سنگین وجہ

Updated: January 04, 2020, 2:44 PM IST | Ishtiyaque Ahmed

عثمان اور کاشف کو الگ الگ آتے دیکھ کر سبھی حیرت میں ڈوب گئے۔ انہیں پہلی مرتبہ اس حالت میں دیکھا گیا تھا، ورنہ وہ تو ہمیشہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اسکول میں داخل ہوتے تھے.... اسی طرح اسکول سے رخصت ہوتے تھے، کلاس میں بھی ایک دوسرے سے چپک کر بیٹھتے تھے، اسی لئے تو لڑکوں نے ان کا نام ’جڑواں‘ رکھ دیا تھا.... لیکن آج یہ جڑواں الگ کیوں ہوگئے تھے.... یہ سوال ایک بار سب کے ذہنوں میں گونجا۔

سنگین وجہ
علامتی تصویر۔

عثمان اور کاشف کو الگ الگ آتے دیکھ کر سبھی حیرت میں ڈوب گئے۔
 انہیں پہلی مرتبہ اس حالت میں دیکھا گیا تھا، ورنہ وہ تو ہمیشہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اسکول میں داخل ہوتے تھے.... اسی طرح اسکول سے رخصت ہوتے تھے، کلاس میں بھی ایک دوسرے سے چپک کر بیٹھتے تھے، اسی لئے تو لڑکوں نے ان کا نام ’جڑواں‘ رکھ دیا تھا.... لیکن آج یہ جڑواں الگ کیوں ہوگئے تھے.... یہ سوال ایک بار سب کے ذہنوں میں گونجا۔
 اسکول میں پہلے عثمان داخل ہوا تھا.... لڑکوں نے فوراً اسے گھیر لیا۔
 ’’خیر تو ہے بھئی.... کاشف کہاں رہ گیا، وہ آج بیمار تو نہیں ہے.... یا پھر اسے کوئی کام تو نہیں پڑ گیا.... لیکن.... تم دونوں تو ساتھ میں بیمار ہوتے ہو، کام پڑتا بھی ہے تو دونوں اسکول نہیں آتے.... پھر آج کیوں ایسا ہوا ہے۔‘‘
 بہت سے سوال عثمان سے یک دم کر ڈالے گئے.... لیکن اس نے کسی ایک سوال کا جواب نہ دیا اور لڑکوں کے درمیان سے نکلتا کلاس روم میں اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا.... اس وقت ان سب نے کاشف کو آتے دیکھا.... اس کا چہرہ دھواں ہو رہا تھا.... آنکھوں میں ویرانی تھی.... اب گھیرے جانے کی باری اس کی تھی۔
 ’’کیا ہوا بھئی.... خیر تو ہے.... تم دونوں اور الگ الگ!‘‘
 ’’ہاں!‘‘ کاشف نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا۔
 ’’لیکن کیوں.... ہوا کیا ہے، کیا تم دونوں میں لڑائی ہوگئی ہے....؟‘‘
 ’’ہاں.... لڑائی ہوگئی....‘‘ اس نے اس انداز میں کہا۔
 ’’کیا کہا.... لڑائی ہوگئی.... یہ کیسے ہوسکتا ہے!‘‘ لڑکے چلّا اُٹھے۔
 ’’پپ.... پتہ نہیں.... یہ کیسے ہوسکتا ہے.... لیکن ہوگیا ہے۔‘‘ کاشف بولا۔
 ’’آخر کیسے.... کچھ پتہ بھی تو چلے....‘‘
 ’’میں کچھ بھی نہیں جانتا....‘‘
 ’’حیرت ہے.... تم کچھ بھی نہیں جانتے.... پھر لڑائی کس طرح ہوگئی....‘‘ ایک لڑکا بولا۔
 ’’مَیں صبح سویرے گھر سے نکل کر عثمان کے گھر گیا تو یہ وہاں نہیں تھا.... اس کی امی جان نے بتایا کہ ابھی ابھی اسکول گیا ہے مَیں سمجھتی تھی.... تمہاری طرف ہی گیا ہوگا... حیرت ہے... وہ آج اکیلا کیوں چلا گیا.... ان کے الفاظ سنتے ہی میں دوڑ پڑا.... جلد ہی مَیں نے عثمان کو جالیا۔ اس کا راستہ روک لیا اور بولا، یہ کیا بھئی.... تم آج اکیلے ہی چل دیئے.... ایسا تو پہلے کبھی نہیں کیا تم نے.... لیکن عثمان نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا... اور کنی کترا کر آگے نکل گیا، مَیں پھر دوڑا اور اس کے راستے میں آگیا.... مَیں نے پوچھا، کچھ تو پتہ چلے۔ ہوا کیا ہے، کیا کیا ہے مَیں نے، کیا غلطی ہوگئی مجھ سے، لیکن عثمان نے صرف اتنا کہا... مَیں تم سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتا.... اتنا کہتے ہی وہ پھر آگے نکل گیا اور مَیں بھونچکا سا کھڑا رہ گیا، مجھے یوں لگا جیسے زمین و آسمان گھوم رہے ہوں.... میرے پیروں تلے سے زمین نکلتی جا رہی ہے.... عثمان کا جملہ بار بار میرے کانوں میں گونج رہا تھا، مارے حیرت کے میرا برا حال تھا.... اب تم ہی بتاؤں.... میں تمہیں کیا بتاؤں...‘‘
 ’’واقعی، یہ تو بہت اچنبھے کی بات ہوگئی۔‘‘ ایک لڑکا بولا۔
 ’’کوئی ایسی ویسی....‘‘ کئی آوازیں ابھریں۔
 ’’اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہمیں عثمان سے ہی پوچھنا پڑے گا؟‘‘ ایک لڑکا بولا۔
 ’’ہاں.... آؤ...‘‘
 اب سب عثمان کے گرد جمع ہوگئے، لیکن اس وقت ٹیچر کلاس میں داخل ہوئے... سب اپنی اپنی سیٹ کی طرف دوڑ پڑے...
 ’’خیر تو ہے بھئی.... تم سب ایک جگہ کیوں جمع تھے؟‘‘ ٹیچر حیران ہو کر بولے۔
 جج.... جی وہ.... ہم دراصل عثمان کے گرد جمع تھے....‘‘
 ’’کیوں! کیا ہوا عثمان کو.... ارے.... آج کاشف عثمان کے ساتھ نظر نہیں آرہا، ہائیں... یہ کیا... کاشف... تم ارشد کے ساتھ کیوں بیٹھے ہو؟‘‘ ٹیچر حیرت زدہ ہوگیا۔
 ’’یہی تو معاملہ ہے سر.... اس لئے تو ہم عثمان کے گرد جمع تھے۔‘‘
 ’’بات کیا ہے بھئی، کچھ مجھے بھی تو بتاؤ؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
 آخر عثمان کھڑا ہوگیا... اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے... پھر اس کے لب ہلے۔ 
 ’’تین روز پہلے میں کاشف کے گھر گیا تو یہ اپنے گھر والوں سے اپنے پڑوسی شیخ مجید صاحب کی برائی بیان کر رہا تھا... یہ کہ وہ بہت گھٹیا درجے کا آدمی ہے... وغیرہ... میں نے اس کی باتیں سنیں، اسے الگ کمرے میں لے گیا اور بتایا کہ تم شیخ مجید کی غیبت کر رہے تھے، حضورﷺ نے غیبت کرنا مسلمان بھائی کا گوشت کھانے کے برابر قرار دیا ہے.... لہٰذا کاشف... تم آئندہ ایسا نہ کرنا... کاشف نے وعدہ کیا کہ آئندہ کسی کی غیبت نہیں کرے گا.... لیکن کل پھر مَیں نے اسے غیبت کرتے سنا... مَیں نے اسے رسولﷺ کی حدیث سنائی تھی اور یہ پھر غیبت کر رہا تھا... یہ مجھ سے برداشت نہ ہوسکا اور مَیں نے اس سے ساری زندگی بات نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا... کیا میرا فیصلہ غلط تھا سر۔‘‘ یہاں تک کہہ کر عثمان خاموش ہوگیا... پوری کلاس پر سکتہ طاری ہوگیا... لڑائی کی ایسی وجہ شاید اسکول میں پہلی بار سنی گئی تھی... آخر ٹیچر بولے ’’تمہارا فیصلہ بالکل درست ہے عثمان.... مَیں تمہیں مبارکباد دیتا ہوں۔‘‘
 ’’اور مَیں شرم سے گڑا جا رہا ہوں... عثمان، مجھے معاف کردو! مَیں توبہ کرتا ہوں۔‘‘ کاشف نے درد بھری آواز میں کہا۔
 ’’کاشف توبہ کر رہا ہے عثمان... اور توبہ اللہ تعالیٰ بھی قبول فرمالیتے ہیں.... لہٰذا تم بھی...‘‘ ٹیچر نے کہا۔
 ’’ہاں سر... کیوں نہیں!‘‘ عثمان نے کہا۔
 پھر وہ اٹھا اور کاشف کی طرف بڑھا، کاشف بھی جلدی سے اٹھا... دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ گئے.... کلاس میں سب کے چہروں پر مسکراہٹیں تیر گئیں... ٹیچر بھی مسکرا رہے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK