزت بڑی ہے کہ کھیر؟ بھلا یہ کیسے ہوسکتاہے کہ کوئی آئے اورآپ کو اس طرح بے عزت کرکے چلا جائے۔ یہ تومیرے لئے ڈوب مرنے والی بات ہوگی مالک۔ آپ کا نمک کھایا ہے میں نے۔‘‘ شاکر نے زور دیتے ہوئے کہا۔
 ’’ہاں ہاں وہ سب تو ٹھیک ہے پر یہ تو سوچو کھیر بنانے میں کتنا خرچ ہوگا‘‘ سیٹھ نے گھبراتے ہوئے کہا۔ ’’اب مالک آپ ہی فیصلہ کرلیجئے کہ کیاکرنا ہے؟‘‘ ’’کھیر بڑی ہے کہ آپ کا مان اور عزت؟ جو زیادہ قیمتی لگے اسے بچا لیجئے۔‘‘ شاکر نے سرجھکاکر کہا۔
 عجیب پریشانی میں گھرگیا تھا سیٹھ، کھیر وہ بھی کھانا چاہتا تھا اور اس پر عزت و شان کی بات پر خرچ کی بات سوچ کر وہ گھبراگیا۔ آخر کچھ سوچ کر بولا ’’ٹھیک ہے بناؤ کھیر لیکن سب چیزیں کم سے کم خرچ ہوں ۔‘‘ شاکر مسکراتے ہوئے من ہی من میں بولا ’’واہ مالک راضی ہوئے بھی تو کنجوسی نہ چھوٹی۔‘‘ پرگروام کے مطابق تاجر سیٹھ کے سبھی دوست اس کے گھر پہنچ گئے۔ سیٹھ نے سبھی کو عزت اور پیار سے بٹھایا۔ بات چیت کا سلسلہ چل پڑا حالانکہ وہ سیٹھ سے بات چیت کررہے تھے لیکن ان کا ذہن شاکر کی طرف تھا کہ وہ وعدے کے مطابق کھیر لاتا ہے یا نہیں ۔کھیر کی امید انہیں بہت کم تھی۔ تبھی شاکر ایک بڑی سی تھالی میں کھیر سے بھرے ہوئے کٹورے لئے حاضر ہوا۔
 اس کو کھیر کے ساتھ دیکھ کر وہ سب حیرت میں پڑگئے۔ انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہورہا تھا۔ شاکر کے چہرے پر فتح کی مسکان تیررہی تھی۔ وہ سب اچانک بول پڑے ’’بھئی! شاکر تم نے تو کمال کردیا۔‘‘ تاجر سیٹھ حیران ہوکر کبھی شاکر کو تو کبھی اپنے دوستوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے دوست کھیر کھانے میں لگے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK